۔ شادی کے 2 سال بعد بیوی کو نظر آنا بند ہوا تو شوہر نے شریک حیات ساتھ کیا سلوک کیا؟

روزنامہ اوصاف  |  Aug 16, 2022

مجھے میری محبت پر یقین تھا کہ وہ مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑ کےجائیں گے۔ جی ہاں یہ الفاظ ہیں ایک ایسی عورت کے جس کی آنکھوں کی روشنی شادی کے 2 سال بعد ہی چلی گئی اور صرف شوہر کا سہارا رہ گیا تھا بس۔پسند کی شادی کرنے والی سیما نامی یہ عورت کہتی ہیں کہ شادی کے 2 سال بعد میں امید سے تھی تو اچانک سے ایک دن آنکھوں سے دکھنا بند ہو گیا۔جس کا ہم نے بہت علاج کروایا پر میں ٹھیک نہ ہوئی۔ ایسے میں شوہر کو ان کے گھر والوں نے کہا کہ ابھی بھی وقت نہیں گزرا تم اسے چھوڑ دو ہم تمہاری دوسری شادی کروا دیتے ہیں۔لیکن انہوں نے صاف منع کر دیا اور کہہ ڈلا کہ میری بیوی یہی ہے اور یہی رہے گی۔جس کے بعد گھر والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر اسکے ساتھ رہنا ہے تو گھر اور خاندانی کاروبار چھوڑ دو۔بس پھر کیا تھا ایک دن شوہر راجیو نے پارک میں مجھ سے کہا کہ میں سب کچھ چھوڑ دوں گا پر تمہیں نہیں۔ اس کے بعد ہم دہلی آ گئے پر ہمارے پاس پیسے نہیں تھے تو میں نے اپنا سارا زیور بیچ دیا۔جس کے بعد راجیو کو ایکسپورٹ ہاؤس میں نوکری مل گئی اور اب زندگی کی گاڑی صحیح راستے پر نکل پڑی۔ یہی نہیں کچھ ہی وقت ہوا تھا کہ ہم چنئی پہنچے میرے علاج کیلئے۔مگر 31 سال سے زائد شادی شدہ اس زندگی میں راجیو نے ہمت نہیں، میرا ساتھ دیا۔ وہ مجھے باتھ روم لے جاتے، چلنے پھرنے میں مدد کرتے حتیٰ کہ کھانا پکاتے وقت شروع میں تو میں اپنی انگلی کاٹ لیتی تھی۔پر وہ میرے ساتھ کھڑے ہو جاتے اور مجھے بتاتے رہتے کہ ایسے ایسے کھانا بناؤ۔ مزید یہ کہ وقت گزرتا گیا اور ہمارا بیٹا پارس بڑا ہو گیا اور گریجویشن بھی کر لی اس نے اور تو اور اب ہم نے بیٹے کی شادی بھی اچھے سے کی، یوں اب ہم سب ساتھ رہتے ہیں۔مگر مجھے آج بھی وہ دن یاد آتے ہیں جب میرے شوہر نے میرا داخلہ ایک نابینا افراد کے اسکول میں کروا دیا جہاں مجھے مختلف طریقوں سے اکیلے ہی پورا گھر سنبھالنے کی تربیت دی گئی اور گھر آ کر بھی میں ریڈیو سنتی تاکہ خود گھر والوں کی خدمت کر سکوں۔اس کے علاوہ آخر میں آپکو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اب تو اس فیملی نے اپنا لذیز کھانا بنانے کا یوٹیوب چینل بنا لیا ہے اور زندگی بہت اچھی گزر رہی ہے مگر سیما کہتی ہیں کہ راجیو جیسا شوہر پا کر میں نے سب کچھ پا لیا، میرا شوہر اور گھر میرا سب کچھ ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More