ایران احتجاج: نیکا شکارامی کے خاندان کو ان کی ’موت کے بارے میں جھوٹ بولنے پر مجبور کیا گیا‘

بی بی سی اردو  |  Oct 07, 2022

ایران میں جاری مظاہروں میں ہلاک ہونے والی 16 سالہ نیکا شاکارامی کے خاندانی ذرائع نے بی بی سیفارسی کو بتایا ہے کہ انھیں بیٹی کی موت کے بارے میں جھوٹے بیانات دینے پر مجبور کیا گیا ہے۔

16 سالہ نیکا شاکارامی 20 ستمبر کو تہران میں ایک دوست کو یہ بتانے کے بعد لاپتہ ہو گئی تھیں کہ پولیس ان کا پیچھا کر رہی ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے بدھ کی رات کی ایک رپورٹ چلائی جس میں نیکا شکرامی کی آنٹی کو دکھایا گیا جو یہ کہتے ہوئے سنی جا سکتی ہیں کہ نیکا عمارت سے گر کر ہلاک ہوئی ہیں۔

ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ نیکا شکارامی کے خاندان سے زبردستی اعترافی بیان لیے جا رہے ہیں اور انھیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے خاندان کے دوسرے افراد کو بھی ہلاک کر دیا جائے گا۔

نیکا شکارامی کی آنٹی عطاش نے جب نیکا شکارامی کی موت کی خبر آن لائن پوسٹ کی تو نیکا شکارامی کےانکل محسن اور آنٹی عطاش کو حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائعنے بتایا ہے کہ ان کی رہائی سے پہلے ان کی بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

سرکاری ٹی وی دکھایا گیا کہ نیکا شکارامی کے چچا مظاہروں کی مذمت کر رہے ہیں۔ اسی دوران ایک اہلکار یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ 'بدمعاش یہ کہو۔'

https://twitter.com/BBCArdalan/status/1577823907205226497

عطاش نے اتوار کے روز گرفتاری سے پہلے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ پاسداران انقلاب نے انھیں بتایا تھا کہ نیکا پانچ روز تک ان کی تحویل میں تھی جسے بعد میں جیل حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

عدلیہ نے کہا ہے کہ جس رات نیکا شکارامی لاپتہ ہوئیں اس روز وہ ایک عمارت میں داخل ہوئی تھیں جہاں آٹھ کنسٹرکشن ورکر بھی موجود تھے اور اگلی صبح وہ وہاں مردہ پائی گئی تھیں۔

تہران میں عدلیہ کے اہلکار محمد شہریاری نے بدھ کے روز سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ نیکا کی کمر، سر، اوپری اور نچلے اعضا، بازوؤں اور ٹانگوں میں ’متعدد فریکچر تھےجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اونچائی سے گر کر ہلاک ہوئی ہیں۔‘

عدلیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ نیکا شکارامی کی موت کا ملک میں جاری مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تاہم تہران کے ایک قبرستان سے جاری کیے گئے موت کے سرٹیفکیٹ میں جسے بی بی سی فارسی نے حاصل کیا تھا کہا گیا ہے کہ ان کی موت ’کسی سخت چیز سے لگنے والے متعدد زخموں‘ کی وجہ سے ہوئی ہے۔

عطاش کے مطابق نیکا کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے انسٹاگرام اور ٹیلی گرام اکاؤنٹس کو بھی ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا۔ ایرانی سکیورٹی فورسز اپنی حراست میں لوگوں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ انھیں سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی دیں تاکہ اکاؤنٹس یا کچھ پوسٹس کو حذف کیا جا سکے۔

بدھ کی رات سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں وہ فوٹیج بھی دکھائی گئی جس میں عطاش کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ اس کی بھانجی کی لاش عدلیہ کی طرف سے بتائی گئی عمارت کے باہر ملی ہے حالانکہ یہ اس کے اور خاندان کے دیگر افراد کے سابقہ ​​بیانات سے متصادم ہے۔

اہل خانہ نے کہا ہے کہ انھیں نیکا کے لاپتہ ہونے کے دس روز بعد حراستی مرکز کے مردہ خانے میں چند سیکنڈ کے لیے ان کی لاش دکھائی گئی۔ انھوں نے چند سکینڈ کے لیے نیکا کا چہرہ دکھایا تاکہ اس کی شناخت کی جا سکے۔ عطاش نے حراست میں لیے جانے سے پہلے کہا تھا کہ وہ مردہ خانے نہیں گئی تھیں۔

نیکا کے اہل خانہ نے اتوار کو ان کی لاش کو ان کے والد کے آبائی شہر خرم آباد منتقل کیا، جو نیکا کی 17ویں سالگرہ کا دن تھا۔

ان کے قریبی ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اہل خانہ نے حکام کے دباؤ کے تحت عوامی جنازہ منعقد نہ کرنے پر اتفاق کیا۔ تاہم سکیورٹی فورسز نے نیکا کی لاش خرم آباد سے لے جا کر اسے تقریباً 40 کلومیٹر دور ویسیان گاؤں میں خفیہ طور پر دفن کر دی۔

البتہ خرم آباد کے قبرستان میں سینکڑوں مظاہرین جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے، ان نعروں میں ’آمر مردہ باد‘ کا نعرہ بھی شامل تھا۔

نیکا واحد نوجوان خاتون نہیں ہیں جو گذشتہ ماہ مہسا امینی کی موت کے بعد پھوٹنے والی بدامنی کے دوران ماری گئی تھیں۔

ایران میں احتجاج ایک 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع ہوئے ہیں جو 13 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس کی طرف سے حراست میں لیے جانے کے بعد کومہ میں چلی گئی تھیں۔

انھیں مبینہ طور پر خواتین کو حجاب یا سکارف سے اپنے بال ڈھانپنے کا پابند کرنے والے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ تین دن بعد ہسپتال میں دم توڑ گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایران: مظاہروں میں ہلاک ہونے والی نوجوان خواتین جو اب اس مہم کا محور بن گئی ہیں

ایران کی سکول کی طالبات کا غصہ، سرکاری اہلکار کو تقریر نہیں کرنے دی

ملک میں جاری فسادات کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے: ایرانی رہبرِ اعلیٰ

ایران میں احتجاج: تہران میں یونیورسٹی کے طلبا اور پولیس میں جھڑپیں

اسی طرح 22 سالہ ہادیس نجفی کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ انھیں 21 ستمبر کو تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ حکام نے مبینہ طور پر ان کے والد سے کہا کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 23 ​​ستمبر کو کرج میں احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں لاٹھیوں سے سر پر شدید چوٹوں کےبعد ایک اور 16 سالہ لڑکی، سرینہ اسماعیل زادہ کی موت ہو گئی تھی۔

ذرائع نے انسانی حقوق کے گروپ کو یہ بھی بتایا کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنٹوں نے لڑکی کے اہل خانہ کو زبردستی خاموش کروانے کے لیے ہراساں کیا تھا۔

سرینا کی موت سے پہلے کی کئی ویڈیوز اب سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں۔ سکول کے کچھ امتحانات مکمل کرنے کے بعد ریکارڈ کیے گئے ایک بیان میں وہ کہتی ہیں ’آزادی سے بہتر کوئی چیز محسوس نہیں ہوتی.‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More