کابل کی مسجد میں نماز کے دوران دھماکا، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ

اردو نیوز  |  Aug 18, 2022

کابل کی ایک مسجد میں بدھ کی شام نماز کےدوران ایک زوردار بم دھماکہ ہوا ہے۔

یہ دھماکا طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے کے دو دن بعد ہوا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس اورعینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ’ متعدد افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا خدشہ ہے‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن تعداد نہیں بتائی گئی‘۔

طالبان کے ایک انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ ’35 کے قریب افراد ہلاک یا زخمی ہوسکتے ہیں جبکہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے‘۔

الجزیرہ نے نامعلوم افغان اہلکار کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 20 بتائی ہے۔ 

امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ’کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے جس میں ایک معروف مذہبی رہنما شامل ہیں‘۔

فوری طور پرکسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ’امارات اسلامی افغانستان کابل کی مسجد میں بم دھماکے کی مذمت کرتی ہے‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’اس طرح کے جرائم میں ملوث اورعام افراد کے قتل کے مجرمان کو جلد پکڑ کر سزا دی جائے گی‘۔

یاد رہے کہ اس سے قبل افغان طالبان سے قربت رکھنے والی مذہبی شخصیت شیخ رحیم اللہ حقانی کابل میں ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ 

سوشل میڈیا پر افغان امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ وہ کابل میں ایک مدرسے پر خودکش حملے کے نتیجے میں مارے گئے۔ 

افغانستان میں موجود شدت پسند تنظیم داعش کی خراسان شاخ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

طالبان ذرائع نے روئٹرز کو بتایا  تھا کہ حملہ آور کوئی ایسا شخص تھا جس کی ٹانگ نہیں تھی اور وہ دھماکہ خیز مواد اپنی مصنوعی ٹانگ میں چھپا کر لایا تھا۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More