دو شاہانہ شادیوں کے بیچ عبداللہ دیوانہ

بی بی سی اردو  |  Jan 21, 2026

کراچی کے کمرشل گنجان گُل پلازہ میں آتشزدگی نہ ہوتی تو شاید آج بھی سوشل اور نان سوشل میڈیا پر رائیونڈ میں وزیرِ اعلی مریم نواز اور کیپٹن صفدر اعوان کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی اور کراچی میں فریال تالپور اور میر منور علی تالپور کی صاحبزادی عائشہ کی شادی کی جھلکیاں اور تبصرے ہی چھائے رہتے۔

وجہ شاید یہ ہے کہ اِن دنوں کام کی مصالحے دار خبر کوئی ہے نہیں، اگر ہے بھی تو اسے شرائط و ضوابطکے ساتھ ہی نشر یا شائع کیا جا سکتا ہے۔ بچپن ہمارا شہزادے، شہزادیوں کی کہانیاں پڑھ اور سُن کر گزرا۔ فخر ہم مغلیہ روایات پر کرتے ہیں اور رعایا انگریز کی رہے ہیں۔

مگر ہمارے پاس انگریزوں کی طرح صدیوں میں گڑا دورِ حاضر کا کوئی باضابطہ آئینی شاہی خاندان بھی تو نہیں۔ لے دے کہ دو ہی ایسے بااثر اشرافی سیاسی خاندان میسر ہیں کہ جن کے سہارے ہم وقت، بے وقت اپنے اچھے، بُرے سماجی و سیاسی ارمان نکال لیتے ہیں۔

میرے بچپن کی ایک یاد یہ بھی ہے کہ اگست 1968 میں اُردن کے ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال اور شائستہ اکرام اللہ کی کراچی میں ہونے والی شاہی شادی کی تقریبات سرکاری پی ٹی وی نے مسلسل دکھائیں۔ اُن تقریبات میں فیلڈ مارشل ایوب خان بھی شریک تھے۔

میرے بعد والی نسل کی فوری یادداشت میں شاید 39 برس پہلے کی ایکتقریبہو، یعنی بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کی شادی۔ تب سوشل میڈیا نہیں تھا مگر قومی اخباراتنے اِس شادی کا کم و بیش خیرمقدم کیا کیونکہ بھٹو خاندان میں کئی برس کے دُکھ اور غم کے تسلسل کے بعد یہ پہلی بڑی خوشی تھی۔ اس خوشی کو بھٹو خاندان نے خوشحال کلفٹن سے غریب لیاری کے ککری گراؤنڈ تک پھیلایا۔

Getty Imagesحسن بن طلال اور شائستہ اکرام اللہ

پھر کوئی ایسی سیاسی عوامی شادی دیکھنے میں نہیں آئی مگر میڈیا کو تو کچھ نہ کچھ درکار رہتا ہی ہے اور تب تک سوشل میڈیا بھی لڑکپن میں داخل ہو چکا تھا۔ چنانچہ اور کوئی نہیں ملا تو ہم نے 2010 میں انڈین ٹینس سٹار ثانیہ مرزا اور پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر شعیب ملک کی شادی کو شاہانہ رنگ دینے کی کوشش کی اور کئی روزہ کوریج کے جوش میں بیڈ روم میں لٹکی پھولوں کی لڑیوں تک کی گنتی تک کر ڈالی۔

چنانچہ یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ ان دنوں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید کی دوسری شادی کو لے کر اتنی بحث کاہے کو ہو رہی ہے کہ سوشل میڈیا دو کیمپوں میں بٹالگ رہا ہے۔

ایک خیمے کا خیال ہے کہ یہ خالصتاً نجی معاملہ ہے لہٰذا بیگانی شادی میں کسی عبداللہ کو دیوانہ نہیں ہونا چاہیے۔شریف خاندان میں اس سے پہلے کی شادیاں نہایت خاموشی اور سادگی سے انجام پائیں۔ بھلے وہمریم اور کیپٹن صفدر کی شادی ہو یا مریم کے چچا شہباز شریف اور کزن حمزہ شہباز کی شادیاں ہوں۔ جنید مریم نواز کا اکلوتا بیٹا ہے۔ ماں ارمان نہیں نکالے گی تو کون نکالے گا؟

اور یہ کہ جن جن کالم بازوں اور یوٹیوبر ناصحوں نے جنید کی شادی تقریبات کی کوریج کے لیے اپنے اپنے ٹرائی پوڈز پر کیمروں کے بجائے ایکسرے مشینیں فٹ کی ہوئی ہیں انھیں پنجاب کی شادیوں کے خرچے اور شان و شوکت کا اندازہ ہی نہیں۔

چارٹرڈ طیاروں میں خاص مہمان آتے ہیں۔ پنچ ہزاری نوٹوں کی برسات میں عالشیان مجرے سجتے ہیں، باراتیوں پر ڈالر، یورو اور پاؤنڈ لٹائے جاتے ہیں۔ ایک شادی میں تو آئی فونز تک نچھاور ہو گئے۔ جنید کی شادی میں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، پھر بھی مہندی کے مینیو کا سی ٹی سکین بھی چھاپ دیا گیا۔

آصف زرداری، ’ضیا کے ایجنٹ‘ اور لیاری: جب بے نظیر بھٹو برقعے میں اپنی شادی کی تیاریاں دیکھنے ککری گراؤنڈ پہنچیں’مریم نواز میرے بنائے ہوئے جوڑے میں انتہائی خوبصورت لگ رہی تھیں‘گورنر ہاؤس میں صدر کے بیٹے کی کاروباری تقریب: ’صدر پاکستان کو وضاحت دینی چاہیے‘ایک لاکھ سلامی، دو لاکھ کے ’تحائف‘: مریم نواز کے ’دھی رانی پروگرام‘ میں کیا جہیز کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی؟

مگر جو اصحابِ سوشل میڈیا مخالف کیمپ میں ہیں اُن کی دلیل ہے کہ شریف خاندان کوئی شاہی یا محض امیر صنعتی خانوادہ نہیں بلکہ ایک حکمران سیاسی خاندان ہے جسے اقتدار وراثت میں نہیں بلکہ بادلِ نخواستہ بیلٹ بکس کے توسط سے ملا ہے۔ چنانچہ اپنے حلقہِ انتخاب کے ابتر معیارِ زندگی اور رائے ونڈ کی آنکھیں خیرہ کرنے والی تصاویر کے عوام پر اثرات کو بھی محلِ نظر رکھنا چاہیے۔

اپوزیشن کی اور بات ہے، مگر کسی پبلک فِگر کی ہر ہر ادا اور اظہار عوامی تبصروں کی ملکیت ہے اور اس جا بے جا اظہار کے نتیجے میں، ہر اچھا بُرا پیغام پوری دنیا میں پھیل کر ریاستی امیج تشکیل دیتا ہے۔

ویسے بھی ان دنوں عالمی امرا میں یہ چلن بڑھ رہا ہے کہ وہنجی تقریبات کو میڈیا کی آنکھ سے دور رکھتے ہیں، اپنی تقریباتی تصاویر کے کاپی رائٹس کا اہتمام کرتے ہیں۔ نجی پن کو یقینی بنانے کے لیے گھر سے دور ’ڈیسٹینیشن شادیوں‘کا چلن اسی لیے بڑھ رہا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ اس ساری ککھیڑ کی ذمہ دار پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری ہیں۔ انھوں نے لگ بھگ دو برس پہلے اپنی وزیرِ اعلیٰ کے دفاع میں کہیں کہہ دیا کہ مریم نواز انتہائی سادہ طبیعت ہیں۔ وہ لان کے بھی جو سوٹ پہنتی ہیں ان کی قیمت چھ، آٹھ سو روپے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ مگر میڈم وزیرِ اعلیٰ کا رکھ رکھاؤ ایسا ہے کہ دوسروں کو لگتا ہے جیسے بہت مہنگا لباس پہن رکھا ہو۔

بس پھر کیا تھا کمینے پاپارازی پیچھے ہی پڑ گئے۔ حالیہ سیلاب میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے امدادی دوروں کے پوسٹروں کی دیوانہ وار سرکاری تشہیر سے لے کے ان کی جاپان، سوئٹزر لینڈ اور برازیل یاترا اور اب صاحبزادے کی شادی تقریبات تک کیا کیا حاسدانہ تبصرے نہیں ہوئے۔

اور تو اور موئے سوشل میڈیا نے فریال تالپور کی صاحبزادی عائشہ کی شادی کی کئی روزہ تقریبات کو بھی نیزے کی انی پر رکھ لیا۔ حالانکہ فریال کے پاس کوئی انتظامی و آئینی عہدہ نہیں۔ وہ تو بس اپنے خاندان کی امانت دار ہیں۔ کیا یہ بھی جرم ٹھہرا؟

آصف زرداری، ’ضیا کے ایجنٹ‘ اور لیاری: جب بے نظیر بھٹو برقعے میں اپنی شادی کی تیاریاں دیکھنے ککری گراؤنڈ پہنچیںجب ایک شہزادہ عام سی لڑکی کے لیے بارات لے کر پاکستان آیاراما راجو مانتینا: جینیفر لوپیز سمیت اہم غیرملکی شخصیات کو بیٹی کی شادی میں بلانے والی 'گمنام' انڈین کاروباری شخصیتطالبان کی قید میں خفیہ فون کالز، جن کی بدولت مسلمان لڑکے اور یہودی لڑکی کی محبت زندہ رہیابوظہبی میں ڈیجیٹل نکاح: دنیا کے کسی بھی کونے سے صرف 218 ڈالر میں شادی ممکن’مریم نواز میرے بنائے ہوئے جوڑے میں انتہائی خوبصورت لگ رہی تھیں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More