سمیع چوہدری کا کالم: بالآخر پاکستان کا مڈل آرڈر جاگ گیا

بی بی سی اردو  |  Aug 19, 2022

پہلے میچ کے اختتام پر ڈچ کیمپ پاکستانی ڈریسنگ روم سے کہیں زیادہ پُرجوش تھا جبکہ اختتامی تقریب میں بابر اعظم کے چہرے پر خوشی سے زیادہ ایک ایسی تشفی تھی جو بالآخر خوف کا سایہ ٹل جانے پر نظر آیا کرتی ہے۔

اس کارکردگی کی بنا پر یہ ہرگز بعید از قیاس نہیں تھا کہ سکاٹ ایڈورڈز کی ٹیم کوئی اپ سیٹ کر جاتی اور ایک تاریخی کامیابی سمیٹ کر سیریز برابر کر پاتی۔ مگر ایڈورڈز سے تخمینے کی غلطی ہو گئی اور انھوں نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کر لیا۔

چونکہ یہ پچھلے میچ کی ہی استعمال شدہ پچ تھی اور ہوا میں کچھ نمی بھی موجود تھی، سو ٹاس جیتنے کے امکان پر بابر اعظم بھی بولنگ ہی کا ارادہ لے کر آئے تھے۔ اور ایڈورڈز کی دفاعی حکمتِ عملی نے ٹاس ہارنے کے باوجود بابر اعظم کو اپنی منشا کے منصوبے پر عمل درآمد کا موقع دے دیا۔

رینکنگ کی نچلی ٹیموں میں ناتجربہ کاری اور بڑی ٹیموں کے خلاف محدود ایکسپوژر کے سبب یہ رجحان ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کن میچز میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کوشش کر گزرتی ہیں۔ اگر یہاں وکرمجیت سنگھ پچھلے میچ ہی کی طرح دھیرے دھیرے اننگز بُننے کی سعی کرتے تو نسیم شاہ اور حارث رؤف کے ابتدائی سپیل کا خطرہ ٹالا جا سکتا تھا۔

مگر کنڈیشنز سے میسر مدد اور پاکستانی پیس اٹیک کی مہارت نے پہلے ہی پاور پلے میں نیدرلینڈز کو بیک فٹ پہ لاکھڑا کیا اور پچھلے میچ کی سی کوئی بیٹنگ پرفارمنس خارج از امکان ہو رہی۔

اس کے باوجود جس طرح سے ٹام کُوپر اور ڈی لیڈ نے کاؤنٹر اٹیک کیا، وہ لائقِ تحسین تھا کہ کسی بھی بولر کو خاطر میں نہ لائے اور بھرپور جارحیت دکھاتے ہوئے ایک بڑے مجموعے تک رسائی کی کوشش کی۔

اگر محمد نواز بیچ میں حائل نہ ہو جاتے تو شاید یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو بھی جاتا۔

مگر محمد نواز کی صلاحیت قابلِ داد ہے کہ وہ موقع بھانپنے میں خطا نہیں کھاتے۔ انھیں معلوم تھا کہ فاسٹ بولنگ کے سامنے قدرے احتیاط کا مظاہرہ کرنے والے ڈچ بلے باز موقع ملتے ہی ان پر وار کریں گے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ لیکن وہ محمد نواز کو شکار کرنے کی بجائے خود ان کے ہاتھوں شکار ہوتے چلے گئے۔

محمد نواز نے کوپر اور ڈی لیڈ کی اس واحد مدافعانہ شراکت داری کو سمیٹ کر ڈچ اننگز کی کمر ہی توڑ دی جو اگر ڈچ مجموعے کو پونے تین سو کے لگ بھگ پہنچا جاتی تو پاکستان کے خواب چکنا چور بھی ہو سکتے تھے۔

کیونکہ پچھلے میچ میں ہمیں پاکستانی ٹاپ آرڈر اننگز کے اوائل میں ایسا محتاط نظر آیا تھا کہ پاور پلے میں بہت پھونک پھونک کر قدم رکھے گئے اور بیٹنگ کے لئے بہترین پچ پہ بھی پاکستان کوئی قابلِ رشک مجموعہ ترتیب دینے سے قاصر رہا تھا۔

ٹاپ آرڈر کی اس احتیاط میں ایک کلیدی کردار مڈل آرڈر کی پے در پے ناکامیوں کا بھی رہا ہے جو ابھی تک تجربے اور ٹیلنٹ کا صحیح توازن طے نہیں کر پایا۔ مڈل آرڈر ہی پاکستان کی وہ دُکھتی رگ ہے جہاں بے تحاشا تجربات کے باوجود کوئی بات بن نہیں پائی۔

مڈل آرڈر میں سب سے بڑا سوالیہ نشان محمد رضوان کی صورت میں رہا ہے جو ٹی ٹونٹی میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے باوجود ابھی تک ون ڈے کرکٹ میں اپنی شہرت سے انصاف نہیں کر پائے تھے۔

یہاں ایک بار پھر بات محمد رضوان پر آن ٹھہری تھی کہ ویوین کنگما کے ابتدائی حملوں کے بعد انھیں توقع سے کہیں جلد میدان میں اُترنا پڑا اور ایک ایسے وقت میں ڈچ اٹیک کا سامنا کرنا پڑا جب گیند نئی تھی اور ڈسپلن قابلِ دید۔ رضوان کو یہاں اپنی حیثیت ثابت کرنا ہی تھی ورنہ میڈیا تو پہلے ہی موقع کی تاک میں بیٹھا تھا۔

اور جب اس اننگز کو پٹڑی پر چڑھانے کے بعد بابر اعظم کام ختم کرنے سے پہلے ہی پویلین لوٹ گئے تو رضوان کی ذمہ داری اور بڑھ گئی۔ غنیمت یہ کہ ہدف بہت حقیر سا تھا اور رضوان کے پاس وقت کی بھی فراوانی تھی۔ سو، انھوں نے اپنی ون ڈے اننگز بھی ٹیسٹ میچ کی طرح دھیرے دھیرے جوڑی اور یہ یقینی بنایا کہ کسی غیر ضروری ڈرامے سے بچتے بچاتے پاکستان کی کشتی کنارے لگ جائے۔

رضوان کے بعد سب سے زیادہ چہ میگوئیوں کی زد میں آنے والے آغا سلمان تھے جن کا کریئر ابھی شروع ہی نہیں ہوا ہے کہ بعض ناقدین اسے ختم کرنے کے درپے ہوئے بیٹھے ہیں۔ مگر جس جراتِ رندانہ سے انھوں نے اس تعاقب کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، وہ یقیناً ان ناقدین کے لیے تشفی بخش جواب ثابت ہو گی۔

اس سیریز کی جیت سے قیمتی پوائنٹس تو پاکستان کے ہاتھ لگے ہی ہیں مگر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایک مدت سے تنقید کی زد میں رہنے والا پاکستان کا مڈل آرڈر بالآخر جاگ گیا اور ایک ممکنہ اپ سیٹ کا خدشہ ٹال دیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More