عالمی شہرت یافتہ جنوبی افریقی ادیب ولبر اسمتھ انتقال کر گئے

ڈی ڈبلیو اردو  |  Nov 15, 2021

اٹھاسی سالہ ولبر اسمتھ کا انتقال کیپ ٹاؤن میں ان کے گھر پر ہوا

ولبر اسمتھ (Wilbur Smith) کی اچانک موت کی ان کے پبلشر نے بھی تصدیق کر دی۔ ولبر اسمتھ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ کے مطابق ان کا انتقال ہفتہ تیرہ نومبر کی سہ پہر ہوا۔ اس ٹویٹ میں لکھا گیا، ''ہم بڑے افسوس کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر بہت زیادہ پڑھے اور پسند کیے جانے والے بیسٹ سیلر مصنف ولبر اسمتھ کیپ ٹاؤن میں اپنے گھر پر اچانک انتقال کر گئے۔ ان کی موت کے وقت ان کی اہلیہ نیسو ان کے پاس تھیں۔‘‘

جرمن کتابی صنعت کا امن انعام زمبابوے کی مصنفہ دانگاریبموآ کو دے دیا گیا

ان کے انتقال کے بعد اسی طرح کے اعلانات ولبر اسمتھ بکس نامی ادارے کی ویب سائٹ اور کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی کیے گئے۔ ولبر اسمتھ کی رحلت کی ولبر اینڈ نیسو اسمتھ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔

جنوبی افریقہ کے یہ انتہائی مشہور مصنف آج کل کے افریقی ملک زیمبیا میں پیدا ہوئے تھے۔ زیمبیا نے آزادی جنوبی افریقہ سے حاصل کی تھی۔ ان کا اولین ناول When the Lion Feeds تھا، جو 1964ء میں شائع ہوا تھا۔

ادب کا نوبل انعام تنزانیہ کے ادیب عبدالرزاق گورنا کے نام

معروف ہسپانوی ناول نگار خوآن مارسے انتقال کر گئے

اس کے بعد انہوں نے اپنے کئی عشروں پر محیط کیریئر میں مزید 48 ناول لکھے۔ ان کی تصانیف کی مجموعی طور پر 140 ملین سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں اور ان کے دنیا کی 30 سے زائد زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔

ولبر اسمتھ بکس نامی پبلشنگ ہاؤس نے اپنی ویب سائٹ پر ایک اعلان میں کہا، ''ہم ولبر اسمتھ کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کروڑوں مداحوں کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے ان کے ناولوں کو بے حد پسند کیا اور جو مصنف کے طور پر ولبر اسمتھ کے تخلیقی سفر میں قارئین کے طور پر ان کے ہم سفر رہے۔‘‘

ادب کے دو نوبل انعامات: آسٹریائی اور پولستانی ادیبوں کے نام

ولبر اسمتھ کے دو انتہائی مشہور ناولوں Gold Mine اور Shout at the Devil کو فلمایا بھی جا چکا ہے۔ ان کے لٹریری ایجنٹ کیون کونرائے اسکاٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا، ''ولبر اسمتھ ایک ایسے ادیب تھے، جن کا افریقہ کے بارے میں علم اور تخلیقی تخیل دونوں ہی لامحدود تھے۔‘‘

م م / ع ح (اے پی، ڈی پی اے)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More