عمران خان کی ہدایت کے باوجود ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کا نام تبدیل کر دیا گیا

اردو نیوز  |  Apr 05, 2025

صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ارباب نیاز اسٹیڈیم کا نام تبدیل کر کے عمران خان کے نام سے منسوب کر دیا ہے۔

وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ نے سٹیڈیم پر عمران خان کرکٹ سٹیڈیم کا بورڈ آویزاں کر دیا۔

مرکزی گیٹ کے علاوہ سٹیڈیم کی اندرونی عمارت پر عمران خان کا نام درج کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق محکمہ کھیل کی ہدایت کی روشنی میں سٹیڈیم کے لیے نئے بورڈ تیار کر کے نصب کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا نے کرکٹ سٹیڈیم کا نام عمران خان رکھنے کی تجویز دی تھی۔ تاہم بانی پی ٹی آئی نے سٹیڈیم کا نام تبدیل نہ کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ سٹیڈیم کے نام کی تبدیلی کے بعد تاحال صوبائی حکومت کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے نام کی تبدیلی پر صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مسلم لیگ ن کے ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات ارباب خضر حیات نے اپنے بیان میں کہا کہ ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کا بورڈ ہٹا کر عمران خان کا بورڈ آویزاں کرنا پشاور کے عوام کی توہین ہے۔عمران خان کے واضح احکامات کے باوجود ارباب نیاز کے نام کا بورڈ ہٹانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور اپنی نوکری بچانے کے لیے ’اوچھے ہتھکنڈوں‘ پر اتر آئے ہیں۔

ارباب نیاز سٹیڈیم نے 1984 سے 2006 تک متعدد بین الاقوامی میچوں کی میزبانی کی ہے۔ (فائل فوٹو: وکی پیڈیا)سٹیڈیم کی تاریخیہ سٹیڈیم سنہ 1980 کی دہائی سے پشاور کلب گراؤنڈ کے نام سے معروف تھا مگر 1985 میں اسے بین الاقوامی کرکٹ کے لیے تیار کر کے ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کا نام دیا گیا۔ یہ نام خیبر پختونخوا کی معروف سیاسی شخصیت ارباب نیاز محمد خان کی خدمات کے اعتراف میں رکھا گیا تھا۔

ارباب نیاز سٹیڈیم نے 1984 سے 2006 تک متعدد بین الاقوامی میچوں کی میزبانی کی ہے، جن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان 2006 کا یادگار میچ بھی شامل ہے۔

واضح رہے پی ٹی آئی کی گذشتہ حکومت (سنہ 2018) کے وقت سے سٹیڈیم کی تزین آرائش کا کام جاری ہے تاہم ابھی تک یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More