اومیکرون کے بعد مزید خطرناک ویریئنٹس متوقع

بول نیوز  |  Jan 15, 2022

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون کے طوفان نے عملاً اس بات کی یقین دہانی کرا دی ہے کہ یہ کورونا وائرس کا آخر ویریئنٹ نہیں ہوگا جس کے متعلق دنیا کو فکر کرنی چاہیئے۔

ہر انفیکشن وائرس کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ بدل سکے اور اومیکرون کو اپنے سابقہ ویریئنٹس کے اوپر یہ سبقت حاصل ہے کہ یہ دنیا میں ویکسین کے زریعے قوتِ مدافعت کو مضبوط کرنے اور گزشہ بیماری ہونے سے گزرنے کے باوجود بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ زیادہ لوگوں میں یہ وائرس مزید تبدیل ہوسکتا ہے۔

ماہرین یہ تو نہیں جانتے کہ اگلے ویریئنٹس کیسے ہوں گے یا وہ عالمی وباء کی صورت اختیار کر سکیں گے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اومیکرون کی آئندہ اقساط ہلکی بیماری کا سبب ہوں گی یا موجودہ ویکسین ان کے خلاف کام کریں گی۔

بوسٹن یونیورسٹی کے لیونارڈو مارٹینیز کا کہنا تھا کہ جتنا تیز اومیکرون پھیلتا ہے اتنا ہی اس کے تبدیل ہونے کے موقع ہوتے ہیں جو ممکنہ طور پر مزید ویریئنٹس کا سبب ہوتے ہیں۔

اومیکرون کے نومبر کے وسط میں منظر پر آنے کے بعد اس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں ایسے لیا ہے جیسے آگ سُوکھی گھاس کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق اومیکرون ویریئنٹ ڈیلٹا ویریئنٹ کی نسبت دُگنی رفتار سے جبکہ حقیقی کورونا وائرس سے کم از کم چار گُنا زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More