جموں کے ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کی اکثریت پر تنازعے کے بعد ایم بی بی ایس کی تعلیم کا اجازت نامہ منسوخ

بی بی سی اردو  |  Jan 09, 2026

انڈیا کے نیشنل میڈیکل کمیشن نے جموں میں واقع ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کو ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے دیا گیا اجازت نامہ منسوخ کر دیا ہے۔

یہ وہی میڈیکل کالج ہے جسے گذشتہ برس ہی طب کی تعلیم دینے کی اجازت ملی تھی تاہم اس کے پہلے بیچ کے داخلہ ٹیسٹ میں مقررہ 50 نشستوں میں سے 42 پر مسلمان امیدواروں کی کامیابی کے بعد انڈیا کی حکمران جماعت جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ کئی ہندو تنظیموں نے اس یونیورسٹی میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

این ایم سی انڈیا میں طبی تعلیم اور ڈاکٹروں کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی نگرانی کرنے والا ادارہ ہے اور ملک میں میڈیکل کورسز کرنے کے لیے اس کی اجازت لازمی ہے۔

این ایم سی کے حکم کے بعد جہاں ایک طرف ہندو تنظیموں نے جشن منایا ہے وہیں دوسری طرف اس کالج میں زیر تعلیم طلبہ کے مستقبل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

این ایم سی نے دو جنوری کو کالج کا اچانک معائنہ کیا تھا اور چھ جنوری کو کالج میں ایم بی بی ایس کورس چلانے کی اجازت واپس لینے کا حکم جاری کیا گیا۔

نیشنل میڈیکل کمیشن کا کہنا ہے کہ ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کے انتظام و انصرام میں کئی خامیاں پائی گئی ہیں۔ کمیشن نے انسٹی ٹیوٹ کے بنیادی ڈھانچے میں سنگین خامیوں کا حوالہ دیا، جس میں فیکلٹی کی تعداد، طبی مواد اور دیگر عوامل شامل ہیں۔

ادھر جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر میڈیکل کالج میں خامیاں ہیں تو ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے۔ جمعرات کو جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’آپ کو یونیورسٹی (شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی) اور اس کے عہدیداروں سے اوپر سے نیچے تک سوال کرنا چاہیے کہ اگر آپ نے میڈیکل کالج قائم کیا ہے تو اس نے این ایم سی کا انسپیکشن کیوں نہیں پاس کیا؟‘

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت متاثرہ طلبہ کے دیگر میڈیکل کالجوں میں داخلے کا انتظام کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ طلبہ کو ان کے گھروں کے قریب واقع کالجوں میں داخلہ دیا جائے گا۔ این ایم سی نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا تھا کہ متاثرہ طلبہ کو دوسرے کالجوں میں داخلہ دلانے کے انتظامات کیے جائیں۔

’یونیورسٹی میں داخلہ اسی کو ملے جو ماتا سے عقیدت رکھتا ہو‘

یاد رہے کہ حال ہی میں یونیورسٹی میں 50 نشستوں کے لیے منعقد ہوئے داخلہ امتحانات میں 42 مسلمان امیدواروں کی کامیابی کے بعد بی جے پی نے ایک میمورنڈم (یادداشت) انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے گورنر اور یونیورسٹی کے چانسلر منوج سنہا کو دی تھی۔

اس میمورنڈم میں مطالبہ کیا تھا کہ ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں تمام داخلوں کو ہندوؤں کے لیے مخصوص کیا جائے۔

بی جے پی کی جانب سے جمع کروائے گئے میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ’اس سال میڈیکل کی داخلہ فہرست میں اکثریت ایک خاص فرقے (مسلمان) سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔‘

’یہ یونیورسٹی ایک مذہبی ادارہ ہےاور لوگوں کو اس ادارے سے عقیدت ہے۔ یونیورسٹی عقیدت مندوں کے چندے سے چلتی ہے، وہ اس لیے چندہ دیتے ہیں تاکہ اُن کے عقیدے کو فروغ ملے۔ لیکن یونیورسٹی کے بورڈ نے اس بات کو نظرانداز کیا۔‘

’ہم نے لیفٹیننٹ گورنر پر واضح کر دیا ہے کہ ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں داخلہ اُسی کو ملے گا جو ماتا کے ساتھ مذہبی عقیدت رکھتا ہو۔‘

یہ متنازع یادداشت ایک ایسے وقت میں جمع کروائی گئی جب نئی دہلی میں لال قلعہ دھماکے میں ملوث مبینہ خودکش حملہ آور کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ ایک کشمیری ڈاکٹر تھے۔

Getty Images حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اور کئی اپوزیشن پارٹیوں نے اس میمورنڈرم کو گورنر کی طرف سے وصول کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے’مذہبی ادارہ ہسپتال بنائے گا تو کیا ایک ہی مذہبی گروہ کا علاج ہو گا؟‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اور کئی اپوزیشن پارٹیوں نے اس میمورنڈرم کو گورنر کی طرف سے وصول کرنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق نے اس مطالبے کو مذہبی منافرت پھیلانے کا حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’پورے ملک میں مختلف مذاہب متعدد تعلیمی ادارے چلاتے ہیں، جہاں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے طلبا پڑھتے ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں صرف مسلمان نہیں جاتے، وہاں اپنی قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر بلالحاظ مذہب لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے، آج تک اس پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔‘

’کشمیری گولڈ‘: سونے جتنے مہنگے مسالے ’زعفران‘ کے کھیتوں میں اب سیب کیوں اُگائے جا رہے ہیں؟تیجس طیارہ گِر کر تباہ اور انڈین پائلٹ کی ہلاکت: عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟جب مرکزی بینک کے افسران کے بھیس میں آئے بہروپیوں نے کیش وین سے سات کروڑ روپے لوٹ لیے’ایک عورت تمام سکھ خواتین کی نمائندگی نہیں کرتی‘: انڈین خاتون سربجیت کور کی شادی اور غیر شادی شدہ خواتین کو پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ

تنویر صادق نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو کسی ایک مذہب کے لیے مختص کرنے سے پورا ملک تقسیم ہو جائے گا۔

’کل کو مذہبی اداروں کی فنڈنگ سے چلنے والے ہسپتال میں کیا علاج صرف ایک ہی مذہب کے لوگوں کا ہو گا؟ کیا صلاحیت کو نظرانداز کر کے اکثریتی بالادستی کو تسلیم کیا جائے گا؟ ایسی زہریلی سیاست کو ترک کر دینا چاہیے، اس سے پہلے کہ ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے۔‘

اپوزیشن رہنما اور رُکن اسمبلی سجاد غنی لون نے اس مطالبے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ میڈیکل سائنس کو مذہبی رنگ دینا ایک خطرناک رجحان ہے۔

’پوری دنیا کے جن سائنس دانوں نے اپنی ایجادات اور تحقیق سے انسانیت کو فائدہ پہنچایا وہیہ دیکھ کر اپنی قبروں میں اس وقت بے قرار ہوں گے کہ نیم خواندہ سیاسی لیڈر کس طرح میڈیکل سائنس کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔‘

’ہر انسان کے خیالات کا احترام‘Getty Imagesتنویر صادق: ’تعلیمی اداروں کو کسی ایک مذہب کے لیے مختص کرنے سے پورا ملک تقسیم ہو جائے گا‘

واضح رہے کہ ویشنو دیوی کا مندر کشمیر کے جنوبی خطہ جموں میں کٹرہ کی ایک بلند پہاڑی پر واقع ہے۔

پورے انڈیا کے ہندو عقیدت مند ہر سال لاکھوں کی تعداد میں یہاں آتے ہیں اور اربوں روپے کا چندہ بھی جمع ہوتا ہے۔

سنہ 1999 میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی اسمبلی میں ایک قانون کو منظور کیا گیا تھا جس کے تحت ماتا ویشنو دیوی سے منسلک ایک تعلیمی ادارے کو باقاعدہ یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا اور انڈیا کے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے اسے تسلیم کر لیا۔

گذشتہ دہائیوں کے دوران اس یونیورسٹی سے سینکڑوں سائنسدان، ڈاکٹر اور انجینیئرز بلا لحاظ مذہب اور رنگ و نسل تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

’اپنی پارٹی‘ کے سربراہ الطاف بخاری نے ایک بیان میں بی جے پی کے اس مطالبے کو غیرفطری قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا ’ہمارے یہاں مسلمانوں کے ادارے بھی ہیں، اسی منطق کا اطلاق اگر کل کو اسلامی یونیورسٹی اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے داخلوں پر کیا جائے تو پھر کیا ہو گا؟‘

یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ہندومذہب یا ماتا ویشنو دیوی سے عقیدت کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے۔

تاہم یونیورسٹی کے مِشن اور اقدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی ’دانشورانہ دیانت اور جوابدہی پر یقین رکھتی ہے۔ یہ ادارہ ہر انسان کے خیالات پر احترام اور برداشت کا مظاہرہ کرے گا۔‘

Getty Images10 نومبر کو نئی دہلی میں ہونے والے خودکش کار بم دھماکے کی تحقیقات میں کئی کشمیری ڈاکٹروں کا نام سامنے آیا تھا

واضح رہے کہ 10نومبر کو نئی دہلی میں ہونے والے خودکش کار بم دھماکے کی تحقیقات میں کئی کشمیری ڈاکٹروں کے نام سامنے آئے تھے۔

انڈیا کی وفاقی ایجنسی این آئی اے نے اسے 'وائٹ کالر ٹیرر ماڈیول' قرار دیا تھا۔ اس واقعے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر بعض بی جے پی کے حامی حلقوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ انڈین اداروں میں کشمیری اور انڈین مسلم طلبا کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔

اسی دوران جموں میں بی جے پی کے رہنما اور رکن اسمبلی سُنیل شرما نے کئی پریس کانفرنسز میں کہا تھا کہ جموں کی ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں ’ہندوؤں کا مفاد نظرانداز کیا جا رہا ہے‘

مئی کی لڑائی میں ’پاکستان کی کامیابی‘ کا دعویٰ اور چین پر الزام: امریکی کمیشن کی رپورٹ جس کا چرچا انڈیا میں بھی ہو رہا ہےجیولن اور ایکس کیلیبر: امریکہ نے انڈیا کو کون سے جدید جنگی ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے؟ایران نے انڈین شہریوں کی ملک میں ویزا فری انٹری کیوں بند کی؟پاکستان آ کر ’اسلام قبول اور شادی‘ کرنے والی انڈین خاتون کو ہراساں نہ کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کو حکمدہلی دھماکے میں ملوث ’مبینہ خودکش بمبار‘ کی شناخت ظاہر کردی گئی، کشمیر میں خاندانی گھر مسمار100 روپے رشوت لینے کا ملزم 39 سال بعد باعزت بری، ’انصاف ملا مگر بیوی چلی گئی، سب کچھ کھو دیا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More