’عید سر پر مگر خریدار کم‘ ، بلوچستان میں بے امنی اور احتجاج کے باعث تاجر پریشان

اردو نیوز  |  Mar 26, 2025

عید کے موقعے پر بازاروں میں خریداروں کا رش اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آ جاتی ہے مگر کوئٹہ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں اس بار بے امنی اور احتجاج کے باعث تاجر اور کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔

کوئٹہ کی سریاب روڈ پر کاسمیٹکس کی دکان کے مالک ظہور بلوچ کہتے ہیں  کہ ’میں نے ادھار لے کر عید کے لیے 30 لاکھ روپے کا سامان خریدا تھا مگر حالات ایسے بن گئے کہ منافع تو دور اپنا سرمایہ بھی پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔‘

ان کی دکان کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ہے جو حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج اور پولیس کے ساتھ مظاہرین کے جھڑپوں کا مرکز رہا۔

ظہور احمد کے مطابق پہلے پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور پھر ہڑتال کی وجہ سے دکانیں پانچ دن تک بند رہیں اور جب کھلیں تو بھی خریدار نہیں آ رہے۔ ایسا لگ ہی نہیں رہا کہ عید آ رہی ہے۔  

وہ کہتے ہیں’عید سے چند دن پہلے یہ سب کچھ ہو رہا ہے جو ہمارے کاروبار کا سب سے اہم وقت ہوتا ہے۔ سال بھر ہم اس سیزن کا انتظا ر کرتے ہیں لیکن اس بار ہمارا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔‘

بلوچستان کے تاجروں کو حالیہ مہینوں میں سڑکوں کی مسلسل بندش نے پریشان کر رکھا تھا مگر بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان کشیدگی اور احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں نے صورتحال مزید سنگین کر دی ہے۔ احتجاج کے باعث کئی شہروں میں تین دن تک دکانیں اور مارکیٹیں بند رہیں جس سے کاروبار پر منفی اثر پڑا۔

کوئٹہ کے گاہی خان چوک پر ہول سیل کا کاروبار کرنے والے عبدالنبی نے بتایاکہ ’ہمارے زیادہ تر گاہک مستونگ، قلات، سوراب، نوشکی اور دالبندین سے آتے ہیں مگر راستے بند ہونے کی وجہ سے وہ یہاں نہیں پہنچ پا رہے، جس سے ہمارا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔‘

کوئٹہ میں جوتوں کے کاروبار سے وابستہ تاجر رہنما عمران ترین کا کہنا ہے کہ ’ہول سیلرز کوئٹہ سے دوسرے اضلاع میں سامان بھیجتے ہیں مگر سڑکوں کی بندش کی وجہ سے دس 10 دنوں تک سامان پہنچ ہی نہیں پاتا اور جب پہنچتا ہے تو کوئی نیا واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ اس طرح کبھی سڑکیں تو کبھی بازار بند ہو جاتے ہیں۔‘

غیرمقامی افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور موجودہ حالات نے دوسرے صوبوں سے آنے والے گاہگوں کو روک دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)عمران ترین کے مطابق صرف مقامی کاروبار ہی نہیں بلکہ درآمدات اور برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

ان کے بقول ’کراچی کی بندرگاہ سے افغانستان جانے والے کنٹینرز کئی کئی دنوں تک سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں جبکہ ایران سے سبزیوں اور پھلوں کا کاروبار کرنے والے تاجر تو تباہ ہو چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کوئٹہ اور ایران کو ملانے والی شاہراہ 10 دن بند رہی جس کے باعث کروڑوں روپے کا مال خراب ہو گیا۔‘

کوئٹہ کی بڑیچ مارکیٹ کمبل، قالین، برتن اور ایرانی اشیاء کے لیے مشہور ہے۔ یہاں ایک کراکری دکان کے مالک محمد اللہ نے بتایا کہ ’پچھلے سال کے مقابلے میں ہمارا کاروبار 50 فیصد کم ہو گیا ہے۔ ‘

انہوں نے بتایا کہ غیرملکی سامان مناسب قیمت پر دستیاب ہونے کی وجہ سے بڑیچ مارکیٹ اندرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے خریداری کا پسندیدہ مقام رہا  ہے۔ تاہم  اس سال صورتحال مختلف ہے۔

محمد اللہ کے بقول ’پہلے پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں سے لوگ خریداری کے لیے آتے تھے مگر غیرمقامی افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور موجودہ حالات نے دوسرے صوبوں سے آنے والے گاہگوں کو روک دیا ہے۔‘

بے امنی اور احتجاج کے باعث دیہاڑی دار مزدور بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ ہزار گنجی سبزی منڈی میں لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا کام کرنے والے اسد اللہ نے بتایا کہ ’منڈی میں اب گاڑیاں کم آتی ہیں، جس کی وجہ سے ہمارا کام کم ہو گیا ہے۔ ہم بس اتنا کماتے ہیں کہ بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر سکیں۔ بچوں کے لیے کپڑوں اور عید کی خریداری ممکن نہیں رہی۔‘

خشک میوہ جات کے تاجر نعمت اللہ بھی مایوس ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’عید کے موقعے پر عام طور پر ڈرائی فروٹ کی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے مگر اس بار حالات اچھے نہیں۔ خریدار کم ہیں، اور جو آ رہے ہیں ان کی قوت خرید بھی متاثر ہے، وہ بہت کم چیزیں خرید رہے ہیں۔‘

تاجر رہنما عمران ترین کا کہنا ہے کہ ’یہ حکومت کی نااہلی ہے کہ وہ بروقت ان معاملات کو بہتر طریقے سے حل نہیں کر سکی۔ اس کا بوجھ تاجروں اور عام عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔‘

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More