ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ دنیا بھر میں مقبول مگر پاکستانی فری لانسرز محروم کیوں ہیں؟

اردو نیوز  |  Mar 26, 2025

دنیا بھر میں ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ حاصل کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن پاکستانی فری لانسرز کو مالی مشکلات، ویزا پالیسیوں، کرنسی کے مسائل اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث چیلنجز کا سامنا ہے، جو ان کے لیے ان مواقع سے فائدہ اٹھانا مشکل بنا رہے ہیں۔

یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے ایسے پروگرامز متعارف کرائے ہیں جن کا مقصد غیر ملکی فری لانسرز اور ڈیجیٹل نومیڈز کو اپنی معیشت میں شامل کرنا ہے۔

تاہم پاکستانی فری لانسرز اور ڈیجیٹل نومیڈز کے لیے یہ مواقع حاصل کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت، سفری پابندیاں، کرنسی کے مسائل اور قانونی پیچیدگیاں پاکستانیوں کے لیے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ کیا ہے؟ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ دنیا کے مختلف ممالک کی طرف سے متعارف کرایا گیا ایک خصوصی پروگرام ہے جس کا مقصد ایسے پروفیشنلز کو سہولت فراہم کرنا ہے جو آن لائن کام کرتے ہیں اور کسی مخصوص جغرافیائی حدود کے پابند نہیں ہوتے۔

یہ ویزہ بنیادی طور پر ایسے افراد کے لیے ہے جو فری لانسنگ، ریموٹ جابز، یا اپنا آن لائن کاروبار چلاتے ہیں اور ایک مخصوص مدت کے لیے کسی دوسرے ملک میں قانونی طور پر رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

گذشتہ چند برسوں میں کئی ممالک نے اس ویزے کے تحت غیر ملکی پروفیشنلز کو اپنے ملک میں کام کرنے کی اجازت دی ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔

پاکستانیوں کے لیے درپیش چیلنجزآئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ماہر سلمان شیخ کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والے سینکڑوں فری لانسرز نے اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں کی لیکن کچھ ہی افراد کامیاب ہوسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیشتر ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ پروگرامز میں کم از کم مالیاتی معیار مقرر ہوتا ہے، جیسے کہ ماہانہ $2000 سے $5000 تک کی کمائی کا ثبوت فراہم کرنا۔

پاکستان میں زیادہ تر فری لانسرز کی کمائی اس معیار پر پورا نہیں اترتی، جس کی وجہ سے ان کے لیے یہ پروگرام ناقابل رسائی بن جاتا ہے۔

سفری مشکلات اور ویزہ پالیسیزسلمان شیخ نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں کمزور سمجھا جاتا ہے اور بیشتر ممالک کے لیے ویزہ حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

پاکستان میں بہت سے فری لانسرز ٹیکس کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔ (فوٹو: ایکس)ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ کے لیے بھی بیشتر ممالک پاکستانیوں کے لیے سخت شرائط رکھتے ہیں، جن میں اضافی مالیاتی گارنٹی، کلین کریمنل ریکارڈ، اور دستاویزات کی طویل جانچ سمیت دیگر شامل ہیں۔

ٹیکس اور قانونی پیچیدگیاںاس کے علاوہ اکثر ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ پروگرام میں یہ شرط شامل ہوتی ہے کہ ویزہ ہولڈر میزبان ملک میں اپنی کمائی پر ٹیکس ادا کرے گا۔

پاکستان میں پہلے ہی بہت سے فری لانسرز ٹیکس کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں، اور کسی دوسرے ملک میں بھی ٹیکس کی ادائیگی ان کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

کیا مستقبل میں رجحان بدلے گا؟اگرچہ موجودہ حالات میں پاکستانیوں کی دلچسپی ڈیجیٹل نومیڈ ویزوں میں کم نظر آ رہی ہے، لیکن مستقبل میں یہ رجحان بدل سکتا ہے۔

اگر پاکستانی معیشت مستحکم ہو، کرنسی کی قدر بہتر ہو، اور حکومت کی جانب سے فری لانسرز کے لیے سفری سہولیات اور مالیاتی معاونت فراہم کی جائے، تو ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ پاکستانیوں کے لیے زیادہ پرکشش ہو سکتا ہے۔

سلمان شیخ نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں کمزور ہے اور بیشتر ممالک کے لیے ویزہ حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ (فوٹو: ایکس)ٹیک انڈسٹری اور فری لانسنگ سے وابستہ ماہر مزمل اختر کا کہنا ہے کہ حکومت کو پاکستانی فری لانسرز کے لیے سفری اور مالی معاونت کی سہولت فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ عالمی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

’بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی فری لانسرز کو زیادہ مضبوط بنانے کے لیے ہنر کی تربیت، بینکنگ سہولیات، اور کرنسی کے استحکام جیسے عوامل پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ پروگرام پاکستانیوں کے لیے ایک شاندار موقع ہو سکتا ہے، لیکن موجودہ مالی، سفری، اور قانونی رکاوٹیں ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر اس مسئلے پر توجہ دیں، تو پاکستانی فری لانسرز بھی اس عالمی رجحان میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More