’وہ آخری دوست‘ کون ہے جس نے سری دیوی سمیت ہزاروں افراد کی میتیں پردیس سے ان کے آبائی وطن بھیجیں

بی بی سی اردو  |  Feb 26, 2025

BBCاشرف تھماراسیری عید پر بھی گھر والوں کو وقت نہیں دے پاتے لیکن اس کام کے لیے کسی سے پیسے نہیں لیتے

بالی وڈ کی مشہور اداکارہسری دیوی 24 فروری 2018 کو دبئی کے ایک ہوٹل کے کمرے میں وفات پا گئیں تھیں۔

کچھ دنوں بعد سری دیوی کا ایمبلنگ سرٹیفکیٹ (یہ سرٹیفکیٹ ایک ایسی دستاویز ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ میت کو حفظانِ صحت کے معیارات کے مطابق محفوظ کیا گیا ہے)میڈیا کو جاری کیا گیا۔ اس سرٹیفکیٹ پر ایک موبائل نمبر لکھا ہوا تھا۔

وہ نمبر اشرف تھاماراسیری کا تھا۔ سری دیوی کے اہل خانہ نے متعلقہ حکام سے ان کی لاش وصول کی۔

اشرف کیرالہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت متحدہ عرب امارات کے شہر عجمان میں مقیم ہیں۔ یہ وہ ہی تھے جنھوں نے سری دیوی کی میت انڈیا بھیجی تھی۔

اب آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوا ہوگا کہ سری دیوی اور اشرف تھاماراسیری کا اصل رشتہ کیا تھا؟

Getty Imagesناصرف سری دیوی بلکہ خلیجی ممالک میں رہنے والے بہت سے لوگوں کے لیے اشرف ’آخری دوست‘ بن چکے ہیں

لیکن نا صرف سری دیوی بلکہ خلیجی ممالک میں رہنے والے بہت سے لوگوں کے لیے اشرف ’آخری دوست‘ بن چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خلیجی ممالک میں کوئی تارکین وطن فوت ہو جاتا ہے تو اشرف اس کی لاش کو بغیر کسی معاوضے کے مقتول کے لواحقین تک پہنچانے کا انتظام کرتے ہیں۔

یہ کام وہ تقریباً ڈھائی دہائیوں سے کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے انھیں بہت سراہا بھی گیا ہے۔ کئی خاندان ان کے مشکور ہیں اور وہ کئی خاندانوں کے فرد بن چکے ہیں۔

لاہور میں لاوارثوں کا قبرستان: سینکڑوں خاندانوں کے لیے انتظار کی اذیت ختم کیوں نہیں ہو پا رہی؟ڈائٹنگ اور نمک سے پرہیز سری دیوی کی موت کی وجہ بنے: بونی کپور’شناخت پراجیکٹ‘: ’لاوارث‘ میتوں کو اُن کے اپنوں تک کیسے پہنچایا جا رہا ہے؟’سو میں سے پانچ کی مشکل سے شناخت ہوتی ہے‘

انڈیا نے انھیں ان خدمات کے لیے خصوصی اعزاز سے بھی نوازا ہے۔

وہ جونو منڈل کے بھی ’انتہائی دوست‘ بن گئے جو مغربی بنگال کے نادیہ ضلع سے ایک شیف کے طور پر کام کرنے کے لیے امارات گئے تھے۔

پچھلے سال 30 نومبر کی شام تقریباً 4.00 بجے نادیہ میں سونیا منڈل کے گھر پر فون آیا۔ پاکستانی شہری عابد گجر نے دبئی سے شانتی پور میں رہنے والے منڈل خاندان کے گھر فون ملایا تھا۔

جونو منڈل کی بڑی بیٹی سونیا نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا ’عابد کاکا میرے والد کے دوست تھے۔ انھوں نے فون پر میرے والد کی موت کی خبر سنائی۔‘

’منڈل کولکتہ بریانی‘

سونیا کا کہنا ہے کہ جونو منڈل اتنی اچھی بریانی بناتے تھے کہ ہوٹل کے مالک نے ان کے نام پر ہوٹل کا نام ’منڈل کولکتہ بریانی‘ رکھ دیا۔

وہ تقریباً 25 سال سے خلیج میں مقیم تھے۔ انھیں گذشتہ سال نومبر میں دل کی تکلیف کے باعث ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ لیکن ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اچانک ان کی موت کی خبر سنیں گے۔

ان کی بیٹی سونیا کہتی ہیں ’میرے والد کے دل کی شریانیں بند تھیں، ان کا آپریشن بھی ہوا اور اس کے بعد آہستہ آہستہ ان کی صحت میں بہتری آنے لگی۔ وہ ہم سے فون پر بات کرتے تھے لیکن عابد چچا کے فون کرنے کے بعد ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ اچانک کیا ہو گیا ہے۔‘

اس کے بعد اہل خانہ کو یہ فکر ہونے لگی کہ ان کی لاش انڈیا کیسے پہنچے گی۔

LIPI PUBLICATIONS’عابد چچا نے ہمیں اشرف کا نمبر دیا تھا اور اس کے بعد ہمیں کچھ سوچنا نہیں پڑا‘

ان کی بیٹی نے آبدیدہ ہوتے ہویے کہا کہ ’خدا نے سارے انتظامات کروا دیے۔۔۔ عابد چچا نے ہمیں اشرف صاحب کا نمبر دیا تھا اور اس کے بعد ہمیں کچھ سوچنا نہیں پڑا۔‘

’انھوں نے تمام انتظامات کر لیے۔ اشرف نے میرے والد کی لاش کو ایک تابوت میں بند کیا اور دو ہفتوں کے بعد کولکتہ کے ہوائی اڈے پر بھیج دیا۔ ہم نے انھیں 15 دسمبر کو دفن کر دیا۔‘

سونیا منڈل ضلع نادیہ کے علاقے شانتی پور سے صبح چار بجے کی ٹرین پکڑ کر کولکتہ پہنچیں۔ اشرف نے ان کے والد کی میت کو ان کے آبائی علاقے میں تدفین کے لیے اہل خانہ کے پاس بھیجنے کا انتظام کیا تھا۔

یہ ان دونوں اجنبیوں کی پہلی ملاقات تھی۔

’میں کیرالہ میں ٹرک چلاتا تھا‘

اشرف تھاماراسری اصل میں کیرالہ سے ہیں۔ انھوں نے پہلی بار 1993 میں خلیج کا دورہ کیا۔ اس سے پہلے وہ سعودی عرب میں مقیم تھے اور اس سے بھی پہلے اشرف کیرالہ میں ٹرک چلاتے تھے۔

کئی سال سعودی عرب میں رہنے کے بعد وہ وطن واپس آگئے۔ لیکن 1999 میں وہ ایک بار پھر اپنے بہنوئی کے ساتھ بیرون ملک چلے گئے۔

اس بار وہ متحدہ عرب امارات گئے۔ وہاں عجمان شہر میں انھوں نے اپنے بہنوئی کے ساتھ ایک گیراج کھولا۔ اب ان کی مقبولیت خلیجی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ کیونکہ وہ تارکین وطن کے ’آخری دوست‘ بن چکے ہیں۔

LIPI PUBLICATIONSتقریباً اڑھائی دہائیوں سے اشرف کسی سے پیسے لیے بغیر رشتہ داروں کی لاشیں ان کے ملکوں کو بھیجنے کا انتظام کر رہے ہیں۔

وہ امارات اور سعودی عرب میں رہنے والے بہت سے خاندانوں کا حصہ بن چکے ہیں جن میں سری دیوی کے شوہر اور پروڈیوسر بونی کپور بھی شامل ہیں۔

اشرف مغربی بنگال کے شانتی پور شہر کے جونو منڈل جیسے ہزاروں خاندانوں کا سہارا بھی بن گئے ہیں جو شیف کے طور پر کام کرنے دبئی گئے تھے۔

تقریباً اڑھائی دہائیوں سے اشرف کسی سے پیسے لیے بغیر رشتہ داروں کی لاشیں ان کے ملکوں کو بھیجنے کا انتظام کر رہے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک 40 سے زائد ممالک میں 15000 سے زائد لاشیں ان کے اہل خانہ کو بھیج چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اشرف نے خلیجی ممالک میں تقریباً دو ہزار لاشوں کی تدفین کا بھی انتظام کیا ہے۔

اب تک انھوں نے سب سے زیادہ لاشیں کیرالہ بھیجی ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ انھوں نے مغربی بنگال، اڑیسہ اور آسام کے کئی خاندانوں کو ان کے رشتہ داروں کی لاشیں بھیجنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے کئی لاشیں بنگلہ دیش، نیپال اور پاکستان بھی بھیجی ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ، امریکہ اور افریقہ کے مختلف ممالک سے تارکین وطن کی لاشیں بھجوانے کا بھی انتظام کیا ہے۔

جن خاندانوں کے لیے وہ ’قریبی دوست‘ بن چکے ہیں ان میں مختلف مذاہب اور کئی ممالک کے لوگ شامل ہیں۔

یہ سب کیسے شروع ہوا؟

سنہ 2000 میں جب اشرف متحدہ عرب امارات کے شہر عجمان میں ایک گیراج چلاتے تھے تب ایک بیمار دوست کی عیادت کے لیے وہ شارجہ کے ایک ہسپتال گئے۔

وہاں سے واپس آتے ہوئے انھوں نے دو نوجوانوں کو روتے دیکھا۔ انھیں دیکھ کر اشرف نے سوچا کہ شاید یہ دونوں کیرالہ سے ہیں۔

اشرف تھماراسیری کہتے ہیں ’میں نے ان سے ان کے رونے کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ان کے والد کی وفات ہو گئی ہے۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ لاش کو انڈیا کیسے لے جانا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’میں بھی اس عمل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ لیکن پھر بھی میں نے اسے تسلی دی اور اسے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ میری بات سن کر اس کا چہرہ چمک اٹھا۔‘

اس کے بعد اشرف نے مقامی لوگوں سے لاشوں کو متعلقہ ممالک بھیجنے کے عمل کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔

وہ کہتے ہیں ’میں نے سب سے پہلے پولیس کو اطلاع دی۔ وہاں سے اجازت ملنے کے بعد میں نے سفارت خانے کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ متوفی کا ویزا کینسل کرنا پڑے گا۔‘

’اس عمل میں پانچ دن لگے، تب تک لاش کو مردہ خانے میں رکھا گیا۔ آخرکار تمام تر طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد پانچویں دن میت کو تابوت میں دبئی سے انڈیا بھیج دیا گیا۔‘

اپنا کام چھوڑ کر ایک مکمل اجنبی کی لاش اپنے ملک واپس بھیجنے کا واقعہ بڑے پیمانے پر رپورٹ ہوا۔ اسی وجہ سے کچھ دنوں بعد ان کا فون پھر سے بجا۔

انھیں بتایا گیا کہ مغربی بنگال کے ایک نوجوان کی وفات ہو گئی ہے۔ ان کی میت انڈیا بھیجنے کے بھی انتظامات کرنے ہوں گے۔ ان کی لاش کو انڈیا لے جانے والا کوئی نہیں تھا۔

ایسے میں اشرف نے ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدا اور لاش والے تابوت کو کولکتہ کے ہوائی اڈے پر لے گئے۔

اشرف نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا ’زیادہ تر معاملات میں، میں لاشیں ہوائی جہاز سے بھیجتا ہوں لیکن بعض اوقات میں نے ذاتی طور پر لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ میں نے اس دوران بہت کچھ سیکھا۔۔ سری دیوی جیسی مشہور اداکارہ کے علاوہ مجھے اجنبیوں اور اپنے قریبی دوستوں کی لاشیں بھی ان کے اہل خانہکے حوالے کرنا پڑیں۔

تین دن لاک اپ میں گزارےLIPI PUBLICATIONSاشرف کا کہنا ہے کہ 'پولیس افسر نے مجھے بتایا کہ خاندان اتنا غریب ہے کہ ان کے پاس آخری رسومات کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ وہ اس لیے آگے نہیں آئے کیونکہ وہ پیسے دینے سے ڈرتے تھے'

گیراج اپنے بہنوئی کے حوالے کرنے کے بعد اشرف اپنی گاڑی میں گھومتے ہیں اور جاننے والوں اور اجنبیوں کی لاشوں کو اپنے ملک واپس بھیجنے کے انتظامات میں مصروف رہتے ہیں۔

وہ عید پر بھی گھر والوں کو وقت نہیں دے پاتے لیکن اس کام کے لیے کسی سے پیسے نہیں لیتے۔

مالی امداد کون فراہم کرتا ہے؟ اس بارے میں اشرف کہتے ہیں ’کبھی کوئی مہربان شخص چندہ دیتا ہے اور کبھی کوئی این جی او اس کام میں مدد کرتی ہے۔ میں نے گیراج اپنے بہنوئی کے حوالے کر دیا ہے، اس کے بدلے میں وہ مجھے گھر کے اخراجات چلانے کے لیے ہر ماہ ایک مقررہ رقم دیتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں مرنے والے کی لاش ان کے وطن بھیجنے کے عوض کبھی کسی سے ایک درہم بھی نہیں لیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ چونکہ انھوں نے اس کام کے لیے کبھی معاوضہ نہیں لیا اسی لیے انھیں بہت خوشگوار تجربات ہوئے ہیں۔

اڑیسہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی امارات میں موت کے بعد اس کی لاش اس کے اہل خانہ کو بھیجنی پڑی۔

اشرف کا کہنا ہے کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کام کی ذمہ داری کون لے سکتا ہے۔ اس وقت بھی انھوں نے اپنے پیسوں سے ٹکٹ خریدا تھا اور لاش کو تابوت کے ساتھ لے گئے۔

’اس شخص کے گھر والوں کے پاس دو یا تین فون نمبر تھے۔ دبئی سے پرواز سے پہلے اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ لواحقین لاش لینے کے لیے بھونیشور آئیں گے لیکن وہاں پہنچنے کے بعد کوئی ہماری کال نہیں اٹھا رہا تھا۔‘

’اس شخص کا گھر بھونیشور سے بہت دور تھا۔ اس کے بعد میں ایمبولینس میں بیٹھ کر مقامی پولیس سٹیشن پہنچا۔ میں پہلی بار اڑیسہ گیا تھا۔ مجھے مقامی زبان بھی نہیں آتی تھی۔ پورا معاملہ بتانے کے بعد پولیس نے مجھے یقین دلایا کہ وہ اس کا گھر تلاش کر لیں گے۔‘

وہ بتاتے ہیں ’میں مسلسل تھانے میں بیٹھا تھا، رات کو میں نے وہیں کھانا کھایا اور پولیس نے میرے لیے لاک اپ میں سونے کا انتظام کیا حالانکہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا لیکن مجھے رات پولیس لاک اپ میں گزارنی پڑی۔‘

دو دن تک تھانے میں انتظار کرنے کے بعد جب اس شخص کا پتہ نہیں ملا تو انھوں نے اپنا نمبر تھانے کو دیا اور واپس دبئی چلے گئے۔

جیسے ہی وہ دبئی پہنچے انھیں اڑیسہ کے اس پولیس سٹیشن سے کال موصول ہوئی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ متوفی کے اہل خانہ پولیس سٹیشن میں اشرف پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ دبئی سے ہوائی جہاز کے ذریعے لاش لانے کے بدلے اشرف ان سے پیسے مانگے گا۔

اشرف کا کہنا ہے کہ ’پولیس افسر نے مجھے بتایا کہ خاندان اتنا غریب ہے کہ ان کے پاس آخری رسومات کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ وہ اس لیے آگے نہیں آئے کیونکہ وہ پیسے دینے سے ڈرتے تھے۔‘

اشرف پر لکھی گئی کتاب: ’دی لاسٹ فرینڈ - دی لائف آف اشرف تھماراسیری‘

کیرالہ کے مشہور صحافی اور مصنف جی پراجیش سین نے اشرف تھماراسری پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اسی طرح کے ایک واقعے کا ذکر کتاب ’دی لاسٹ فرینڈ - دی لائف آف اشرف تھماراسیری‘ میں بھی کیا گیا ہے۔

ایک دفعہ ایک برطانوی تارکین وطن کی وفات کے بعد ان کی بیوی لاش لینے دبئی آئیں۔ وہ برطانوی فضائیہ میں پائلٹ تھیں۔ تمام رسمی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ائیرپورٹ پر انتظار کرتے ہوئے انھوں نے اشرف کو پانچ ہزار ڈالر دیے۔

اشرف نے بتایا کہ میں نے پیسے لینے سے انکار کیا تو وہ چیخنے لگیں۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اشرف نے اصل میں کیا کہا ’اس خاتون نے سوچا کہ شاید رقم بہت کم ہے۔ بعد میں ان کے شوہر کی تنظیم کے ایک نگران نے انھیں سمجھایا کہ زیادہ یا کم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اس کام کے لیے کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔ اس کے بعد خاتون نے میرا ہاتھ تھام لیا اور رونے لگیں۔‘

BBCکیرالہ کے مشہور صحافی اور مصنف جی پراجیش سین نے اشرف تھماراسری پر ایک کتاب لکھی ہے 'دی لاسٹ فرینڈ - دی لائف آف اشرف تھماراسیری' انڈین حکومت کی طرف سے اعزاز

انڈین حکومت نے اشرف کو 2015 میں پراواسی بھارتیہ سمان سے نوازا۔ یہ ایوارڈ تقریباً پچیس سال تک ایک پیسہ لیے بغیر ہزاروں تارکین وطن کی لاشیں انڈیا بھیجنے کے ان کے کام کے اعتراف میں دیا گیا۔

انڈیا یہ اعزاز مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیتا ہے۔

اس اعزاز سے متعلق ایک واقعہ پرجیش سین کی کتاب میں بھی درج ہے۔

TWOCIRCLESانڈین حکومت نے اشرف کو 2015 میں پراواسی بھارتیہ سمان سے نوازا۔

شمالی انڈیا کے ایک خاندان کی 12 سالہ لڑکی گھر سے گر کر ہلاک ہو گئی۔

اشرف کی وجہ سے اس کی لاش ملی۔ اشرف کا کہنا ہے کہ ’لڑکی کی آخری رسومات امارات میں ادا ہونی تھیں۔ لیکن میں ان کی مذہبی رسوم کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ میں نے کچھ لوگوں سے بات کی اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔‘

کتاب میں دی گئی معلومات کے مطابق اشرف نے بتایا ’میں اس واقعے سے اتنا ہل گیا تھا کہ میں اس کے والدین کو قبرستان میں چھوڑ کر واپس نہیں آ سکا تھا۔ میں ابھی اس صدمے سے سنبھل نہیں پایا تھا کہ مجھے انڈین سفارت خانے کا فون آیا۔‘

اشرف کہتے ہیں ’جب مجھے فون آیا تو میں نے واضح طور پر کہا کہ میرے پاس ایوارڈ کی تقریب میں جانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ تب سفارت خانے کے اہلکار نے کہا کہ بس ٹیکسی سے سفارت خانے آ جائیں۔‘

LIPI PUBLICATIONSاشرف وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ

سفارت خانے پہنچنے کے بعد انھیں دہلی کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ اور ایک خط دیا گیا۔ اس وقت کے نائب صدر حامد انصاری نے انھیں دہلی میں یہ ایوارڈ پیش کیا۔

وہاں انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کی۔ بعد ازاں جب مودی دبئی گئے تو اشرف کو سفارت خانے سے وزیراعظم سے ملاقات کا دعوت نامہ موصول ہوا تاہم اس وقت وہ میت لے کر انڈیا آئے ہوئے تھے۔

بعد میں اشرف نے اس وقت کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی اور لاش کو واپس لانے کے اخراجات کی شکایت کی۔

اشرف نے کہا کہ ’میں نے استقبالیہ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا تھا، اس کے بعد میں نے سشما سوراج سے بھی اس کی شکایت کی تھی۔ مفت میں میت لانا ممکن نہیں ہو سکا تھا لیکن اب دو سے تین ہزار درہم میں میت کو انڈیا لانا ممکن ہے۔‘

وہ حال ہی میں بھونیشور سے کولکتہ پہنچے تھے۔ اس سال بھونیشور میں ہی پراواسی بھارتیہ سمان کا اہتمام کیا گیا تھا۔

دبئی میں ایک مہربان شخص نے جونو منڈل کے خاندان کے لیے کچھ مالی امداد بھیجی تھی اورہم سے بات چیت کے دوران اشرف کا فون بار بار بج رہا تھا۔

اشرف خلیج میں رہنے والے تارکین وطن کے ’انتہائی قریبی دوست‘ بن چکے ہیں۔۔ انھوں نے بتایا ’کیرالہ کے ایک شخص کی وفات ہو گئی ہے اور اب فون پر وہاں بات کرکے لاش کو یہاں سے لانے کے انتظامات کرنا ہوں گے۔‘

لاہور میں لاوارثوں کا قبرستان: سینکڑوں خاندانوں کے لیے انتظار کی اذیت ختم کیوں نہیں ہو پا رہی؟’شناخت پراجیکٹ‘: ’لاوارث‘ میتوں کو اُن کے اپنوں تک کیسے پہنچایا جا رہا ہے؟ڈائٹنگ اور نمک سے پرہیز سری دیوی کی موت کی وجہ بنے: بونی کپور’سو میں سے پانچ کی مشکل سے شناخت ہوتی ہے‘ہزاروں لاوارث لاشوں کو دفنانے والا ’چاچا‘ شریف’سری دیوی کی موت حادثاتی طور پر ڈوبنے سے ہوئی‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More