نایاب ڈائنوسار کی باقیات دریافت

ڈی ڈبلیو اردو  |  Jun 11, 2022

مگرمچھ سے ملتے جلتے ڈھانچے جیسے لیکن حجم میں انتہائی بڑے سپائنوسارز ڈائنوسارز میں دلچسپی لینے والوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ یہ دیکھنے میں انتہائی اچھوتے ہوتے ہیں اور جراسک پارک فلم میں دکھائے جانے والے خطرناک ٹرائنوسارز سے بھی کئی گنا بڑے اور طاقت ور ہوتے ہیں۔

ڈائنوسارز کے بعد، اب کئی حیاتیاتی انواع کے ناپید ہونے کا خطرہ

ارجنٹائن میں سخت کھوپڑی والے ڈائنوسار کا ڈھانچا برآمد

تاہم مقبولیت کے باوجود سائنسدانوں کو ان سے متعلق انتہائی کم معلومات حاصل رہی ہیں اور اس کی وجہ ان کے ڈھانچوں کا نہ ملنا ہے۔

سائنسدان سپائنوسارز کے ڈھانچوں کے ملنے کو 'تقریباﹰ ناممکن‘ قرار دیتے رہے ہیں۔ آج تک سپائنوسارز کے صرف سات ڈھانچے دریافت کیے گئے تھے، جس میں سے سب سے زیادہ بہتر حالت میں ملنے والا ڈھانچہ مراکش کے مشرقی حصے سے ملا تھا۔

اسی تناظر میں سائنسدانوں کو امید ہے کہ نئے ملنے والے ڈھانچوں سے اس عظیم الجسہ ڈائنوسار سے متعلق معلومات میں اضافہ ہو گا۔ یہ نئے ڈھانچے انگلینڈ کے علاقے آئزل آف وائٹ کے جنوب مغربی ساحلی علاقے سے ملے ہیں۔

سپائنوسار، شاید سب سے بڑے شکاری ڈائنوسارز

سائنسی جریدے پیئر جے لائف اینڈ انوائرمنٹ میں شائع ہونے والی مطالعاتی رپورٹ کے مطابق ملنے والے یہ نئے ڈھانچے 125 ملین برس پرانے ہیں۔

برطانوی یونیورسٹی آف ساؤتھ ایمپٹن سے وابستہ اور اس مطالعاتی ٹیم کے قائد کرِس بیکر کے مطابق، ''یہ بہت بڑا جانور تھا۔ دس میٹر سے بھی زیادہ قامت کا۔ ہم نے اس کی جہتیں ناپیں ہیں اور ممکن ہے کہ یورپ میں دریافت ہونے والے یہ آج تک کا سب سے بڑا شکاری جانور ہو۔‘‘

سپائنوسارز آئے کہاں سے؟

محققین کے مطابق خیال یہی ہے کہ سپائنوسارز کا اصل میں تعلق مغربی یورپ سے تھا، یہیں سے یہ کہی اسپیشیز میں تقسیم ہوئے اور ہجرت کرتے چلے گئے۔

اسی گروپ سے تعلق رکھنے والے جانور جنوبی انگلینڈ کے علاوہ برازیل، نائجر، تھائی لینڈ اور لاؤس میں بھی ملے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More