اومیکرون ویریئنٹ کی علامات کے حوالے سے محققین کا انکشاف

بول نیوز  |  May 15, 2022

ایک نئی تحقیق کے مطابق اومیکرون اور کووڈ-19 کے گزشتہ دیگر ویریئنٹس کی مریضوں میں تشخیص کے لیے سونگھنے یا ذائقے کی حس کے ختم ہو جانے کی علامت سامنے آنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

رواں ماہ ایک جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ وہ لوگ جو اومیکرون سے متاثر ہوتے ہیں ان میں سونگھنے یا ذائقے کی حس کے چلے جانے کے امکانات ان لوگوں کی نسبت کم ہوتے ہیں جو ڈیلٹا اور دیگر ابتدائی ویریئنٹ سے متاثر ہوئے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اومیکرون ویریئنٹ میں سونگھنے اور ذائقے کی حس چلے جانے کی علامات کے امکانات صرف 17 فی صد تھے، جبکہ 2020 میں وباء کے ابتدائی دور میں ان علامات کے سامنے آنے کی شرح بہت زیادہ تھی۔

امریکا کی ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی سمیت تمام محققین کا کہنا تھا کہ ان علامات کی شرح ڈیلٹا اور ایلفا ویرنیئنٹ میں بہت زیادہ  یعنی بالترتیب 44 فی صد اور 50 فی صد تھی۔

ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے رہنماء مصنف ڈینیئل کولہو نے ایک بیا میں کہا کہ ہم اب جانتے ہیں کہ ہر ویریئنٹ کے خطرے کے مختلف عوامل تھے جن کا تعلق سونگھنے اور ذائقے کی حس کے کھو جانے سے تھا اور اس بات کو ماننے کی وجہ بھی ہے کہ نئے ویریئنٹس کے ان حسوں کو اثر انداز کرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں3 hours agoکچے انڈے کھانے سے کیا ہوتا ہے؟ انڈوں سے متعلق اپنی یہ 6 غلط فہمیاں دور کرلیں

کچے انڈے کھانے سے کیا ہوتا ہے؟ انڈوں سے متعلق اپنی یہ...

7 hours agoپودینے کا استعمال آپ کو کن بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے؟

ٹھنڈا ٹھنڈا پودینہ نہ صرف ہمارے کھانوں کا ذائقہ بڑھاتا ہے بلکہ...

7 hours agoناریل کے پانی کو کس وقت پینا چاہیے؟ جانیں

ناریل کے پانی کو کس وقت پینا چاہیے؟ ناریل پانی پینے کے...

8 hours agoشوگر کے مریض کو شدید گرمی میں کونسے پھل اور سبزیاں دی جائیں؟

کیا آپ کے گھرمیں بھی شوگر کے مریض موجود ہیں تواس شدید...

8 hours agoتھائی رائیڈ یا گُردوں کی خرابی، چمچ منہ میں رکھ کر صحت کا حال جاننے

کچھ لوگ صحت کے معاملے میں لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور...

23 hours agoمنکی پاکس کے مزید دو کیسز کی تشخیص

برطانیہ میں منکی پاکس کے دو مزید کیسز سامنے آ گئے۔ صحت...

تازہ ترین نیوز پڑہنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کریں بول نیوزایپ

General Rectangle – 300×250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More