سیکس کے دوران ’جنسی تسکین کے لیے گلا دبانے‘ جیسے خطرناک عمل کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

بی بی سی اردو  |  May 24, 2024

Getty Images

’ہم تم سے محبت کرتے ہیں، فرشتوں کے ساتھ رقص کرتی رہو۔‘

یہ الفاظ برطانوی شہری جارجیا بروک کی والدہ نے اُس وقت کہے کہ جب وہ ایک عدالت سے باہر نکل رہیں تھی۔ چند روز قبل عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ 26 سالہ جارجیا بروک کو جنسی تعلقات کے دوران ان کے بوائے فرینڈ نے حادثاتی طور پر گلا دبا کر ہلاک کر دیا تھا۔

فرانزک شواہد پر تحقیقات کرنے والی عدالت کے ایک اہلکار نے ’دم گھٹنے کے خطرے‘ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اکثر اس عمل کے دوران ایسا کرنا مہلک یا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔‘

اس میں جنسی لذت حاصل کرنے کے لیے ساتھی یا کسی کا اپنی سانس کو ایک خاص حد تک روکنا (شہوت انگیز آٹوایسفیکسیا) شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عام طور پر اس کے مہلک نتائج نہیں ہوتے لیکن جنسی تعلقات کے دوران یہ عمل خطرناک نتائج چھوڑ سکتا ہے۔

دنیا میں اس رجحان کے تجزیے کے لیے بہت کم سائنسی تحقیق کی گئی ہے، لیکن کچھ جگہ پر اس بات پر روشنی ضرور ڈالی گئی ہے کہ یہ رجحان کیسے مختلف ممالک میں ظاہر ہوتا ہے۔

نوجوانوں میں ایک عام عمل

ہیمبرگ یونیورسٹی اور ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ایلمیناؤ کے محققین نے 2024 میں جرمنی میں رضامندی سے پرتشدد جنسی عمل (جس میں کوڑے مارنا، بال کھینچنا یا گلا دبانے جیسے عمل بھی شامل ہیں) پر ایک مطالعہ شائع کیا تھا۔

انھوں نے دریافت کیا کہ 40 سال سے کم عمر کے تقریبا 40 فیصد بالغوں نے ان میں سے کچھ طریقوں کو اپنے جنسی تعلقات کے دوران نا صرف شامل کیا بلکہ ان پر عمل بھی کیا اور ایک اور اہم بات یہ بھی کہ مرد عام طور پر ان معاملات میں یا ان طریقوں کو آزمانے میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔

آئس لینڈ کی یونیورسٹی آف ریکجاوک کی 2023 کی ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سروے میں 44 فیصد لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے جسمانی تعلق کے دوران اس عمل کا استعمال کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ان لوگوں میں زیادہ تر 18 سے 34 سال کی عمر کے درمیان کے افراد شامل تھے۔

ان نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوانوں میں جنسی تعلق کے دوران یہ شہوت انگیز عمل یعنی گلا دبانا سب سے زیادہ عام ہے۔

یونیورسٹی آف میلبورن اور یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کے محققین کی جانب سے 2024 میں کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ آسٹریلیا میں یونیورسٹی کے تقریبا 50 فیصد طالب علموں نے کبھی نہ کبھی جنسی عمل کے دوران اپنے ساتھی کا گلا دبانے یا سانس روکنے کی مشق کی ہے۔

’آن لائن پورن، نوجوانوں اور نوعمروں میں جنسی تعلقات زیادہ پرتشدد ہو گئے ہیں‘

امریکہ میں جنسی رویے کے معروف محققین میں سے ایک، ڈیبی ہربینک نے اپنے ملک میں نوجوانوں میں اس عمل میں تیزی سے ہونے والے اضافے کی جانب اشارہ کیا ہے۔

انڈیانا یونیورسٹی سکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہر تعلیم اور پانچ کتابوں اور 200 سے زائد تحقیقات کے مصنف نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’یہ بہت تشویش ناک ہے۔‘

ایک ملک گیر مطالعے میں ہربینک اور ان کی ٹیم نے پایا کہ 18 سے 24 سال کی عمر کی 40 فیصد امریکی خواتین جنسی تعلقات کے دوران دم گھٹنے جیسے مسائل کا سامنا کر چُکی ہیں۔

اور خاص طور پر نوجوان یونیورسٹی کے طالب علموں (جو سکول کے پہلے سالوں میں تھے) پر مرکوز ایک مطالعہ میں 42 فیصد نے جنسی تعلق کے دوران دم گھٹنے کی اطلاع دی۔

اس مطالعے کے سب سے زیادہ انکشاف کرنے والے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ یونیورسٹی کی خواتین کے معاملے میں تقریبا 60 فیصد نے دم گھٹنے کا اعتراف کیا۔

ہربینک کا کہنا ہے کہ ’یہ عمل غیر معمولی ہوا کرتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’آن لائن پورن کے سبب نوجوان پرتشدد سیکس کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔‘

Getty Imagesماہرین کا کہنا ہے کہ ’آن لائن پورن کے سبب نوجوان پرتشدد سیکس کی جانب مائل ہو رہے ہیں‘

ہربینک بتاتی ہیں کہ دورانِ شہوت دم گھٹنا پورنوگرافی کا حصہ ہے، لیکن یہ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ جیسے سوشل نیٹ ورکس اور یہاں تک کہ گانوں کے بول میں بھی موجود ہے۔

تاہم انٹرنیٹ پر الگورتھم کے کام کرنے کے طریقے کی وجہ سے اس بات کا بہت امکان ہے کہ بوڑھے بالغ افراد اپنے سوشل نیٹ ورکس پر یہ مواد نہیں دیکھتے ہیں۔

محقق کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ پہلے پورنوگرافی موجود نہیں تھی، لیکن اب اس مواد تک رسائی بہت آسان ہے۔‘

گزشتہ سال ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بچوں کی پورنوگرافی تک رسائی کی اوسط عمر 12 سال ہے۔

کتاب کے مصنف نے مزید کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ کچھ حادثاتی طور پر ایسے مواد کی جانب آتے ہیں، لیکن دوسرے اس کی تلاش میں رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ والدین کو آج کے نوجوانوں اور سیکس کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔

ہربینک اس بات پر ضرور دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’پرتشدد جنسی تعلقات کا 20 سال پہلے عام رواج نہیں تھا۔ پچھلی نسل سمارٹ فونز، یا سوشل میڈیا، یا برہنہ تصاویر شیئر کرنے کے ساتھ بڑی نہیں ہوئی۔‘

لیکن آج کے دور میں سیکس کے دوران گلا دبانے جیسے عمل کو اب بہت سے نوجوان دہراتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب سے عام چیز ہے، اور اگر ہر کوئی ایسا کرتا ہے، تو انھیں بھی ایسا کرنا چاہیے۔

ہربینک کا کہنا ہے کہ ’چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں، وہ سوچتے ہیں کہ سیکس ایسا ہی ہوتا ہے۔‘

صحت پر اثرات

اگرچہ شہوت انگیز دم گھٹنے یا سیکس کے دوران گلا دبانے سے موت واقع ہوتی ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں، لیکن یہ بہت سے سنگین نتائج چھوڑ سکتا ہے۔

جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں وہ دماغ میں آکسیجن کی کمی (ہائپوکسیا) کا سامنا کر سکتے ہیں جو اعصاب کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیےکچھ خواتین سیکس کے اختتامی مرحلے میں ہیجان شہوت حاصل کیوں نہیں کر پاتیں اور اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟’جنسی خواہش میں کمی‘ سمیت وہ مسائل جو نیند میں خراٹے لینے کے باعث آپ کی شادی شدہ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیںوہ عوامل جو مردوں اور خواتین میں جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش کو کم کرتے ہیںGetty Imagesجو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں وہ دماغ میں آکسیجن کی کمی (ہائپوکسیا) کا سامنا کر سکتے ہیں

آکسیجن کے بغیر انسانی جسم جتنا زیادہ وقت گزارے گا، دماغ کی سطح پر اتنا ہی زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔

اگر آکسیجن کی کمی بہت طویل ہو تو جلد پر ایک نیلا رنگ نمودار ہوتا ہے جو عام طور پر ہونٹوں اور انگلیوں پر سب سے زیادہ ظاہر ہوتا ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اصل خطرہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان دورانِ شہوت دم گھٹنے سے ہوش کھو دیتا ہے۔

اس عمل سے گُزرنے کے بعد طویل المدتی یادداشت یا سمجھنے کی صلاحیت سے متعلق علمی مسائل ظاہر ہوسکتے ہیں اور نفسیاتی سطح پر جن لوگوں نے دماغ میں آکسیجن کی کمی کا تجربہ کیا ہے وہ افسردگی کی علامات، اضطراب اور دیگر قسم کے ذہنی امراض ظاہر کرسکتے ہیں۔

دورانِ شہوت دم گھٹنے سے پیدا ہونے والے سب سے عام مسائل عام طور پر سر درد، گردن میں درد کی شکایت کے ہیں۔

Getty Imagesدورانِ شہوت دم گھٹنے سے پیدا ہونے والے سب سے عام مسائل عام طور پر سر درد، گردن میں درد کی شکایت کے ہیں

بینائی، طبعیت میں الجھن، غنودگی، پٹھوں کا اکڑنا یہاں تک کہ دورے پڑنے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔

نیورولوجسٹ خبردار کرتے ہیں کہ یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ دماغ کے خلیات آکسیجن میں خلل پڑنے یعنی دماغ میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے چند ہی منٹوں میں مرنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنسی عمل کے دوران گلا دبانا کوئی معمولی بات نہیں اس کی وجہ سے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔

’انھوں نے جنسی تعلقات کے دوران میرا گلا دبا دیا‘

اینا 23 سال کی تھیں جب انھوں نے تین مختلف مواقع پر اور مختلف مردوں کے ساتھ رضامندی سے جنسی تعلقات کے دوران تشدد کا سامنا کیا جن سے انھیں شدید نوعیت کی تکلیف پہنچی جس کا انھوں نے اظہار بھی کیا۔

جیسا کہ انھوں نے 2019 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایک موقع پر ایک شخص نے ان کا گلا دبانے کے ارادے سے انھیں تھپڑ مارا اور ان کی گردن پر ہاتھ رکھ دیے۔

انھوں نے اس بارے میں کہا کہ ’میں یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی۔ میں نے بہت بے چینی اور خوف محسوس کیا۔ اگر کوئی آپ کو تھپڑ مارتا ہے یا سڑک پر آپ کا گلا دبانے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ ایک حملہ ہوگا۔‘

Getty Images

وہ یاد کرتی ہیں کہ ان کے ایک ساتھی نے انھیں اپنے ہاتھوں سے اتنی مضبوطی سے پکڑا تھا کہ اُن کے ہاتھوں کے نشانات اور اس کی وجہ سے ہونے والی تکلیف کو انھوں نے کئی دنوں تک محسوس کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے کہ کچھ خواتین کہیں گی کہ انھیں یہ سب پسند ہے۔ مسئلہ تب ہوتا ہے کہ جب مرد حضرات بنا پوچھے ہی یہ فرض کرتے ہیں کہ تمام خواتین اسے پسند کرتی ہیں۔‘

جب تک اینا نے اپنے دوستوں سے اس کے بارے میں بات نہیں کی تب تک انھیں احساس نہیں ہوا کہ یہ حالات کتنے عام ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی جانب سے جاری کردہ اس تحقیق میں برطانیہ میں 18 سے 39 سال کی 2 ہزار خواتین پر تحقیق کی گئی۔

2019 کے آخر میں شائع ہونے والے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ سروے میں شامل ایک تہائی سے زیادہ (38 فیصد) افراد نے کہا کہ رضامندی سے جنسی تعلقات کے دوران انھیں تھپڑ مارا گیا، اُن پر تھوکا گیا اور اُن کا گلا دبایا گیا۔

ان میں سے کسی بھی عمل کا تجربہ کرنے والی خواتین میں سے، چاہے وہ رضامندی سے ہو یا نہ ہو، 20 فیصد نے کہا کہ وہ بے چینی یا خوف محسوس کرتی ہیں۔

سروے کی اشاعت کے بعد سینٹر فار ویمن جسٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اعداد و شمار ’نوجوان خواتین پر پرتشدد، خطرناک اور توہین آمیز کارروائیوں کے لیے رضامندی ظاہر کرنے کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔‘

تنظیم نے مزید کہا کہ ’اس کی وجہ وسیع پیمانے پر دستیابی، نارملائزیشن اور پورنوگرافی کے بڑے پیمانے پر استعمال کی وجہ سے ہے۔‘

مطالعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جن خواتین نے پرتشدد جنسی تعلقات کا تجربہ کیا تھا، ان میں سے 42 فیصد نے ایسا کرنے کے لیے دباؤ کو شدید حد تک محسوس کیا۔

Getty Images

ان نتائج کے بعد جنسی اور رومانوی تعلقات میں مہارت رکھنے والے ماہر نفسیات سٹیون پوپ نے کہا کہ ’جنسی عمل کے دوران اس قسم کے رویے اور جذبات میں اضافے کے منفی اثرات سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ ایک خاموش وبا کی مانند ہے۔ لوگ ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ معمول کی بات ہے، لیکن یہ بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بہت سے معاملات میں، یہ تعلقات کو خراب کرتا ہے اور بدترین صورتوں میں، تشدد قابل قبول ہو جاتا ہے۔‘

پوپ کا کہنا ہے کہ ’لوگ میرے پاس اس وقت آتے ہیں جب گلا گھونٹنا یا دم گھٹنا حد سے تجاوز کر جاتا ہے اور وہ کافی دیر تک بے ہوش رہتے ہیں۔‘

اس قسم کے حالات کے بہت سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ لہذا، ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ جنسی تعلقات رکھتے وقت دم گھٹنے سے بچنا اور اس طریقے سے دور رہنا بہتر ہے۔

اسی بارے میں’تجرباتی سیکس‘ کے دوران گلا دبنے سے موت: ’اس قسم کا جنسی عمل خطرناک ہوتا ہے‘سہمے ہوئے ’سیکس ورکرز‘ کی روداد: ’میرے آنے سے پہلے وہ نشہ کر رہا تھا، مجھے لگا اب بچنا ناممکن ہے‘آرگیزم: خواتین ہیجان شہوت کیسے حاصل کر سکتی ہیں؟وہ عوامل جو خواتین میں سیکس کرنے کی خواہش کو متاثر کرتے ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More