’میراڈونا کو کس چیز نے مارا‘: دستاویزی فلم نشر

اردو نیوز  |  Jan 21, 2021

لاطینی امریکہ کے ملک ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے دنیائے فٹ بال کے لیجنڈ ڈیگو میراڈونا کی زندگی پر ایک ڈاکومینٹری فلم بنائی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ کس طرح مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک کھیل کا پانسہ پلٹنے والے کھلاڑی بنے۔

عرب نیوز کے مطابق میرا ڈونا کا بچپن بیونس آئرز کے مضافات میں ایک چھوٹے سے قصبے ولا فیوریتو میں گزرا۔ ان کے انکل نے انہیں بچپن میں ایک فٹ بال کا تحفہ دیا جس کے بعد ان کے اندر فٹ بال کھیلنے کا شوق پیدا ہوا جو ان کی زندگی کا حصہ بن گیا۔

’میراڈونا کو کس چیز نے مارا‘ کے عنوان سے بنائی گئی یہ ڈاکومینٹری ’ڈسکوری پلس‘ پر چلائی جا رہی ہے، جس میں عظیم کھلاڑی کی زندگی کا 45 منٹوں میں احاطہ کیا گیا ہے۔ اس ڈاکومینٹری میں ان تمام لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو ان کے قریب رہے۔

اگرچہ اس ڈاکومینٹری میں میراڈونا کے فٹ بال کیریئر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے لیکن اس کا مرکزی خیال زیادہ تر ان کی ذاتی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔

اس میں میراڈونا کا بچپن دکھایا گیا ہے جب وہ گلیوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ فٹ بال کھیلتے تھے۔ اس میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ان کا بچپن غربت میں گزرا جس کی وجہ سے ان صحت مندانہ پرورش نہ ہو سکی اور ان کو جسمانی طور پر مضبوط بننے میں کئی برس لگے.

میراڈونا کے قریب رہنے والے لوگوں کے انٹرویوز سے پتا چلتا ہے کہ وہ ایسی مضر صحت اشیا کا استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہوئی۔ اس فلم میں 30 منٹ ان کی اس عادت پر صرف کیے گئے ہیں۔

دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ اس دوران کس طرح ان کے مخالف میدان میں ان کو زخمی کرتے رہے اور انہیں بہت گہری چوٹیں بھی آئیں اور وہ درد ختم کرنے والی ادویات استعمال کرتے رہے۔

پروفیسر سنجے شرما نے کہا کہ ’مجھے شک ہے کہ منظم طریقے سے ان کی رگوں میں کورٹیسون اتاری گئی (فوٹو: اے ایف پی)حتٰی کہ ان کی دیکھ بھال کرنے والے میڈیکل عملے نے بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا۔ سپورٹس کارڈیالوجی کے پروفیسر سنجے شرما نے کہا کہ ’مجھے شک ہے کہ منظم طریقے سے ان کی رگوں میں کورٹیسون اتاری گئی۔ کورٹیسون نہ صرف جوڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے جسم پر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر دل کی صحت پر برے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔‘

میراڈونا کا گذشتہ برس 25 نومبر کو دل کا دورہ پڑنے سے 60 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ ان کی موت بہت جلد ہو گئی اور انہیں زندگی میں اپنی کامیابیوں سے پوری طرح لطف اندوز ہونے کا موقع نہ ملا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More