سدھو موسے والا کی تصویر پی ٹی آئی امیدوار زین قریشی کے پوسٹرز پر کیسے پہنچی؟

بی بی سی اردو  |  Jun 30, 2022

انڈیا سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے مقبول گلوکار اور سیاستدان سدھو موسے والا کو قتل ہوئے لگ بھگ ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کے قتل کے بعد سے پاکستان میں ان کے مداحوں کی طرف سے اُن کی تصاویر مختلف انداز میں سامنے آتی رہی ہیں تاہم حال ہی میں ان کی تصویر پاکستان کے صوبہ پنجاب کی مقامی سیاست کے منظر نامے پر اُبھری ہے۔

پنجاب میں رواں ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے ملتان کے حلقے پی پی 217 سے امیدوار زین قریشی کا ایک پوسٹر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیرِ بحث ہے۔ اس پوسٹر میں سدھو موسے والا کی تصویر زین قریشی کے ساتھی چھپی ہوئی ہے۔

پوسٹر پر اُن کو سپورٹ کرنے والے اُن کی جماعت کے چند عہدیداران کے نام اور تصویریں بھی ہیں اور سدھو موسے والا کے ایک مقبول گانے 295 کا حوالہ سدھو کی تصویر کے ساتھ دیا گیا ہے۔

زین قریشی سابق وزیرِ خارجہ اور پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے ہیں اور گذشتہ عام انتخابات میں ملتان سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی پہنچے تھے۔ تاہم حال ہی میں حکومت کھونے کے بعد اُن کی جماعت نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

سدھو موسے والا اور اُن کے گانے خاص طور پر نوجوانوں میں بہت مقبول تھے۔ سوشل میڈیا ہی پر ان کے کئی گانے لاکھوں کی تعداد میں دیکھے چکے ہیں۔ ان کے مداحوں کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان کے پنجاب میں بھی سامنے آئی ہے۔

تو کیا اُن کی موت کے بعد بھی اُن کی یہی مقبولیت پی ٹی آئی کے امیدوار زین قریشی کے پوسٹر پر اُن کی آمد کی وجہ بنی؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زین قریشی کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا بالکل علم نہیں ہے۔ زین اِن دنوں ملتان میں سیاسی مہم میں مصروف ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ چند دوستوں کی طرف سے انھیں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے پوسٹر کے عکس بھیجے گئے ہیں۔

تاہم انھیں نہیں معلوم کہ سدھو موسے والا کی تصویر ان کے پوسٹر پر کیسے آئی اور کس نے چھپوائی۔

’لیکن جس نے بھی یہ تصویر چھپوائی ہے میں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کیونکہ اس کی وجہ سے وہ پوسٹر جتنا وائرل ہوا ہے ہمارا کوئی پوسٹر اتنا وائرل نہیں ہوا۔‘

زین قریشی کا کہنا تھا کہ وہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سدھو موسے والا کی تصویر والے پوسٹرز کس نے چھپوائے اور کہاں پر لگائے گئے اور چھپوانے والے کا اس کے پیچھے کیا مقصد تھا۔ لیکن ان کے خیال میں ایسا ان کی جماعت کے کسی دوست نے ان کی سپورٹ میں کیا ہو گا۔

پی پی 217 سے پی ٹی آئی کے امیدوار زین قریشی کا کہنا تھا کہ سدھو موسے والا کی موت سے قبل وہ ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے۔ ان کی موت کے بعد انھیں علم ہوا تھا کہ ایک مقبول گلوکار ہونے کے بعد سدھو نے سیاست میں بھی باقاعدہ حصہ لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں تو موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘

وہ ’چھوٹا سا سراغ‘ جس نے پولیس کو سدھو موسے والا کیس میں مبینہ شوٹرز تک پہنچایا

سدھو موسے والا: مقدمات، تنازعات سے بھرپور زندگی جس نے گاؤں کے نوجوان کو سپرسٹار بنا دیا

سدھو موسے والا کے قتل کے ملزمان لارنس بشنوئی اور گولڈی برار کون ہیں؟

’سدھو نوجوانوں میں خاص طور پر بہت مقبول تھے اور بہت سے لوگ ان کے گانوں کو پسند کرتے تھے اور شاید اس مقبولیت کے بعد سیاست میں آنا ہی ان کی موت کی وجہ بنی ہو۔‘

سوشل میڈیا پر چند صارفین نے ان کے سدھو موسے والا کی تصویر والے پوسٹر کے عکس لگائے تو اس پر مختلف زاویوں سے بحث ہوئی۔

رمپوپٹارٹس نامی صارف نے اس عکس کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’سنہ 2018 کے انتخابات میں زین قریشی نے اپنے بینرز پر (سابق ڈی جی آئی ایس آئی) فیض حمید اور (آرمی چیف قمر جاوید) باجوہ کی تصاویر چھپوائی تھیں اور اس مرتبہ سدھو موسے والا کی۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے بڑی نقطہ نظر کی تبدیلی ہو گی۔‘

یاد رہے کہ سدھو موسے والا کے زیادہ تر گانوں اور خاص طور پر ’295‘ کا موضوع انڈیا کی اسٹیبلشمنٹ کے مخالف رہا ہے۔

تاہم ایک اور صارف جواد خواجہ نے اس موازنے پر ان کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’اگر میں سہی سمجھ رہا ہوں تو آپ کے خیال میں وہ (زین قریشی) اپنے حلقے میں تمام پوسٹر خود ڈیزائن کرتے یا ان کی اجازت دیتے ہیں؟‘

ایک صارف مرتضٰی نقوی نے لکھا کہ ’میں اسی بنیاد پر انھیں (زین قریشی) کو ووٹ دوں گا۔‘ جبکہ ایک صارف زریاب نے سوال اٹھایا کہ ’سدھو جنوبی پنجاب میں؟‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زین قریشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس قسم کے کسی پوسٹر کے چھاپنے کے حوالے سے کسی کو کوئی ہدایات نہیں دیں اور نہ ہی ان کے علم میں تھا کہ ایسا کوئی پوسٹر چھپا ہے۔

’لیکن مجھے یہ پوسٹر اور اس پر سدھو موسے والا کی تصویر دیکھ کر بالکل بھی بُرا نہیں لگا۔ انتخابی مہم کے دنوں میں بیڈ پریس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ جس بھی ذریعے سے آپ کی تشہیر ہو آپ کو فائدہ ہوتا ہے۔‘

زین قریشی کا کہنا تھا کہ ان کے سیاسی مخالفین نے ان کے اس پوسٹر کو انتخابی مہم میں ان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے خیال میں ان کو اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد زیادہ مثبت پذیرائی ملی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More