بنگلہ دیشی بورڈ کے ڈائریکٹر کا متنازع بیان جس پر کھلاڑیوں نے پریمیئر لیگ کا میچ کھیلنے سے ہی انکار کر دیا

بی بی سی اردو  |  Jan 15, 2026

ویسے تو آج میرپور میں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے دو میچز ہونے تھے مگر دونوں کو ہی ملتوی کر دیا گیا۔

چٹاگانگ چیلنجرز اور نواکھالی ایکسپریس کے درمیان پہلا میچ مقامی وقت کے مطابق دن ساڑھے 12 بجے شروع ہونا تھا مگر ٹاس کے وقت تک دونوں ٹیمیں گراؤنڈ ہی نہیں پہنچیں۔

بی پی ایل کے میچ ریفری شپر احمد نے کرک انفو کو بتایا کہ ’ہم گراؤنڈ میں موجود ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم ہو کیا رہا ہے۔‘

معاملات اس وقت بگاڑ کا شکار ہوئے جب بدھ کو بنگلہ دیشی بورڈ کے ڈائریکٹر ناظم الاسلام کے ایک بیان پر کرکٹرز نے احتجاج کیا اور تمام سرگرمیوں سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

مگر اب بورڈ نے متنازع بیان پر ناظم الاسلام کو کام سے روک دیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔

متنازع بیان کیا تھا اور کرکٹرز نے بائیکاٹ کیوں کیا؟

بنگلہ دیشی کرکٹرز نے ’ناظم الاسلام کے استعفے تک‘ بی پی ایل سمیت ہر طرح کی کرکٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی، جس کی وجہ سے جمعرات کو بی پی ایل کے میچز بھی نہ ہو سکے۔

ناظم الاسلام نے سابق بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی جانب سے ٹیم انڈیا نہ بھیجنے کے فیصلے پر تنقید کے جواب میں کہا تھا کہ ’بنگلہ دیشی کرکٹر اب تک کوئی بھی ورلڈ کپ نہیں جیت سکے حالانکہ ان پر بھاری سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے۔‘

بنگلہ دیش کی کرکٹرز ایسوسی ایشن (سی اے بی) نے جمعرات کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ٹیم انڈیا نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق کرکٹ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ مسئلے کو حل کیے بغیر وقت ضائع کر رہا ہے۔

کرکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد متھن نے کہا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کے بیانات سے نہ صرف کرکٹرز بلکہ کرکٹ سے جڑے ہر ایک شخص کی توہین ہوئی۔

بنگلہ دیشی کرکٹر مہدی حسن میراز کا کہنا تھا کہ ناظم الاسلام کے بیان نے پوری کرکٹ کمیونٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ ’ایسے ذمہ دار عہدیدار سے اس نوعیت کے بیانات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘

کرکٹرز ایسوسی ایشن کی پریس کانفرنس سے قبل ہی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ناظم الاسلام کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا تاہم نیوز کانفرنس کے بعد اُنھیں کام کرنے سے روک دیا گیا۔

پھر جمعرات کو بی پی ایل کا میچ شروع نہ ہو سکا جس کے بعد بورڈ نے اعلان کیا کہ ’ادارے کے مفاد میں‘ ناظم الاسلام کی فنانس کمیٹی کی تمام ذمہ داریاں واپس لی جا رہی ہیں۔

بورڈ نے موجودہ حالات کو ’مشکل‘ قرار دیا ہے اور کھلاڑیوں سے درخواست کی کہ وہ بی پی ایل میں شمولیت جاری رکھیں۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ سے ریلیز کرنے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی ٹیم انڈیا بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مابین ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

بی سی بی نے اب باقاعدہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ آئی سی سی اور اس کے حکام کے درمیان ویڈیو کانفرنس پر گفتگو ہوئی۔

بی سی بی کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ اس نے آئی سی سی کے سامنے اپنا موقف دُہرایا کہ وہ سکیورٹی خدشات کے سبب اپنی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے انڈیا نہیں بھیجنا چاہتا تاہم آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کا شیڈول جاری کیا جا چکا ہے اور بی سی بی کو چاہیے کو وہ اپنے موقف پر نظرِثانی کرے۔

ناظم الاسلام بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی تنقید کی زد میں کیوں آئے؟

بنگلہ دیش کی جانب سے انڈیا میں ورلڈ کپ کے میچز نہ کھیلنے کے اعلان پر سابق کھلاڑی بھی تبصرے کر رہے تھے۔ ایسا ہی ایک بیان تمیم اقبال کی جانب سے بھی آیا تھا، جس میں اُنھوں نے کرکٹ بورڈ پر زور دیا تھا کہ وہ انڈیا میں نہ کھیلنے کے فیصلے پر جذبات سے کام نہ لے۔

تمیم اقبال کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو اس معاملے پر بیان بازی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ناظم الاسلام نے ڈھاکہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے کرکٹرز عالمی میدان میں ’ایک بھی عالمی کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، حالانکہ ان کے اُوپر بھاری سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔‘

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے قومی کرکٹرز سے کروڑوں ٹکے بھی واپس لیے جانے چاہییں جو بورڈ اب تک اُن پر خرچ کر چکا۔

اُنھوں نے بنگلہ دیش کے سابق اوپنر تمیم اقبال کو ’انڈین ایجنٹ‘ بھی قرار دیا تھا، جس پر بنگلہ دیش کے موجودہ اور سابق کرکٹرز کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔

ناظم الاسلام کا مزید کہنا تھا کہ اگر بنگلہ دیش ورلڈ کپ نہیں بھی کھیلتا تو اس سے بورڈ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ان پر اتنے پیسے خرچ کر رہے ہیں، وہ مختلف جگہوں پر کچھ نہیں کر پا رہے۔ کیا ہمیں کوئی انٹرنیشنل ایوارڈ ملا؟ ہم نے کسی بھی سطح پر کیا کیا؟ ہر بار جب وہ نہیں کھیل سکے تو کیا ہم ان سے پیسے واپس مانگتے ہیں؟

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق سابق کپتان محمد اشرفل نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کھلاڑیوں پر عوامی سطح پر تنقید کرنے سے ٹیم کے مورال پر منفی اثر پڑتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات پر نجی سطح پر بات چیت ہونی چاہیے، کھلے عام اس پر اظہار خیال کرنے سے بنگلہ دیش کرکٹ کو نقصان ہو گا۔

انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش کے ’سکیورٹی خدشات‘ اور پاکستانی نژاد امریکی کرکٹرز کو ویزے نہ ملنے کی اطلاعاتآئی سی سی نے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا: بنگلہ دیشی بورڈ’خوف زدہ کر دینے کی حد تک‘ تیز بولر جنھیں شعیب اختر جیسی شہرت نہ مل سکیآٹھ گیندوں پر آٹھ چھکے اور صرف نو منٹ میں نصف سنچری بنانے والے انڈین کھلاڑی کون ہیں؟

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نےگذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنی ٹیم کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے انڈیا نہیں بھیج سکتے، لہذا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بنگلہ دیش کے میچز کسی اور مقام پر منتقل کر دے۔

سات فروری 2026 سے شروع ہونے والی ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبائی انڈیا اور سری لنکا کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان بھی ورلڈ کپ کے اپنے تمام میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گا۔

بنگلہ دیش کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا، جب انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے عوامی مخالفت اور تنقید کے بعد بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمن کو انڈین پریمیئر لیگ سے ریلیز کر دیا تھا۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز، بورڈ ممبران اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی حفاظت کے لیے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ٹیم ایک محفوظ اور مناسب ماحول میں ٹورنامنٹ میں شرکت کر سکے، یہ اقدام ضروری ہے۔

شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش کی ٹیم نے اپنے گروپ مرحلے کے چاروں میچز انڈیا میں کھیلنے ہیں، بنگلہ دیش کی ٹیم سات فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلے گی۔

Getty Imagesانڈیا میں بنگلہ دیش کے بارے میں منفی جذبات کی وجہ کیا؟

یوں تو بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی خراب ہیں لیکن گذشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہندو شخص کی ہلاکت نے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔

اب دونوں ہمسایہ ممالک تواتر سے ایک دوسرے پر تعلقات خراب کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں، ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں اور عوامی سطح پر بیانات جاری کیے جا رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ہندو شخص کو اُس وقت ہلاک کیا گیا جب دارالحکومت ڈھاکہ میں طالبعلم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد پُرتشدد مظاہرے کیے جا رہے تھے۔

انڈیا، شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے ہی بنگلہ دیش میں اقلیتوں اور بالخصوص ہندو کمیونٹی پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا رہا ہے۔

ملتان سلطانز کی نیلامی کے اشتہار پر علی ترین کا طنز: ’جب آپ کی ایکس کی دوبارہ شادی ہو رہی ہو‘انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش کے ’سکیورٹی خدشات‘ اور پاکستانی نژاد امریکی کرکٹرز کو ویزے نہ ملنے کی اطلاعات’خوف زدہ کر دینے کی حد تک‘ تیز بولر جنھیں شعیب اختر جیسی شہرت نہ مل سکیجب وسیم اکرم نے بابر اعظم سے سوال کرتے ہوئے پی ایس ایل میں ’روٹی‘ کا قصہ سنایاکرفیو میں پاکستانی ٹیم کی ٹریننگ، تمل ٹائیگرز کا خوف اور رانا ٹنگا کے آنسو: نوے کی دہائی کی یادیں اور ’وہ قرض جو سری لنکا آج چُکا رہا ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More