گذشتہ ہفتے کتنا کام کیا؟ بتائیں ورنہ نوکری گئی٬ ایلون مسک کی ای میل اور سرکاری ملازمین کی کنفیوژن

بی بی سی اردو  |  Feb 26, 2025

Getty Imagesپیر کی شام کو ایلون مسک نے ایک بار پھر سرکاری ملازمین کو خبردار کیا کہ ان کے پاس ای میل کا جواب دینے کا آخری موقع اب بھی موجود ہے

امریکہ میں سرکاری ملازمین رواں ہفتے کے آغاز پر اُس وقت ایک ذہنی کشمکش کا شکار ہو گئے جب پہلے تو انھیں ایلون مسک کی جانب سے کام سے متعلق ایک حکمنامہ موصول ہوا تاہم اس کے فوری بعد انھیں اپنے اپنے اداروں سے اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے سے متعلق مزید احکامات موصول ہوئے۔

سرکاری ملازمین کو ایلون مسک کی سربراہی میں کام کرنے والے ادارے کی جانب سے یہ ای میل موصول ہوئی کہ ’آپ نے گذشتہ ہفتے کے دوران کیا کام کیا؟‘ یعنی ملازمین سے پوچھا گیا تھا کہ گذشتہ ہفتے اُن کی پرفارمنس کیسی رہی۔ یہ ای میل موصول ہونے کے 48 گھنٹے بعد ان تمام ملازمین کو ان کے متعلقہ اداروں کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ اس ای میل کا جواب رضاکارانہ طور پر دیں اور ہر سرکاری محکمہ اس معاملے کو اپنے طور پر دیکھے گا۔

جب سرکاری اداروں کو ای میل کے ذریعے اس حوالے سے مطلع کیا جا رہا تھا اُسی وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس گفتگو میں حصہ لیا اور کہہ دیا کہ جو ملازمین ایلون مسک کے حکم پر عمل نہیں کریں گے انھیں ملازمتوں سے برخاست کر دیا جائے گا۔

اس کے بعد کی جانے والی ای میل میں ایلون مسک نے ایک بار پھر سرکاری ملازمین کو خبردار کیا کہ اُن کے پاس اُن کی ای میل کا جواب دینے کا آخری موقع ابھی بھی موجود ہے۔

سرکاری ملازمین کو آفس پرسنیل مینجمنٹ (او پی ایم) کی طرف سے پہلی ای میل سنیچر کو موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ پانچ مثالوں کے ذریعے یہ بتائیں کہ انھوں نے گذشتہ سات دنوں میں کیا کیا کام کیا ہے، تاہم انھیں حساس معلومات شیئر کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ سرکاری ملازمین کو اس ای میل کا جواب دینے کے لیے پیر تک کا وقت دیا گیا تھا۔

ایلون مسک امریکہ میں حال ہی میں بنائے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنی (ڈوج) کے سربراہ ہیں اور انھوں نے کہا تھا کہ ملازمین کی طرف سے ان کی ای میل کا جواب نہ دیے جانے کو اُن کا استعفیٰ تصور کیا جائے گا۔

ایلون مسک کے اس بیان پر وفاقی ملازمین کی یونیز اور دیگر گروہوں نے غصے کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔

Getty Imagesایلون مسک ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنی (ڈوج) کے سربراہ ہیں

دوسری جانب چند اہم سرکاری اداروں بمشول محکمہ دفاع، ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز، محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے اپنے ملازمین کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ ایلون مسک کے حکم کو نظر انداز کر دیں۔ یہ وہ تمام ادارے ہیں جن کے سربراہان کا تقرر خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہے۔

ان تمام بیانات اور احکامات کو دیکھنے کے بعد امریکی سرکاری ملازمین اس کشمکش میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ کس کی بات سُنی جائے اور کس کا حکم نظرانداز کیا جائے۔

اس تمام تر صورتحال میں ملازمین اپنی ملازمتوں کے مستقبل کو لے کر غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔

ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے ایک اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ: ’یہ سب ہمیں پاگل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘

بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس کے مطابق پیر کو او پی ایم نے سرکاری اداروں کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور انھیں کہا کہ وہ ای میل کے ذریعے موصول ہونے والی ہدایات پر عمل اپنے طریقے سے کریں۔

اس شام کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایلون مسک کی جانب سے جاری ہونے والے احکامات کو ’بہترین کام‘ قرار دیا۔

’ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ کام بھی کر رہے ہیں یا نہیں اور اس لیے ہم لوگوں کو لیٹرز بھیج رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ برائے مہربانی ہمیں بتائیں کہ آپ نے پچھلے ہفتے کیا کام کیا ہے؟ اگر لوگوں کا جواب نہیں موصول ہوتا تو امکان یہی ہے کہ وہ کام نہیں کر رہے۔‘

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ’اگر آپ جواب نہیں دیتے تو سمجھا جائے گا کہ یا تو آپ جزوی طور پر یا مکمل طور پر ملازمت سے برخاست کر دیے گئے ہیں کیونکہ جو لوگ جواب نہیں دے رہے وہ دراصل اپنا وجود ہی نہیں رکھتے۔‘

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ وہ تمام کام صدر ٹرمپ کی ہدایات کے عین مطابق کر رہے ہیں۔

Getty Imagesایلون مسک کا کہنا ہے کہ وہ تمام کام صدر کی ہدایات پر کر رہے ہیں

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’صدر کی مرضی کے مطابق انھیں (ملازمین کو ای میل کا جواب دینے کا) ایک اور موقع دیا جائے گا۔ دوسری مرتبہ جواب نہ دینے کے نتیجے میں ملازمت سے برخاست کر دیا جائے گا۔‘

ایلون مسک کے احکامات پر سرکاری محکموں کی مخالفت کے باوجود وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ’سب لوگ ایک صدر ٹرمپ کی ہدایات پر بطور ایک متحد ٹیم کام کر رہے ہیں۔‘

اس بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں دی گئی کہ ایلون مسک کی حکم کے باوجود ہر محکمہ ملازمین کو مختلف ہدایات کیوں دے رہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More