کیک کے ایک ٹکڑے کی ڈھائی ہزار ڈالر میں نیلامی

ڈی ڈبلیو اردو  |  Aug 12, 2021

شاہی خاندان میں دلچسپی رکھنے والے ایک شخص نے 11 اگست بدھ کے روز دو ہزار 565 ڈالر کی رقم ادا کر کے اس تاریخی کیک کے ایک ٹکڑے کو حاصل کر لیا۔ یہ کیک برطانوی شہزادے چارلس اور شہزادی ڈیانا کی شادی کا ہے جو سن 1981 میں لندن میں ہوئی تھی۔

چار دہائی پرانے کیک کے اس ٹکڑے پر شاہی فوجی لباس اور ہتھیاروں کی تصویر بنی ہوئی ہے۔یہ اندازے سے بھی تین گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوا۔ شاہی یادگاری اشیاء کی نیلامی اور فروخت کی مہارت رکھنے والے ڈومینک ونٹر نے بتایا کہ دنیا بھر سے بولی لگانے والوں نے بادام کے حلوے سے تیار اس کیک کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔

کیک کھانے کے لیے نہیں ہے

نیلامی کے دوران برطانیہ کے مقامی شہری گیری لیوٹن اسے حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ گیری اپنے آپ کو شہنشایت پسند اور شاہی خاندان کا حامی بتا تے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیک بھی اس حوالے سے ان کی یادگار اشیا ء کے مجموعے کا حصہ بنے گا۔

انہوں نے کہا، ''میں نے سوچا کہ میں اسے اپنی اس جائیداد کا حصہ بنانا چاہوں گا، جو میری موت کے بعد بطور خیرات عطا کی جائے گی۔ مجھے اب ایسے طریقہ کار پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ میں اپنے آپ کو اسے کھانے کی کوشش سے روک سکوں۔''

کیک کے اتنے پرانے ٹکڑے کی حالت قابل ذکر حد تک اچھی ہے تاہم اس کے باوجود اس کے کھانے پر احتیاط  برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

 ڈومنک ونٹر نیلامی گھر سے تعلق رکھنے والے کرس البری کا کہنا تھا کہ کیک، ''بظاہر بالکل اسی حالت میں ہے جیسا کہ اصل صورت میں اسے فروخت کیا گیا تھا، لیکن ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اسے کھانے سے گریز کیا جائے۔''

 شیریں سودا

شہزادی ڈیانا کی شادی کے اس کیک کے ٹکڑے کو اصل میں ایک خاتون موریا اسمتھ کو دیا گیا تھا جو ملکہ برطانیہ کی والدہ کے گھر میں کام کیا کرتی تھیں۔ لیکن جب ان کا انتقال ہو گیا تو خاندان نے اس کیک کو تقریبا ً1400 ڈالر کی قیمت میں فروخت کر دیا تھا۔ جس شخص نے اس کیک کو خریدا تھا اسی نے اسے دوبارہ نیلام کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کی شادی کا کیک باربار نیلام کیا جاتا ہے جبکہ دونوں کی سن 1996 میں ہی طلاق ہو گئی تھی۔ گزشتہ برس دسمبر میں بھی اسی کیک کا ایک اور ٹکڑا 2240 ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔

ص ز/ ج ا (اے پی، اے ایف پی)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More