320 ملین کلومیٹر دور سیارچے سے نمونے لانے والا جہاز مشکل میں

ڈی ڈبلیو اردو  |  Oct 24, 2020

امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اُس خلائی جہاز کو زمین پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے جسے خلا میں سورج کے گرد گھومتے چٹان نما سیارچے کے نمونے جمع کرنے تھے۔ یہ مشن اپنے بنیادی مقصد میں تو کامیاب ہو گیا لیکن اس نے سیارچے کے نمونے اپنی وزن اٹھانے کی صلاحیت سے زیادہ جمع کر لیے ہیں۔ اب اس خلائی جہاز کو واپسی کا سفر شروع کرنے سے قبل مشکل کا سامنا ہے۔

اوسیرس ریکس کی مشکل

سورج کے گرد گھومنے والی عظیم الجثہ چٹان نما سیارچے کا نام بینو ہے۔ اس چٹان کے نمونے لینے کے لیے جس خلائی جہاز کو روانہ کیا گیا، اس نام اوسیرس ریکس ہے۔ اس جہاز نے تین سو بیس ملین کلومیٹر کا طویل سفر کامیابی سے طے کر کے منگل بیس اکتوبر کو بینو تک رسائی حاصل کی تھی۔ اس کا سفر سن 2016میں شروع ہوا تھا۔ منزل پر پہنچ کر خلائی جہاز نے سیارچے بینو کی سطح سے اتنے نمونے جمع کر لیے کہ اب اس کا ایک دروازہ بند نہیں ہو رہا۔

زمین سے 290 ملین کلو میٹر دور سیارچہ، نمونے آج لیے جائیں گے

جاپانی خلائی تحقیق مشن، جہاز نظام شمسی کے سیارچے پر اتر گیا

بینو سے اوسیرس ریکس نے نمونے کے ٹکڑے اپنے خودکار روبوٹک بازو سے جمع کیے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال کو وہ اس خلائی جہاز کو واپس زمین پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

کامیابی کا امکان

ایریزونا یونیورسٹی کے سائنسدان پروفیسر ڈانٹے لوریٹا نے بینو سے نمونے اکھٹے کرنے کے مشن کو ایک بہتر کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدقسمتی سے یہ مشن اپنی کامیابی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ پروفیسر لوریٹا اوسیرس ریکس مشن کے نگران بھی ہیں۔

ناسا سے منسلک سائنسدان تھامس زُربوشین کا کہنا ہے کہ اس مشن میں وقت بہت ہی اہم ہے اور بظاہر یہ کام مشکل ہے لیکن یہ اچھی بات ہے کہ بہت سارے چٹانی ٹکڑے جمع ہو چکے ہیں۔ طے شدہ مشن کے مطابق اگر یہ خلائی جہاز صرف ساٹھ گرام تک نمونے بھی ساتھ لے آتا ہے تو یہ تجزیے کے لیے کافی ہوں گے۔ ان ٹکڑوں کی مکمل ہیئت اسی وقت معلوم ہو گی جب اوسیرس ریکس ستمبر سن 2023میں واپس زمین پر پہنچے گا۔ 

اوسیرس ریکس کی مہم

تقریباً آٹھ سو ملین ڈالر سے تیار کیا گیا مِنی وین کی جسامت کا حامل خلائی جہاز اوسیرس ریکس امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی تخلیق ہے۔ یہ پہلا امریکی خلائی جہاز تھا جسے بینو سیارچے کے نمونے لینے روانہ کیا گیا۔ خلا میں سیارچوں کا وجود ساڑھے چار بلین برس قبل نظام شمسی کی تشکیل کے وقت سامنے آیا تھا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بینو سے حاصل ہونے والے نمونوں پر تحقیق سے زمین پر زندگی کی ابتدا کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:35 ناسا کے مشن مارس کو تلاش ہے مریخ پر زندگی کی

بھیجیے Facebook Twitter google+ Whatsapp Tumblr Digg stumble reddit Newsvine

پیرما لنک https://p.dw.com/p/3gi8N

ناسا کے مشن مارس کو تلاش ہے مریخ پر زندگی کی

ع ح / ا ب ا (روئٹرز، اے پی)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More