خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کے تمام کیمپس مرحلہ وار مکمل طور پر بند کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جبکہ کل نئی پالیسی کے اعلان کا امکان بھی ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن کل ختم ہو رہی ہے جس کے بعد صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم مہاجر کیمپوں کو حتمی طور پر ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں کئی کیمپ بند کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی کیمپ دوسرے مرحلے میں مکمل طور پر ختم کر کیے جائیں گے۔
اس حوالے سے صوبائی حکومت نے افغان کمشنریٹ، ڈپٹی کمشنرز اور تمام متعلقہ اداروں کو وفاق کی ہدایت کے مطابق تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ انخلا کے عمل کو بروقت اور شفاف طریقے سے پایا تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین سے متعلق نئی پالیسی کل متوقع ہے جس میں باضابطہ رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے مہاجرین کو ممکنہ طور پر کچھ ریلیف دیا جائے گا اور دستاویزات کے مقیم افغان شہریوں کو فوری واپسی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں لاکھوں افغان مہاجرین کئی دہائیوں سے مقیم ہیں جن کے کیمپ بڑے شہروں کے مضافات اور قبائلی اضلاع میں بھی قائم تھے۔ حکام کے مطابق کیمپس کے خاتمے کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل مزید تیز ہوگا تاکہ صوبے پر بوجھ کم کیا جا سکے اور سیکیورٹی سمیت دیگر مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق یکم ستمبر کے بعد صوبے میں کسی بھی افغان کیمپ یا غیر قانونی رہائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔