’بارود سے لدا مزدا ٹرک اور دو ہزار کلو دھماکہ خیز مواد‘ کی برآمدگی: حکام کا کراچی میں تخریب کاری کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ

بی بی سی اردو  |  Jan 05, 2026

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مبینہ 'تخریب کاری کے ایک بڑے منصوبے' کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا کہ اس میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کرکے 200 کلوگرام سے زائد بارودی مواد قبضے میں لے لیا ہے۔ برآمد کیا گیا ہے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی سندھ (سی ٹی ڈی) کے ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی اظفر مہیسر نے پیر کے روز ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کمانڈر بشیر زیب گروپ اور مجید بریگیڈ سے ہے اور اس تمام تر کارروائی کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ جو دھماکہ خیز مواد ملا وہ بالکل تیار حالت میں تھا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر نے بتایا کہ اس کارروائی کو پاکستان کی 'پریمیئر انٹیلیجنس ایجنسی (آئی ایس آئی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے مکمل کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ 'قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اندرونی اور بیرونی انٹیلیجنس ذرائع سے معلوم ہوا کہ شدت پسندوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر کوئی مکان یا جگہ کرائے پر لے کر بارودی مواد رکھا ہے تاکہ کراچی شہر میں مختلف اہداف پر حملے کر کے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ یہ اطلاع موصول ہونے کے بعد ایجنسیوں، سی ٹی ڈی اور سندھ اور بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'اطلاعات کی بنیاد پر کراچی کی مغربی سرحد پر توجہ مرکوز کی گئی، کئی دنوں کی تگ و دو کے بعد رئیس گوٹھ (کراچی) میں دہشت گردوں کے ایک خفیہ ٹھکانے کا پتا چلا جہاں بارود اور دیگر تباہ کُن مواد موجود تھا۔'

'اس مقام پر پریمیئر انٹیلیجنس ایجنسی اور سی ٹی ڈی کی جانب سے مشترکہ چھاپہ مارا اور وہاں سے ایک شدت پسند کو گرفتار کیا گیا جبکہ تین سے چار شدت پسند وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب رہے جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں شروع کر دی گئیں۔ اُس مقام سے ایک مزدا ٹرک، جو دھماکہ خیز مواد سے بھرا ہوا تھا اور حملے کے لیے تیار تھا، قبضے میں لیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ 30 سے زائد پلاسٹک کے بڑے ڈرم جن میں دھماکہ خیز موجود تھا وہ بھی اس مقام سے برآمد کیے گئے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'اس کے علاوہ وہاں سے پانچ بڑے سلینڈر، جو بارودی مواد سے بھرے تھے، جبکہ دو ہزار کلوگرام بارودی مواد بشمول ڈیٹونیٹرز وغیرہ قبضے میں لیے گئے۔'

سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار شدت پسند کی نشاندہی پر کراچی کے چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے جن میں دو مزید دہشت گرد گرفتار ہوئے۔ 'بم ڈسپوزل سکواڈ کے عملے نے تمام تر بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس پورے نیٹ ورک کو کیفر کردار پہنچانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ ملنے والے بارودی مواد میں سے کچھ مقدار کمرشل دھماکہ خیز مواد کی ہے جس میں مکسنگ کر کے اسے کراچی میں آئی ای ڈی کی شکل دی گئی۔ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ اس بارودی مواد کو بلوچستان کے پہاڑی راستوں سے خفیہ طریقے سے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

پاکستان انسٹٹیوٹ آف پیس سٹڈیزکی سالانہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال (2025) پاکستان میں قوم پرست عسکریت پسند تنظیموں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا اور اس دورانیے میں مجموعی طور پر 234 حملے ہوئے جن میں 339 افراد ہلاک اور 476 زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابقسندھ میں سندھو دیش ریولیوشنری آرمی سے منسوب پانچ حملوں کے علاوہ، بلوچ عسکریت پسند گروہوں نے مجموعی طور پر 229 حملے کیے جن میں سے 225 بلوچستان میں جبکہ چار سندھ میں ہوئے۔

مجید بریگیڈ کیا ہے اور امریکہ کی جانب سے اسے ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیے جانے کا کیا مطلب ہے؟بلوچ لبریشن آرمی: غیر معروف گروپ سے خطرناک شدت پسند تنظیمشاری کی مجید بریگیڈ میں شمولیت اور فدائی مشن کے بارے میں جانتا تھا: ہیبتان بلوچشاری بلوچ کے اہلخانہ کو اب بھی لگتا ہے ’جیسے یہ کوئی بُرا خواب ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More