پاکستان میں مذہبی آزادی پر مکمل اطمینان ہے، طاہر اشرفی

بول نیوز  |  Nov 28, 2021

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی پر مکمل اطمینان ہے۔

طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اقلیت و اکثریت کے مسائل کا سامنا تو ہوتا ہے لیکن پاکستان میں اتنے نہیں جتنے دنیا میں ہیں، ایک سال میں ایک سو ستائیس شکایات مختلف مذاہب کے لوگوں کی جانب سے آئیں جنہیں حل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام جبر کی بنیاد پر مسلمان بنانے کا قائل نہیں اگر کوئی ایسا کرتا تو اسلام کا نمائندہ نہیں ہے، اسلام اپنے پیغام حقانیت کو پھیلاتا ہے جسے اطمینان قلب سے خوش آمدید کہتا ہے، اسلام ایسے لوگوں سے جو جبر کی بنیاد پر کلمہ پڑھانا چاہتے ہیں اس کی مذمت کرتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ نابالغ اور جبری شادیاں ناقابلِ قبول ہیں، فیصلہ کیا ہے ایک وفد ملک کے تمام مختلف مذاہب کے قائدین کے پاس جا کر مسائل کا حل تلاش کریں گے، مذہبی مافیا جو مسلک کے نام پر گمراہ کرتا ہے جو اصل قائدین پنڈت ، گرو سب ان کے پاس جائیں گے، 4 دسمبر کو لاہور میں مسیحی برادری کے مقتدر قائدین سے کریں گے تاکہ لوکل سطح پر مسائل کو حل کیا جا سکے۔

طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ رمشا مسیح کیس پر کہا تھا بیٹی کسی ہندو عیسائی سکھ یا کسی اقلیت کی ہو بیٹی ملک و قوم کی بیٹی ہے جسے تحفظ سب کی ذمہ داری ہے، 16 رکنی کمیٹی میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں سربراہی خود کر کے مسیحی برادری کے پاس جا کر حقیقی مسائل سن کر حل کریں گے، ذاتی مسئلے کے مسائل کو مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ علما بورڈ نے 1 سو 13 کیسز کا فیصلہ کیا ہے، امریکی مذہبی آزادی کی رپورٹ پر کہوں گا بھارت میں 2 سو چرچ مساجد پادری بشپس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، این جی اوز اسلام آباد میں غیر ملکی سفارت کاروں میں جا کر تو بات کرتی ہیں جب ہم مذہبی ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ساتھ بات نہیں کرتے، این جی اوز کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ پروپیگنڈے کے بجائے حقیقی مسائل کا حل نکالیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ ناموسِ رسالت ﷺ توہینِ مذہب کو باہمی بات چیت سے حل کرنا ہوگا، عمران خان نے انٹرویو میں کہا اسلام جبر کا قائل نہیں ہے، جب اسلام کسی کو جبر پر مسلم کی اجازت نہیں دیتا اگر کوئی ایسا کرتا تو اسلامی نظریات و تعلیمات کے منافی کام کر رہا ہے، کسی بھی مذہب کے متعلق پروپیگنڈہ نہیں ہونا چاہئے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More