چین میں چھپے ہینڈل والی گاڑیاں فروخت کرنے پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

بی بی سی اردو  |  Feb 03, 2026

Getty Images

ان دنوں ہم میں سے اکثر افراد نے پاکستان کی سڑکوں پر ایسی کئی گاڑیاں دیکھی ہوں گی جن کے دروازوں پر موجود ہینڈل دکھائی نہیں دیتے۔

اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی 100 نیو اینرجی وہیکلز میں یہ فیچر موجود ہے یعنی ان گاڑیوں کے دروازوں پر موجود ہینڈل باہر کی جانب نہیں نکلے ہوتے۔

گاڑیوں میں یہ فیچر سب سے پہلے ٹیسلا کی جانب سے متعارف کروایا گیا تھا تاہم اب امریکہ اور چین دونوں ہی ممالک میں گاڑیوں کے اس فیچر کو متعارف کروانے والی کار ساز کمپنیوں کو مُشکلات کا سامنا ہے۔

حال ہی میں چین نے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں یعنی ’ای ویز‘ میں دروازوں کے چھپے ہوئے ہینڈلز پر پابندی عائد کر دی ہے اور یوں وہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اس متنازع ڈیزائن کے استعمال کو روک دیا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا، جب بجلی سے چلنے والی گاڑیاں دنیا بھر میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سخت نگرانی میں ہیں۔ حالیہ خطرناک حادثات جن میں چین میں ژیاؤمی کی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے دو حادثے شامل ہیں، نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ گاڑی کی خرابی کے باعث دروازے کھولنے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

نئے قوانین کے تحت گاڑیوں کو صرف اسی صورت میں فروخت کی اجازت ہو گی کہ جب ان کے دروازوں کے اندر اور باہر دونوں جانب مکینیکل ریلیز یعنی باہر کی جانب نکلے ہوئے ہینڈل موجود ہوں۔ یہ قوانین یکم جنوری 2027 سے مؤثر ہوں گے۔

جیکو جے فائیو: ’کم قیمت اور زیادہ فیچرز‘ والی ایس یو وی پاکستانی آٹو مارکیٹ کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟ پاکستان میں آٹو کمپنیاں گاڑیوں پر لاکھوں روپے کے ڈسکاؤنٹ اور آسان قرضوں کی آفرز دینے پر کیوں مجبور ہوئیں؟ہنڈا کی ’غیر روایتی اور بولڈ‘ الیکٹرک کار ’جو ڈرائیور کے مزاج اور عادات‘ کو سمجھتی ہے’بی وائی ڈی‘: سستی الیکٹرک کاریں بنانے والی چینی کمپنی نے ایلون مسلک کی ’ٹیسلا‘ کو کیسے مات دی؟

چین کی وزارتِ صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے نئے ضوابط جاری کر دیے ہیں جن کے مطابق ہر مسافر گاڑی کے عقبی دروازے یا ڈگی کے سوا باقی تمام دروازوں پر کم از کم چھ سینٹی میٹر لمبا، دو سینٹی میٹر چوڑا اور اڑھائی سینٹی میٹر گہرا خلا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ہینڈل کو پکڑنا ممکن ہو سکے۔

گاڑی کے اندر بھی واضح نشانات کی موجودگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے جن کی مدد سے یہ پتہ لگ سکے کہ دروازہ کھولنے کے لیے ہینڈل کہاں ہے، ان نشانات کا سائز کم از کم ایک سینٹی میٹر ہو گا تاکہ مسافروں کو دروازہ کھولنے کا طریقہ معلوم ہو سکے۔

وہ گاڑیاں جو پہلے ہی حکام کی منظوری حاصل کر چکی ہیں اور چینی مارکیٹ میں آنے کے آخری مراحل میں ہیں انھیں اپنے ڈیزائن اپ ڈیٹ کرنے کے لیے مزید دو سال کی مہلت دی جائے گی۔

Bloomberg via Getty Images

چھپے ہوئے ہینڈل چین کی نیو اینرجی وہیکلز کی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں جن میں الیکٹرک گاڑیاں، ہائبرڈ کاریں اور فیول سیل سے چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔

اگرچہ یہ اقدامات صرف چین میں فروخت ہونے والے ماڈلز پر لاگو ہوں گے لیکن گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور عالمی صنعت میں چین کی بڑی موجودگی کے باعث اس فیصلے کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جانے کا امکان ہے۔

ٹیسلا کے دروازوں کے ہینڈل پہلے ہی امریکی حفاظتی اداروں کی تحقیقات کے دائرے میں ہیں جبکہ یورپی حکام بھی اس حوالے سے قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔

گزشتہ نومبر میں امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے ٹیسلا کے الیکٹرانک ہینڈل پر تحقیقات شروع کیں جب یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ وہ اچانک کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور بچے گاڑی کے اندر پھنس جاتے ہیں۔

نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق اسے ٹیسلا کی سنہ 2021 ماڈل ’وائے‘ گاڑیوں کے ہینڈل کے بارے میں نو شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں سے چار کیسز میں مالکان نے مسئلہ حل کرنے کے لیے گاڑی کی کھڑکی توڑ دی۔

تاہم ٹیسلا کی جانب سے بنائی جانے والی گاڑیوں میں موجود ’یوزر گائیڈ یا مینول‘ سے متعلق وفاقی محققین نے نشاندہی کی ہے کہ پہلے تو بچوں کی ان تک رسائی ہی مُمکن نہیں ہوتی اور دوسرا یہ کہ بچوں کے لیے انھیں سمجھنا آسان نہیں بلکہ بہت مشکل ہوتا ہے اور حتیٰ کہ بہت سے مالکان کو اپنی گاڑیوں میں اس کے موجود ہونے کا بھی علم نہیں ہوتا۔

دوسری جانب کچھ امریکی قانون سازوں نے تو یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ تمام نئی گاڑیوں میں دروازے کھولنے کے لیے باہر کی جانب اُبھرے ہوئے ہینڈل کی موجودگی کو لازمی قرار دیا جائے۔

پاکستانی مارکیٹ میں یہ فیچر عام تو نہیں مگر چند مخصوص برانڈز اور درآمد شدہ گاڑیوں میں دستیاب ہے۔

پاکستان میں چند جدید برقی اور لگژری گاڑیوں میں چھپے ہوئے (فلیش یا فریم لیس) دروازوں کے ہینڈل دستیاب ہیں، جنھیں باہر سے عام ہینڈل کی طرح نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ زیادہ تر درآمد شدہ برانڈز یا نیو اینرجی وہیکلز میں پائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ کُچھ سال کے دوران آنے والی ایسی گاڑیوں میں جیکو جے 7، آڈی ای ٹرون، بی ایم ڈبلیو آئی ایکس، چانگان ڈیپال ایس 7 شامل ہیں۔

الیکٹرا میٹرو: پاکستان میں سستی الیکٹرک ’گاڑیوں‘ کے خریداروں کو کِن چیزوں پر سمجھوتہ کرنا ہو گا؟پاکستان میں آٹو کمپنیاں گاڑیوں پر لاکھوں روپے کے ڈسکاؤنٹ اور آسان قرضوں کی آفرز دینے پر کیوں مجبور ہوئیں؟جیکو جے فائیو: ’کم قیمت اور زیادہ فیچرز‘ والی ایس یو وی پاکستانی آٹو مارکیٹ کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟ پاکستان میں گاڑیوں کی درآمد کی ’پرسنل بیگیج‘ سکیم کا خاتمہ: کیا اب چھوٹی جاپانی گاڑیاں آنا بند ہو جائیں گی؟ہنڈا کی ’غیر روایتی اور بولڈ‘ الیکٹرک کار ’جو ڈرائیور کے مزاج اور عادات‘ کو سمجھتی ہے’بی وائی ڈی‘: سستی الیکٹرک کاریں بنانے والی چینی کمپنی نے ایلون مسلک کی ’ٹیسلا‘ کو کیسے مات دی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More