حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران شاہدرہ میں کشتی پر بیٹھ کر رپورٹس کرنے والی خاتون مہرالنساء سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ان کی ویڈیوز کو عوام نے دلچسپ قرار دیا اور بعض صارفین نے انہیں بی بی سی اردو کی رپورٹر سمجھ لیا۔
سوشل میڈیا پر سوال اٹھنے لگے کہ بی بی سی آخر کس میرٹ پر بھرتی کرتا ہے؟
لیکن معاملہ مزید دلچسپ اس وقت ہوگیا جب بی بی سی اردو نے باقاعدہ بیان جاری کردیا کہ مہرالنساء کا ہمارے ادارے سے کوئی تعلق نہیں!
یہ سن کر مہرالنساء نے بھی فوراً دو بدو جواب دیا اور کہا کہ بھائی! ہم نے کب کہا کہ ہم بی بی سی ہیں؟ یہ تو اپنا چینل ہے۔۔۔ بھائی بھائی چینل!
اور بس پھر کیا تھا مہرالنساء کا یہ بیان ان کی ویڈیوز سے بھی زیادہ وائرل ہوگیا۔ان کی اس وضاحت کے بعد سوشل میڈیا پر مزید تبصرے شروع ہوگئے۔ ایک صارف نے لکھا "بھائی بھائی چینل بی بی سی سے زیادہ معتبر ہے۔ دوسرے نے کہا "بہن بھائی چینل زیادہ چٹخارے دار ہے!"
مہرالنساء نے پانی میں تیرتی کشتی پر بیٹھ کر نہ صرف سیلاب رپورٹنگ کی بلکہ ہنسی کا طوفان بھی برپا کردیا۔