AFP65 سالہ رضا پہلوی امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن وہ ایران کے معاملات پر اظہار خیال کرتے رہتے ہیں
ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں میں شدت لانے کے لیے ملک بھر میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں۔
سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد معزول ہونے والے شہنشاہ ایران کے بڑے بیٹے رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ ایران میں اِس وقت جاری احتجاج ’بے مثال‘ ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اس احتجاج سے حکومت سخت خوفزدہ ہے اور ایک بار پھر انٹرنیٹ بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ احتجاج کو روکا جا سکے۔
اپنے ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’میں صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے ایرانی حکومت کو جوابدہ بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔‘
رضا پہلوی نے مغربی ممالک کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی رہنما اپنی خاموشی توڑیں اور ایرانی عوام کی حمایت میں کُھل کر سامنے آئیں۔ میں دنیا کے تمام رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دستیاب تکنیکی، مالی اور سفارتی وسائل استعمال کریں تاکہ ایرانی عوام سے رابطہ بحال کیا جا سکے، اُن کی آواز سنی جائے اور ان کی خواہشات کو دیکھا جا سکے۔ میرے بہادر ہم وطنوں کی آواز کو خاموش نہ ہونے دیں۔‘
خیال رہے کہ ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ کے خلاف گذشتہ 13 روز سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق لگ بھگ تین درجن کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس احتجاج کا دائرہ کار ایران کے تمام 31 صوبوں کے 100 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں پھیل گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایران سے آنے والی بہت سے ویڈیوز، جن کی تصدیق بی بی سی نے کی ہے، میں لوگ رہبر اعلیٰ کے خلاف اور شاہ ایران کی حمایت میں نعرے لگاتے نظر آئے۔
تو امریکہ میں مقیم ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟ اور وہ اپنے ملک کے سیاسی مستقبل میں اپنے لیے کیا امکانات دیکھ رہے ہیں؟
رضا پہلوی کو پیدائش کے بعد سے ہی اپنے والد (شاہ ایران) کے جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ سنہ 1979 میں وہ امریکہ میں لڑاکا طیارہ اُڑانے کی تربیت حاصل کر رہے تھے، جب انقلاب کے دوران اُن کے والد رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کو ختم کر دیا گیا۔
رضا شاہ پہلوی کو امریکہ سمیت مغربی اتحادیوں کی حمایت حاصل تھی اور وہ انقلاب کے دوران کسی دوسرے ملک میں پناہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ سنہ 1980 میں مصر میں کینسر کی وجہ سے اُن کی موت ہو گئی تھی۔
شاہ کی وفات کے بعد اُن کے خاندان کے لیے بھی نہ ختم ہونے والی مشکلات کا آغاز ہوا، یہاں تک کہ دوست ممالک نے بھی اُنھیں پناہ دینے سے گریز کیا اور وہ امریکہ اور برطانیہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
Getty Images65 سالہ رضا پہلوی اپنے ملک کے سیاسی مستقبل میں کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں
ولی عہد رضا پہلوی کی چھوٹی بہن لیلی پہلوی نے 33 سال کی عمر میں برطانیہ میں جلا وطنی کے دوران خود کشی کر لی تھی جبکہ اُن کے ایک بھائی علی رضا پہلوی نے بھی سنہ 2011 میں خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
بہن، بھائی کی وفات کے بعد رضا پہلوی کو ہی شاہ ایران کے خاندان کے علامتی سربراہ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
اب ایران کے موجودہ حالات کے تناظر میں 65 سالہ رضا پہلوی اپنے ملک کے سیاسی مستقبل میں کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی کے قریب ایک پُرسکون مضافاتی علاقے میں مقیم رضا پہلوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ اُنھیں اکثر قریبی چائے خانوں میں محو گفتگو دِیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ اپنے سیاسی خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
تہران میں ’ٹرمپ‘ سٹریٹ پر امریکہ کا خیرمقدم اور مظاہرین کی جانب سے قاسم سلیمانی کا مجسمہ زمین بوس کرنے کی وائرل ویڈیوزخامنہ ای کے خلاف نعرے اور ’پابندیوں کے سوداگروں‘ پر غصہ: کیا ایران میں جاری احتجاج سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے؟جب شاہ ایران نے مغرب کو متنبہ کیا کہ ’ہمیں پرشیا نہ پکارا جائے‘’شیرِ پنجشیر‘ احمد شاہ مسعود کا قتل: ’صحافیوں نے کیمرہ سامنے رکھا اور پھر ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی‘
وہ اپنی اہلیہ یاسمین کے ہمراہ بغیر کسی سکیورٹی کے علاقے میں گھومتے پھرتے ہیں۔
سنہ 2022 ایک راہگیر نے اُن سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ ایران میں اپنا کوئی سیاسی مستقبل دیکھتے ہیں؟ اس پر اُنھوں نے کہا تھا کہ ’تبدیلی اندر سے ہی آنی چاہیے۔‘
ایک اہم موڑ
حالیہ برسوں، بالخصوص گذشتہ برس اسرائیل کے ایران پر حملے اور کئی سینیئر ایرانی جرنیلوں کی ہلاکت کے بعد اُن کے لہجے میں تبدیلی آئی ہے۔
اسرائیلی حملوں کے بعد پیرس میں نیوز کانفرنس کے دوران اُنھوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر ایران میں حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو وہ عبوری حکومت کی قیادت میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اُنھوں نے اس دوران عبوری حکومت کے لیے 100 روزہ منصوبے کا خاکہ بھی پیش کیا تھا۔ پہلوی کا کہنا تھا کہ جلاوطنی نے اُن کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور وہ اب بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ وہ اپنے اس منصوبے کو اپنے والد کا ’نامکمل مشن‘ قرار دیتے ہیں۔
پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پہلوی کا کہنا تھا کہ ’اُن کا منصوبہ ماضی کو بحال کرنے کا نہیں ہے، بلکہ یہ تمام ایرانیوں کے جمہوری مستقبل کو محفوظ بنانے کے بارے میں ہے۔‘
شاہی پرورشUPI/Bettmann Archive/Getty Imagesرضا پہلوی تہران میں 1967 میں اپنے والد کی تاجپوشی کے موقع پر
ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا پہلوی کی پہلی دو شادیوں کے نتیجے میں مرد وارث (اولاد نرینہ) پیدا نہیں ہو سکا تھا، جس کے بعد اُن کی تیسری بیوی فرح دیبا سے رضا پہلوی پیدا ہوئے۔
سنہ 1960 میں پیدا ہونے والے رضا پہلوی کی پرورش شاہی انداز سے ہوئی اور شروع سے ہی اُنھیں ولی عہد کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
17 سال کی عمر میں اُنھیں لڑاکا طیارہ اُڑانے کی تربیت کے لیے امریکہ بھیجا گیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ وطن واپس آتے، انقلاب کے نتیجے میں اُن کے والد کی حکمرانی ختم ہو گئی۔
ایرانی انقلاب کے بعد سے ہی رضا پہلوی امریکہ میں مقیم ہیں، اُنھوں نے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں اُنھوں نے ایرانی نژاد امریکی شہری یاسمین سے شادی کی۔ رضا پہلوی کی نور، ایمان اور فرح نامی تین بیٹیاں ہیں۔
تقسیم کرنے والی میراث
ایران میں بادشاہت کی بحالی کے حامی، رضا پہلوی کو بادشاہت کے طاقتور اُمیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
بہت سے ایرانی بادشات کو جدیدیت اور مغرب سے قریبی تعلقات کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ اس دور میں بھی سینسر شپ، اختلاف رائے کو دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
گذشتہ برسوں میں ایران میں رضا پہلوی کی مقبولیت میں اُتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ سنہ 1980 میں اُنھوں نے قاہرہ میں ایک علامتی تاجپوشی کی تقریب بھی منعقد کی اور خود کو نیا شاہ قرار دیا، لیکن اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔
اُنھوں نے حزبِ اختلاف کا اتحاد بنانے کی متعدد کوششیں کیں، جن میں ایران کی ’نیشنل کونسل فار فری الیکشنز‘ بھی شامل ہے، جس کا آغاز سنہ 2013 میں کیا گیا تھا۔ زیادہ تر کو اندرونی اختلافات اور ایران کے اندر محدود رسائی کا سامنا کرنا پڑا۔
کچھ جلاوطن اپوزیشن گروپس کے برعکس پہلوی نے مسلسل تشدد کو مسترد کیا اور خود کو مسلح دھڑوں بشمول ’مجاہدین خلق‘ سے دُور رکھا۔
اُنھوں نے کئی بار ایران کے مستقبل کے سیاسی نظام کا فیصلہ کرنے کے لیے پرامن انتقال اقتدار اور قومی ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔
بیرون ملک تنازعEPA-EFE/REX/Shutterstockسنہ 2023 میں اسرائیل کے متنازع دورے پر رضا پہلوی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا
پہلوی کو حالیہ برسوں میں سنہ 2017 میں اُس وقت توجہ ملی جب حکومت مخالف مظاہروں کے دوران اُن کے دادا کے حوالے سے یہ نعرے لگے کہ ’رضا شاہ، آپ کی روح مبارک ہو۔‘
سنہ 2022 میں پولیس کی حراست میں مہسا امینی کی ہلاکت نے ملک گیر مظاہروں کو بھڑکا دیا، جس کے بعد اُنھوں نے دوبارہ میڈیا کی توجہ حاصل کی۔
ایران کی بکھری ہوئی اپوزیشن کو متحد کرنے کی اُن کی اس کوشش نے محتاط عالمی توجہ حاصل کی۔ لیکن وہ اسے زیادہ منظم کرنے میں ناکام رہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چار دہائیوں سے بیرون ملک مقیم رضا پہلوی کسی پائیدار تنظیم کی بنیاد نہیں ڈال سکے۔
سنہ 2023 میں اسرائیل کے ایک متنازع دورے نے اُن سے متعلق رائے کو مزید تقسیم کیا۔ اُنھوں نے اسرائیل میں نہ صرف ہولو کاسٹ کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی، بلکہ اُنھوں نے وزیر اعظم نتن یاہو سے بھی ملاقات کی۔
کچھ ایرانیوں نے اسے عملی رسائی جبکہ دوسروں نے اسے ایران کے عرب اور مسلم اتحادیوں کو الگ کرنے کے طور پر دیکھا۔
گذشتہ برس ایران میں اسرائیل حملوں کے بعد اُنھیں مزید مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
بی بی سی کی لورا کوئنس برگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ ’کیا وہ اسرائیلی حملوں کی حمایت کرتے ہیں جس سے شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو‘؟
اُنھوں نے موقف اختیار کیا کہ ان حملوں میں عام ایرانی ہدف نہیں تھے اور جو بھی چیز ایرانی حکومت کو کمزور کرتی ہے، اس کا عام ایرانی خیر مقدم کرے گا۔
اُن کے اس تبصرے نے شدید ردعمل کو جنم دیا تھا۔
Getty Imagesرضا پہلوی نے اپریل 2023 میں نتن یاہو سے ملاقات کی تھیغیر یقینی مستقبل
آج پہلوی خود کو ایک بادشاہ کے طور پر پیش کرنے کے بجائے قومی مفاہمت کے لیے ایک رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ وہ ایران کو آزادانہ انتخابات، قانون کی حکمرانی اور خواتین کے مساوی حقوق کی طرف رہنمائی کرنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔
اُن کا یہ موقف رہا ہے کہ بادشاہت کی بحالی یا جمہوریت کے بارے میں حتمی فیصلہ ووٹرز پر چھوڑنا ہو گا۔
اُن کے حامی اُنھیں ایران میں پرامن تبدیلی کے لیے اپوزیشن کی واحد شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن اُن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اُنھیں دوسرے ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے۔
ناقدین یہ بھی سوال اُٹھاتے ہیں کہ ایرانی شہری جو کئی دہائیوں کے سیاسی بحران سے تھک چکے ہیں، کیا کسی جلاوطن رہنما پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اگرچہ ایران کی حکومت اُنھیں ایک خطرے کے طور پر دیکھتی ہے، لیکن ایک قابل اعتبار الیکشن کے بغیر اُنھیں حاصل حمایت کا تعین کرنا مشکل ہے۔
کچھ ایرانی اب بھی اس خاندان کا احترام کرتے ہیں، لیکن بہت سے ایرانی جمہوریت کی آڑ میں ایک غیر منتخب حکمران سے بھی خوفزدہ ہیں۔
پہلوی کے والد قاہرہ میں دفن ہیں، لیکن اُن کے حامی اس بات کے منتظر ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب اُنھیں ایران منتقل کیا جائے گا۔
کیا جلاوطن ولی عہد کبھی وہ دن دیکھیں گے۔۔۔ ایک آزاد ایران۔۔ یہ ایک ایسی قوم کے بارے میں لاتعداد سوالات کو جنم دیتی ہے جو اب بھی اپنے ماضی سے لڑ رہی ہے۔
تہران میں ’ٹرمپ‘ سٹریٹ پر امریکہ کا خیرمقدم اور مظاہرین کی جانب سے قاسم سلیمانی کا مجسمہ زمین بوس کرنے کی وائرل ویڈیوزجب شاہ ایران نے مغرب کو متنبہ کیا کہ ’ہمیں پرشیا نہ پکارا جائے‘’رضا شاہ پہلوی کو ایران ہی میں دوبارہ احترام کے ساتھ دفن کیا جائے‘رضا پہلوی کی جلا وطنی سے ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب تک: ایران امریکہ دوستی دشمنی میں کیسے بدلی؟انقلابِ ایران کی وہ شخصیات جو امام خمینی کے ہمراہ تھیںجب دوران پرواز آیت اللہ خمینی کو بتایا گیا کہ ایران کی فضائیہ طیارے کو مار گرانا چاہتی ہے