’بچھو‘ کے لیے ایک معصوم اور بھولے بھالے چہرے کی تلاش تھی: طوبی انور

بی بی سی اردو  |  Sep 25, 2022

BBC

پاکستانی اداکارہ سیدہ طوبی انور نے گذشتہ دو تین برسوں میں چند ڈراموں میں ہی کام کیا ہے لیکن وہ شوبز انڈسٹری سے قریباً ایک دہائی سے وابستہ ہیں۔

بطور اداکارہ اُنھوں نے ڈرامہ سیریل ’بھڑاس‘، ’بساط‘ اور ’پہچان‘ میں کام کیا ہے لیکن کچھ عرصہ پہلے ’ہم ٹی وی‘ کی ڈرامہ سیریل ’بچھو‘ میں اُن کے کردار آفرین کو کافی پذیرائی ملی ہے۔

’بچھو‘ کے لیے معصوم چہرے کی تلاش

ڈرامہ سیریل ’بچھو‘ کی کہانی دو بہنوں آفرین اور ماہ نور کے گرد گھومتی ہے جس میں بڑی بہن آفرین اپنے حُسن پر نازاں ہیں، تعلیم میں اُن کی کوئی دلچسپی نہیں اور امیر گھرانے میں بیاہے جانے کے خواب دیکھتی ہیں۔

جبکہ اس کے برعکس چھوٹی بہن ماہ نور نہ صرف اعلی تعلیم حاصل کرتی ہیں بلکہ اپنے والدین اور بعد میں سسرال کی خدمت بھی کرتی ہیں۔ ماہ نور کا کردار ایک نئی اداکارہ ماریہ ملک نے نبھایا ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ دونوں بہنوں کی شادی ایک ہی امیر گھرانے میں ہو جاتی ہے جس میں آفرین سازشیں کر کے پورے خاندان کو تباہ کر ڈالتی ہے۔ اداکارہ سیدہ طوبی انور کے مطابق کاسٹنگ ٹیم کو آفرین کے کردار کے لیے ایک بھولے بھالے اور معصوم چہرے کی تلاش تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’آفرین کا کردار دھوکہ دینے میں بہت ماہر تھا۔ اُس نے اپنی ساس کو بھی اپنی باتوں کا قائل کر لیا تھا۔ اُس کی والدہ آخری وقت تک اُس پر یقین کرتی رہیں کیونکہ وہ اتنی قابلِ یقین تھی کہ کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ پیٹھ پیچھے اتنی پلاننگ بھی کر سکتی ہے۔ اس کردار کو مجھے ملنے میں ایک بہت اہم چیز یہ تھی کہ اُسے معصوم چہرہ دِکھایا جائے لیکن درحقیقت وہ ایسی ہو نا۔‘

آفرین کے کردار کی نفسیات، خصوصیات اور خامیوں پر بات کرتے ہوئِے طوبی کا کہنا تھا کہ ’آفرین ایک بہت ہی کمپلیکس کیریکٹر تھی۔ جس کو لگتا تھا کہ اُس کو گھر میں وہ اہمیت نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔‘

’رائٹر (اس ڈرامے کو لکھنے والے) نے آفرین کا کردار بنایا ہی اِس طرح سے تھا کہ اُس کو شروع سے احساسِ کمتری تھا۔ اُسے توجہ اور محبت چاہیے ہوتی تھی۔ وہ جو اپنے لیے چاہتی تھی، اُسے لگتا تھا کہ وہ اُس کی بہن کو مل رہا ہے یا کسی اور کو مل رہا ہے جو اُس سے برداشت نہیں ہوتا تھا یا یہ کہہ لیں کہ یہ اُس کی شخصیت کی کمزوری تھی۔‘

ٹائپ کاسٹ کا خطرہ

پاکستانی ڈراموں کا رجحان عموماً ٹی آر پیز سے طے ہوتا ہے یعنی اگر ایک مختلف انداز کی کہانی اور کردار مداحوں میں مقبول ہو گئے تو اُس جیسے چھ ڈرامے اور منظرِ عام پر آ جاتے ہیں۔ اسی طرح کوئی اداکار کسی کردار میں مقبول ہو گیا تو اُسے اُسی طرز کے پراجیکٹس آفر ہونے لگتے ہیں۔ یہ خطرہ منفی کردار نبھانے والے اداکاروں کے سر پر ہمیشہ سوار رہتا ہے۔

اداکارہ سیدہ طوبی انور انڈسٹری میں قدرے نئی ہیں اور اب تک انھوں نے یا تو سپورٹنگ کردار نبھائِے ہیں یا منفی۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ ڈرامہ سیریل بچھو میں ایک منفی کردار نبھانے کے بعد کیا انھیں لگتا ہے کہ انھیں ٹائپ کاسٹ کیا جانے لگےگا تو طوبی نے سنجیدگی سے کہا۔

’منفی کرداروں کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ وہ ذرا زیادہ نمایاں دِکھائی دیے جانے لگتے ہیں ورنہ میں نے منفی اور مثبت کردار برابر ہی کیے ہیں۔ لیکن میں اِس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ ہمارے ہاں ٹائپ کاسٹ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور لوگ آپ کو ایک مخصوص انداز سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔‘

لیکن کسی منفی کردار کی وجہ سے مداحوں کی طرف سے اداکار کو ہی منفی انداز سے دیکھنے پر ان کا مؤقف تھا کہ یہ اداکار کی کامیابی ہوتی ہے۔

طوبی نے کہا کہ ’وہ (مداح) سمجھتے ہیں کہ شاید وہ (کردار) حقیقی زندگی میں بھی ایسے ہی ہوں گے۔ میں ہمیشہ لوگوں کو کہتی ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’جب بچھو چل رہا تھا لوگ مل کر کہتے تھے کہ آفرین اتنی نیگیٹیو کیوں ہے، وہ اتنی خودغرض کیوں ہے، وہ اتنی مطلبی کیوں ہے۔۔۔ میں ہمیشہ مُسکرا رہی ہوتی ہوں اور کہتی ہوں میں کیا کروں، کردار ہی ایسا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ لوگ مجھے میرے کام کی وجہ سے سراہ رہے ہیں۔‘

مقبول شخصیات کی سماجی ذمہ داری

تقریباً تمام اداکاروں کی طرح سیدہ طوبی انور بھی سوشل میڈیا پر کافی فعال رہتی ہیں اور اپنی تصاویر اور وڈیوز پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔ تاہم اُن کا شمار اُن اداکاروں میں ہوتا ہے جو مختلف سماجی مسائل پر اپنی رائے پیش کرنے سے نہیں کتراتے۔

طوبی نے پاکستان کی حالیہ تاریخ میں پیش آنے والے چند اہم کیسز جیسا کہ نورمقدم کیس، موٹروے ریپ کیس اور میناِرِ پاکستان ہراسانی کیس پر وی لاگز بنائِے۔ جس میں وہ خواتین کی جانب معاشرتی رویوں اور خصوصاً وِکٹم بلیمنگ (متاثرہ شخص کو ہی قصور وار ٹھہرانے کا رویہ) پر کُھل کر بات کرتی رہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین کے مسائل اُن کے دِل کے قریب ہیں۔

’نور مقدم کا کیس ایک ایسے مقام پر آیا جب میں اپنی زندگی میں بہت چیزوں سے گزر رہی تھی۔ میں نور سے خود کو ایک بہت مختلف انداز میں کنیکٹ کرتی ہوں۔ میں زندگی میں شاید کسی کو بتا نہیں سکتی اور بیان نہیں کر سکتی۔ میں نور کو نہیں جانتی تھی، نہ کبھی ملی تھی لیکن میں اُس کے لیے بہت گہرائی سے محسوس کر سکتی تھی۔ میں شاید کبھی وہ احساس الفاظ میں بیان ہی نہ کر پاؤں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’کہتے ہیں کہ عورت پر ہاتھ نہ اٹھاؤ، مگر ہر ڈرامے میں مرد کو جانور بھی نہ دکھاؤ‘

’صبا قمر کے ساتھ کام کر کے پتا لگا کہ اس مقام پر وہ کس وجہ سے ہیں‘

ڈرامہ سنگ ماہ: ’جب عورت گالی میں شامل ہے تو فیصلوں میں کیوں نہیں‘

’لڑکیوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ پیار کی تعریف خوبصورتی، مسلز یا پیسہ نہیں‘

وہ کہتی ہیں کہ خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ طوبی نے کہا کہ ’جب موٹروے کا کیس ہوا تو بہت ساری ڈسکشن صرف اس چیز پر تھی کہ وہ (متاثرہ خاتون) رات کو اُس ٹائم پر کیوں نکلی۔ میں اُن باتوں کو دہرانا بھی نہیں چاہتی جس طرح کی باتیں ہوئیں۔ کپڑوں کے اوپر سوال کرنا یا کوئی بھی وکٹم اُس جگہ پر کیوں موجود تھا۔ آپ یہ نہیں دیکھ رہے کہ ظلم کیا ہو رہا ہے۔ آپ اِس پر توجہ دے رہے ہیں کہ اُس نے کیا کیا ہو گا۔‘

’بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی میں وِکٹم بلیمنگ ہوتی ہے، میں نہیں جانتی کہ یہ آگاہی کی کمی ہے یا تعلیم کی۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک پبلک فِگر ہونے کے ناطے میری ذمہ داری ہے کہ میں لوگوں کو آگاہی دوں۔ مجھ سے اگر ایک بندہ بھی سیکھ لے گا یا سمجھ لے گا تو مجھے لگے گا کہ میرا کام پورا ہو گیا۔‘

’میں نہیں چاہتی کہ میں اپنے ذاتی معاملات کو ایک سرکس بناؤں‘BBC

سیدہ طوبی انور نے سنہ 2018 میں مقبول ٹی وی شخصیت اور سیاست دان عامر لیاقت حُسین سے شادی کر لی تھی۔ یہ طوبی کی پہلی اور عامر لیاقت کی دوسری شادی تھی۔

اِن دونوں کی عمروں کے فرق اور دیگر وجوہات کی بنا پر یہ شادی میڈیا اور سوشل میڈیا پر تبصروں میں رہی۔ البتہ اسی سال کے آغاز میں خبریں آئیں کہ سیدہ طوبی انور نے عامر لیاقت سے خلع لے لی ہے۔ جلد ہی عامر لیاقت کی ایک اور نوجوان لڑکی دانیہ ملک سے شادی، چند ماہ میں علیحدگی اور پھر نو جون کو عامر کی وفات، یہ سب خبریں میڈیا پر چھائی رہیں۔

طوبی نے اِن تمام واقعات پر تبصرے سے گریز کرتے اور سوشل میڈیا پر اپنے حوالے سے ٹرولنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنی زندگی میں شاید بہت سارے لوگوں کو پسند نہیں کرتے لیکن آپ اتنی انرجی رکھیں کہ آپ جائیں اور اُس کو بُرا لکھیں اور آپ اُس کو گالی لکھیں، تو میں سوچتی ہوں کہ کتنی نیگیٹوٹی ہو گی آپ کے اندر۔‘

انھوں نے ٹرولنگ کرنے والوں سے کہا کہ وہ کوشش کریں کہ لوگوں کو اُن باتوں پہ جج نہ کریں جن کا اُنھیں معلوم ہی نہ ہو۔

’پہلے مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی، ہم انسان ہیں تو ہمیں بُرا لگتا ہے۔ وہ لوگ خاص طور پر جن کو آپ کے بارے میں، آپ کی زندگی کے سفر کے بارے میں کچھ نہیں پتا ہوتا، وہ لوگ کہیں سے بھی اٹھ کر آپ کے لیے کچھ لکھ دیں تو تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے آپ کو اس معاملے میں بہت مضبوط کر لیا ہے۔‘

طوبی نے سنیجیدگی سے کہا کہ ’ویسے میں نے ہمیشہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ہر معاملے میں تحمل سے کام لیا ہے۔ اگر زندگی میں کوئی چیز آئی اور کوئی خبر ہوئی بھی تو میں نے کوشش کی ہے کہ میں اُس کو صبر کے ساتھ نکال لوں۔ کیونکہ یہ ایک آگ جس میں آپ کچھ ڈالتے رہیں گے تو وہ بھڑکتی رہے گی۔یہ کبھی بھی ختم نہیں ہو گی۔ اور میں نہیں چاہتی کہ میں اپنے ذاتی معاملات کو ایک سرکس بناؤں۔‘

انڈسٹری میں کیسے قدم رکھا؟

طوبی انور کے سابق شوہر عامر لیاقت حُسین نے اکثر اپنے انٹرویوز میں کہا کہ وہ طوبی کو ڈرامہ انڈسٹری کی طرف لائے۔ جس سے اکثر یہ تاثر ملتا تھا کہ طوبی نے اپنے کریئر کے لیے اُن کے اثر و رسوخ کو استعمال کیا۔

طوبی نے بی بی سی کو عامر لیاقت حُسین کا نام لیے بغیر بتایا کہ جب وہ بمشکل 18 برس کی تھیں تب سے میڈیا سے منسلک ہیں اور شادی سے بہت پہلے سے کام کر رہی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’لوگوں کو شاید اس لیے نہیں پتا کیونکہ میں آف سکرین کام کر رہی تھی۔ لیکن میں نے پروڈکشن میں اپنی زندگی کے چھ سال دیے ہیں۔ میں نے بطور پروڈیوسر مارننگ شوز کیے ہیں۔‘

طوبی کے بقول ’درحقیقت جب میری شادی ہوئی تو ڈیڑھ دو سال میں نے کام نہیں کیا۔ میں چینل ضرور جاتی تھی لیکن مجھے یہ تھا کہ ہوم لائف دیکھنی ہے۔ شادی کے دو سال بعد میں نے باقاعدہ آڈیشن دیا اور اُس وقت یہ سوچ تھی کہ چلو کوئی نئی چیز ٹرائی کرتے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More