ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے وحید ’جگری‘ محسود کون تھے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 27, 2026

Getty Imagesشادی کی تقریب کے دوران ہونے والے حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے

گذشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شادی کی تقریب میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے منحرف کمانڈر وحید محسود عرف جگری محسود سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

پولیس نے اسے ایک خودکش حملہ قرار دیا ہے اور اس میں چھ افراد کی ہلاکت اور سات کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

مقامی حکام اور صحافیوں کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے وحید محسود کچھ سال قبل تک کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک تھے۔

شادی کی اس تقریب پر ہونے والے اس حملے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی تھیں۔

ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شادی کی تقریب میں لوگ روایتی رقص ’اتنڑ‘ میں مصروف تھے کہ اچانک زور داردھماکہ ہوا اور اس کے بعد اندھیرا چھا گیا۔

ایک اور ویڈیو میں سفید چارد اوڑھے ایک شخص کو پنڈال میں کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک کمرے کی طرف جاتا ہے اور ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے، جس کے بعد عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری اب تک کسی شدت پسند تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

مقامی پولیس اہلکاروں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مقامی لوگوں اور ریسکیو اہلکاروں نے ملبے کے نیچے سے میتیں اور زخمیوں کو نکال کر ہسپتال پہنچایا تھا۔

سنیچر کی رات کیا ہوا تھا؟

یہ واقعہ سنیچر کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات میں واقع قریشی موڑ پر ایک مکان میں پیش آیا ہے۔

یہ مکان مقامی ٹھیکیدار اور امن کمیٹی کے رہنما ملک نور حسن کا ہے، جہاں ان کے بھتیجے کی شادی کی تقریب تھی۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’شادی کی تقریب جاری تھی، وہاں ایک طرف پنڈال تھا اور دوسری جانب مہمانوں کے لیے کمرے میں جگہ بنائی گئی تھی۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ’جیسے ہی گاڑیوں میں بارات واپس پہنچی تو اس وقت وہاں رش بڑھ گیا اور اس دوران مہمانوں کے کمرے میں 9 بجکر 35 منٹ پر زور دار دھماکہ ہوا، جس سے کمرے کی چھت اور دیواریں گر گئیں۔‘

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’ملبے سے ایک سر بھی نکالا گیا ہے، جو خود کش بمبار کا سر تھا لیکن اس کا جسم کہیں نہیں مل سکا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق مدعی کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے بلکہ ’امن کے قیام میں حکومت پاکستان کی مدد کرنے اور امن کمیٹی کی سرپرستی کرنے کی وجہ سے نا معلوم حملہ آوروں نے خوف و ہراس پھیلانے کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔‘

اس حملے اور اس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر متعدد لوگ وحید محسود عرف جگری محسود سے متعلق باتیں کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔

وحید محسود عرف جگری محسود کون تھے؟

سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو بھی دیکھی گئی جس میں وحید محسود سر پر ٹوپی پہنے دیگر افراد کے ساتھ علاقائی رقص اتنڑ میں مصروف نظر آئے۔

بی بی سی اردو اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ یہ ویڈیو ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی شادی کی ہے یا اس سے قبل کسی اور مقام پر ریکارڈ کی گئی ہے۔

افغان طالبان کی قیادت میں موجود دراڑ اور انٹرنیٹ کی بندش کے پس منظر میں ہونے والی لڑائیگل بہادر گروپ: ’گڈ طالبان‘ کے نام سے مشہور عسکریت پسند جو کبھی ٹی ٹی پی کا حصہ نہ بناملا عمر: ایک آنکھ سے زخمی طالبان قائد کی خفیہ زندگی اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کی کہانیبینظیر بھٹو کی خواہش اور پاکستانی ٹرک: آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے تعلق کی ابتدا کیسے ہوئی؟

خودکش دھماکے کی تفتیش کرنے والے افسر کا کہنا ہے کہ ’وحید عرف جگری پنڈال کے ساتھ واقع کمرے میں بیٹھے تھے جہاں خود کش حملہ آور گیا اور پھر دھماکہ ہوا۔‘

وحید محسود سے متعلق معلومات رکھنے والے مقامی صحافی محمد انور کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق محسود قبائل کی بہلول زئی شاخ سے تھا۔

محمد انور کی معلومات کے مطابق جب سابق ٹی ٹی پی کمانڈر بیت اللہ محسود نے پہلی مرتبہ جنوبی وزیرستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کا دفتر قائم کیا تو وحید محسود ان کے ساتھ تھے۔

مقامی صحافی مزید کہتے ہیں کہ ’اس کے بعد تنظیم جب دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی تو ایک طرف حکیم اللہ محسود تھے اور دوسری جانب ولی الرحمان، اس وقت وحید جگری نے حکیم اللہ کا ساتھ دیا تھا۔‘

محمد انور مزید کہتے ہیں کہ ولی الرحمان اور شہریار محسود کی ہلاکت کے بعد وحید محسود کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم رہنما کے طور پر منظرِ عام پر آئے تھے۔

’تاہم بعد میں ٹی ٹی پی میں اختلافات پیدا ہونے کے بعد وحید محسود نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور وہ حکومت کا ساتھ دے رہے تھے۔‘

Getty Imagesیہ واقعہ سنیچر کو ساڑھے نو بجے کے بعد پیش آیا تھا

وحید محسودکے بارے میں سرکاری ذرائع کے پاس موجود تفصیلات کے مطابق ان کا اصل نام عبدالوحید عرف جگری تھا اور وہ ان دنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں رہائش پزیر تھے، جبکہ ان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا۔

’یہ حملہ پشتون روایات کے خلاف ہے‘

ڈیرہ اسماعیل میں شادی کی تقریب کے میزبان ملک نور حسن اس حملے کو ’پشتون روایات‘ کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’شادی کی تقریب جاری تھی، بڑی تعداد میں مہمان پنڈال اور اس کے ساتھ بنے کمرے میں موجود تھے، پنڈال میں نوجوان اتنڑ کر رہے تھے، بارات دلہن لے کر پہنچی ہی تھی کہ اتنے میں زود دار دھماکہ ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ دھماکہ پنڈال میں ہوتا تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔‘

نور حسن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا کبھی نہیں ہوا، ہم پشتونوں کی روایات ہیں کہ کسی کی شادی یا خوشی کی تقریب میں اس طرح کا کوئی کام نہیں کیا جاتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے سے ہے اور ان کا خاندان 2008 سے اپنے علاقے میں شدت پسندوں اور مسلح تنظیموں کے خلاف ہے ’کیونکہ ان کی وجہ سے ان کے علاقے میں غیر ملکی آ گئے تھے اور علاقے کا امن خراب ہوگیا تھا۔‘

نور حسن کے مطابق شدت پسندی کے واقعات میں اب تک ان کے خاندان کے 10 افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔

وانا کیڈٹ کالج میں 30 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران کیا ہوا؟میجر عدنان اسلم: بنوں حملے میں ہلاک ہونے والے ایس ایس جی افسر کون تھے؟گل بہادر گروپ: ’گڈ طالبان‘ کے نام سے مشہور عسکریت پسند جو کبھی ٹی ٹی پی کا حصہ نہ بناافغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانیشدت پسندوں کا نیا ہتھیار: سستے چینی کواڈ کاپٹر اور کمرشل ڈرون خیبرپختونخوا میں خوف کی علامت کیسے بنے؟افغان طالبان کی قیادت میں موجود دراڑ اور انٹرنیٹ کی بندش کے پس منظر میں ہونے والی لڑائی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More