ری سائیکلنگ کے ساتھ پلاسٹک کے پیداواری نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے: ماہرین

بول نیوز  |  Dec 04, 2021

ماہرین کا کہنا ہے کہ ری سائیکلنگ کے عمل میں عالمی سطح پر قابو سے باہر ہوتے پلاسٹک کے کچرے کے بحران سے نمٹنے کی اہلیت نہیں ہوگی۔

جمعے کو ماہرین نے کمپنیوں نسے پلاسٹک کی پیداوار میں کمی کرنے اور زیادہ سے زیادہ اشیاء کو دوبارہ استعمال کی جانے والی پیکجنگ میں بدل نے کی درخواست کی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ سنگل-یوز پلاسٹک سے دوری اور ایک نظام کی جانب جانا جس میں اِسے دوبارہ استعمال کیا جا سکے اس مشکل کو آسان بنانے کے لیے حل تو ہو سکتے ہیں لیکن پیداواری نظام بنیادی تبدیلیوں کی بھی ضرورت ہے۔

سرکیولیٹ کیپیٹل کے سی ای او راب کیپلان کا کہنا تھا کہ ہم اس قابل نہیں ہوں گے کہ اس کو ری سائیکل کر کے اس سے نکل سکیں۔

انہوں نے کہا یہ نظام کا مسئلہ ہے اس کے اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم حل کے اشتراک کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیات کے پروگرام کے مطابق دنیا میں ہر سال 30 کروڑ ٹن پلاسٹک کا کچرا پیدا ہوتا ہے۔

لیکن اب تک بنائے گئے پلاسٹک کا 10 فیصد سے کم حصہ ری سائیکل ہوا ہے کیوں کہ اس کو جمع کرنا اور چھانٹنا بہت مہنگا ہے۔ باقی مقدار کو یا تو زمین میں دبا دیا جاتا ہے یا جلا دیا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 2040 تک پلاسٹک کے پیداوار دُگنی ہو جائے گی۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More