پاکستان میں فی الحال گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے امکانات زیادہ نہیں ہیں، جب کہ رمضان کے دوران آٹو مارکیٹ غیر معمولی سُست روی کا شکار ہے۔ماہرین کے مطابق رواں سال نہ خریداروں کی دلچسپی نظر آرہی ہے اور نہ ہی فروخت کنندگان متحرک ہیں، ماضی میں حالانکہ عید سے قبل گاڑیوں کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا تھا۔مارکیٹ میں جاری غیریقینی صورت حال، معاشی دباؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث لوگ نئی گاڑیاں خریدنے سے گریز کر رہے ہیں جس کی وجہ سے کار ڈیلرز اور آٹو سیکٹر کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسیوں میں اگر کوئی بڑی تبدیلی نہ آئی تو مستقبل قریب میں بھی صورتِ حال میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سینیئر رہنما ایج ایم شہزاد کا کہنا ہے کہ ’حکومت جب تک واضح پالیسی کا اعلان نہیں کرتی، اس وقت تک گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘’پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کسی بھی سطح پر ہوں، لیکن اس کے اثرات تب ہی سامنے آتے ہیں جب کوئی حتمی پالیسی نافذ کی جاتی ہے۔‘ان کے مطابق ’مقامی مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے، بلکہ حالیہ دنوں میں ایک مقامی کارساز کمپنی نے اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔‘ایج ایم شہزاد نے مزید کہا کہ ’اس کے باوجود مارکیٹ میں اس وقت شدید جمود کی کیفیت ہے کیوں کہ خریدار اور فروخت کنندہ دونوں ہی پس و پیش سے کام لے رہے ہیں۔‘آٹو انڈسٹری کے ماہر مشہود علی خان کے مطابق ’گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری کمی کا کوئی امکان نہیں ہے کیوں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی جاری بات چیت میں آٹو سیکٹر کے لیے پانچ سال کی ایک پالیسی زیرِغور ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’یہ پالیسی جب تک حتمی طور پر نافذ نہیں ہو جاتی، مقامی مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملے گی۔‘مشہود علی خان نے وضاحت کی کہ ’رواں مالی سال کے بجٹ کے بعد ہی یہ معلوم ہو سکے گا کہ آٹو انڈسٹری کو کیا سہولیات دی جا رہی ہیں اور اس سے مقامی مارکیٹ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟‘
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث لوگ نئی گاڑیاں خریدنے سے گریز کر رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’گاڑیاں بنانے والے مقامی ادارے بھی بے یقینی کا شکار ہیں کیوں کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا حکومت درآمدی گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی میں کمی کرے گی یا مقامی صنعت کے لیے مُراعات متعارف کروائی جائیں گی۔‘
پاکستانی آٹو انڈسٹری کی مشکلاتمشہود علی خان کہتے ہیں کہ ’پاکستان کی معیشت گذشتہ 70 برسوں سے درآمدی خام مال پر انحصار کر رہی ہے، اور یہی مسئلہ آٹو انڈسٹری میں بھی درپیش ہے۔‘ ’پاکستان میں کئی کمپنیاں گاڑیوں کو اسمبل کرتی ہیں، مگر حکومت اگر تیارشدہ گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی کم کر دیتی ہے تو اس سے مقامی کارساز اداروں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’دیکھنا ہوگا کہ ایسی صورت حال میں مقامی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں اپنی بقا کیسے یقینی بناتی ہیں۔‘رمضان میں خرید و فروخت میں نمایاں کمیایچ ایم شہزاد نے بتایا کہ ’رمضان میں گاڑیوں کی خرید و فروخت میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ عام طور پر عید سے قبل گاڑیوں کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے کیوں کہ لوگ سفری سہولت کے لیے نئی گاڑیاں خریدتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’رواں سال صورتِ حال ماضی کے مقابلے میں مختلف ہے، اور مارکیٹ میں گاڑیوں کی خرید و فروخت قریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔‘
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ماہرین کے مطابق ’اس جمود کی ایک بڑی وجہ مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا ہے، کیوں کہ صارفین کو یہ نہیں معلوم کہ مستقبل میں گاڑیوں کی قیمتیں بڑھیں گی یا کم ہوں گی۔‘آٹو انڈسٹری کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ ’اس کے علاوہ مہنگائی اور گاڑیوں کی زیادہ قیمتیں بھی لوگوں کو بڑے مالی فیصلے لینے سے روک رہی ہے۔‘واضح رہے کہ پاکستان کی آٹوموٹیو انڈسٹری نے جنوری 2025 میں نمایاں اضافے کے بعد فروری میں گاڑیوں کی فروخت میں کمی کا سامنا کیا ہے۔پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔یہ رپورٹ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتِ حال اور صارفین کی تبدیل ہوتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتی ہے۔جنوری 2025 میں 73 فیصد اضافے کے بعد فروری 2025 میں گاڑیوں کی فروخت میں 29 فیصد کمی دیکھی گئی۔ فروری میں 12 ہزار سے زائد گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو جنوری 2025 میں فروخت ہونے والی 17 ہزار سے زائد گاڑیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔حکومتی پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حالایج ایم شہزاد کے مطابق جب تک حکومت واضح احکامات جاری نہیں کرتی، مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار رہے گی۔
آٹو سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’وفاقی بجٹ سے قبل مارکیٹ میں غیر یقینی کا ماحول برقرار رہے گا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ درآمدی گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی اگر کم کی جاتی ہے تو اس سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا۔‘’گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہوگی تو گھریلو ضرورت سمیت کمرشل استعمال کے لیے گاڑی خریدنے والوں کو بھی ریلیف ملے گا۔‘ماہرین سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کسی بڑی کمی کا امکان نہیں ہے۔ حکومت اگر کوئی نئی پالیسی متعارف کراتی ہے تو اس کے اثرات سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔’اس کے علاوہ پاکستان کی معیشت میں جاری بحران اور مہنگائی کی بلند شرح بھی آٹو سیکٹر پر اثرانداز ہو رہی ہے۔‘آٹو سکیٹر کے ماہرین کہتے ہیں کہ ’آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بعد ہی صورت حال واضح ہو سکے گی کہ آیا حکومت آٹو انڈسٹری کے لیے کوئی خصوصی اقدامات کرتی ہے یا نہیں۔‘’رواں برس کے وفاقی بجٹ سے قبل مارکیٹ میں غیر یقینی کا ماحول برقرار رہے گا، اور گاڑیوں کی خرید و فروخت میں نمایاں بہتری کی امید کم ہی نظر آرہی ہے۔‘