پاکستان کےمعاشی اعشاریئےاور زرِمبادلہ کےذخائرمستحکم ہیں،وزیرِاعظم

سماء نیوز  |  Dec 07, 2021

 وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی اعشاریے اور زرِمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں، حکومت نے کورونا وبا سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا، اب ملک کی معیشت پائیدار ترقی کی طرف گامزن ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان کی زیرصدارت میکرواکنامک مشاورتی گروپ کا منگل کے روز اجلاس ہوا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے نہ صرف گزشتہ حکومت کے وراثت میں چھوڑے ہوئےمعاشی بحرانوں بلکہ کرونا وباء سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا اوراب معیشت پائیدارترقی کی طرف گامزن ہے۔بڑے پیمانے کی صنعت کی پیداوار،ویلیوایڈیشن،ریونیواوربرآمدات میں اضافہ واضح کرتا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیاں صحیح سمت میں جارہی ہیں اور رواں مالی سال کے اختتام پر معاشی ترقی گذشتہ مالی سال سے بھی ذیادہ ہونے کی امید ہے۔

انھوں نے کہا کہ کرونا وباء کے دوران جب پوری دنیا کےممالک معاشی مشکلات کا شکار تھے، حکومت کی بہترین حکمتِ عملی کی بدولت معاشی ترقی کی شرح 3.9 فیصد رہی۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی بدولت گردشی قرضوں میں کمی ہوئی ہے۔ ریونیو میں 35 فیصد اضافہ ہوا، جس میں صرف ٹیکس کی مد میں لی گئی رقم میں ہی 32 فیصد اضافہ ہوا، برآمدات میں اضافہ، بڑے پیمانے کی صنعت کی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن میں اضافہ خوش آئند ہے۔صنعتی خام مال کی درآمد میں اضافہ نہ صرف صنعتی ترقی بلکہ برآمدات اور مقامی کھپت کے نتیجے میں ریونیو میں اضافے کو یقینی بنائے گا۔

وزیرِ اعظم نے معاشی مشاورتی گروپ کے اراکین کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اور معاشی ریلیف کو عوام تک جلد پہنچانے کے اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کیں۔اجلاس میں مشیر خزانہ شوکت فیاض ترین، وزیر توانائی حماد اظہر، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر، ڈاکٹر راشد امجد، ڈاکٹر سید سلمان شاہ، ثاقب شیرانی،ڈاکٹر اشفاق حسن خان، سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ، چیئرمین ایف بی آر محمد اشفاق احمد، وزارت خزانہ کے اقتصادی مشیر ڈاکٹر امتیاز احمد اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔ جبکہ ڈاکٹر عشرت حسین، سید سلیم رضا، ڈاکٹر اعجاز نبی، ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اور ڈاکٹر ندیم الحق نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More