’ہوٹل کے کمرے میں ہمارے سیکس کی ویڈیو ہزاروں لوگوں کے سامنے نشر کر دی گئی‘

بی بی سی اردو  |  Feb 06, 2026

BBCایرک کو احساس ہوا کہ جس جوڑے کو وہ دیکھ رہے تھے۔۔ کمرے میں داخل ہو کر بیگ رکھنا اور بعد میں سیکس کرنا، یہ تو وہ خود اور ان کی گرل فرینڈ تھے۔

انتباہ: اس کہانی میں بعض مواد حساس اور توہین آمیز ہو سکتا ہے

سنہ 2023 کی ایک رات ایرک ایک سوشل میڈیا چینل پر سکرول کر رہے تھے جہاں وہ باقاعدگی سے پورن دیکھتے تھے۔ ویڈیو کے چند سیکنڈ بعد وہ اپنی جگہ ساکت رہ گئے۔

انھیں احساس ہوا کہ جس جوڑے کو وہ دیکھ رہے تھے۔۔ کمرے میں داخل ہو کر بیگ رکھنا اور بعد میں سیکس کرنا، یہ تو وہ خود اور ان کی گرل فرینڈ تھے۔

تین ہفتے پہلے وہ جنوبی چین کے شینزین کے ایک ہوٹل میں رات گزار چکے تھے، اس بات سے بے خبر کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔

ان کے نجی لمحات ہوٹل کے کمرے میں چھپے ہوئے کیمرے میں قید کیے گئے تھے اور یہ فوٹیج ہزاروں اجنبیوں کو دی گئی تھی جو اس چینل پر لاگ ان ہوئے تھے۔۔۔ ایرک خود بھی اسی چینل پر فحش مواد دیکھتے تھے۔

ایرک ( تبدیل شدہ نام) اب صرف چین کے جاسوس کیمروں کی فحش انڈسٹری کے صارف نہیں رہے بلکہ ان کے ہاتھوں ایک متاثرہ شخص تھے۔

چین میں کم از کم ایک دہائی سے جاسوس کیمروں کا فحش مواد موجود ہے، حالانکہ ملک میں فحش مواد بنانا اور تقسیم کرنا غیر قانونی ہے۔

لیکن پچھلے چند سالوں میں یہ مسئلہ سوشل میڈیا پر ایک باقاعدہ موضوع بن گیا ہے، جہاں لوگ خاص طور پر خواتین کسی جگہ پر موجود پنسل کے ربڑ کے سائز جتنے چھوٹے کیمروں کو پہچاننے اور شناخت کرنے سے متعلق مشورے دے رہی ہیں۔

کچھ لوگوں نے تو ہوٹل کے کمروں کے اندر خیمے بھی لگا دیے تاکہ فلمائے جانے سے بچ سکیں۔

گشتہ اپریل میں حکومت کے نئے ضوابط نے اس وبا کو روکنے کی کوشش کی۔ ہوٹل مالکان کے لیے باقاعدگی سے چھپے ہوئے کیمروں کی جانچ کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ لیکن ہوٹل کے کمرے کی پرائیویسی میں خفیہ طور پر فلمائے جانے کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔

بی بی سی ورلڈ سروسکو معلوم ہوا ہے کہ حالیہ عرصے میں ہزاروں جاسوس کیمروں کی ویڈیوز ہوٹل کے کمروں میں فلمائی گئیں اور متعدد سائٹس پر فحش مواد کے طور پر فروخت کی گئی ہیں۔

BBCکچھ لوگوں نے تو ہوٹل کے کمروں کے اندر خیمے بھی لگا دیے تاکہ فلمائے جانے سے بچ سکیں۔

زیادہ تر مواد میسجنگ اور سوشل میڈیا ایپ ٹیلیگرام پر مشتہر کیا جاتا ہے۔

اٹھارہ ماہ کے دوران، میں نے ٹیلیگرام پر چھ مختلف ویب سائٹس اور ایپس دریافت کیں۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ 180 سے زائد ہوٹل کے کمروں میں جاسوسی کیمرے چلاتے ہیں جو نہ صرف ہوٹل کے مہمانوں کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کر رہے تھے بلکہ انھیں لائیو سٹریمنگ بھی کر رہے تھے۔

میں نے ان ویب سائٹس میں سے ایک کو سات ماہ تک باقاعدگی سے مانیٹر کیا اور 54 مختلف کیمروں سے ریکارڈ شدہ مواد پایا، جن میں سے تقریبا آدھے ہمہ وقت فعال تھے۔

اس کا مطلب ہے کہ بی بی سی کے اندازے کے مطابق، اس عرصے میں ہزاروں مہمانوں کی فلمبندی کی جا سکتی ہے۔ زیادہ تر لوگ یہ نہیں جانتے کہ انھیں کیمرے میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایرک، جو ہانگ کانگ سے ہیں، انھوں نے نوجوانی میں خفیہ طور پر بنائی گئی ویڈیوز دیکھنا شروع کیں، اور انھیں یہ بات پسند آئی کہ یہ فوٹیج کتنا ’حقیقی‘ محسوس ہوتا تھا۔

ایرک اب اپنی تیس کی دہائی میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’جو چیز مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ نہیں جانتے کہ انھیں فلمایا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ روایتی پورن بہت مصنوعی محسوس ہوتا ہے۔‘

لیکن جب انھیں اپنی اور اپنی گرل فرینڈ ایملی کی ویڈیو ملی، تو انھوں نے محسوس کیا کہ سپلائی چین کے دوسرے سرے پر ہونا کیسا لگتا ہے۔۔۔ اور اب انھیں اس مواد میں کوئی لطف یا خوشی محسوس نہیں ہوتی۔

جب انھوں نے ایملی کو بتایا کہ ان کے ہوٹل میں قیام کو فلمایا گیا ہے اور ایک گھنٹے کے کلپ میں ایڈٹ کیا گیا ہے اور ٹیلیگرام پر اپلوڈ کیا گیا ہے، تو ایملی نے سوچا کہ وہ مذاق کر رہے ہیں۔

لیکن پھر انھوں نے خود فوٹیج دیکھی اور شرمندہ ہو گئیں۔ ایملی کو ڈر تھا کہ یہ کلپ ان کے ساتھیوں اور خاندان والوں نے دیکھ لیا ہوگا۔ جوڑے نے ہفتوں تک ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔

تو یہ صنعت جو بے خبر جوڑوں کے قریبی سیکس تعلقات کو پُر تجسس گاہکوں کے لیے استعمال کرتی ہے دراصل کیسے کام کرتی ہے، اور اس کے پیچھے کون ہے؟

وہ مرد جو راتوں کو خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنا کر پیسے کماتے ہیںسیول: ٹوائلٹس میں خفیہ کیمروں کے لیے روزانہ کھوج’بیٹی کو خفیہ کیمرے کے ذریعے ہوئے جنسی جرم سے شدید تکلیف پہنچی’’مجھے خفیہ کیمرے والے سمارٹ چشموں سے لاعلمی میں فلمایا گیا، پھر سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا‘

ان خفیہ کیمروں سے بنائی گئی فحش ویڈیوز کے سب سے مشہور تاجروں میں سے ایک جس سے میں ملا، وہ ایک ایجنٹ تھا جسے ’اے کے اے‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

صارف بن کر میں نے ان کی پروموٹ کردہ لائیو سٹریمنگ ویب سائٹس میں سے ایک تک رسائی کے لیے ماہانہ فیس65 ڈالر ادائیگی کی۔ لاگ ان ہونے کے بعد، میرے پاس پانچ مختلف فلمبندی فیڈز میں سے انتخاب کرنے کا آپشن تھا، ہر ایک میں کئی ہوٹل کے کمرے دکھائے جاتے تھے۔

جب کوئی مہمان کمرہ کھولنے کے لیے اپنا کی کارڈ ڈال کر کمرے میں بجلی کی سپلائی شروع کرتا تو یہ ویڈیو فورا نظر آنے لگتی۔ لائیو سٹریمز کو ری وائنڈ کرنا اور آرکائیو شدہ کلپس ڈاؤن لوڈ کرنا بھی ممکن تھا۔

ٹیلیگرام پر جو چین میں ممنوع ہے لیکن عام طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اے کے اے نے اس پر ان لائیو سٹریمز کی تشہیر کی۔

ہماری تحقیقات کے دوران ایک ٹیلیگرام چینل کے دس ہزار تک ممبرز تھے۔

ان کے ایڈیٹ شدہ لائیو سٹریم کلپس کی لائبریریاں ٹیلیگرام پر بھی ایک مقررہ فیس پر دستیاب ہیں۔ میں نے آرکائیو میں چھ ہزار سے زیادہ ویڈیوز دیکھی، جو 2017سے شروع ہو رہی ہیں۔

اے کے اے کے سبسکرائبرز، ٹیلیگرام کے چینل فنکشن میں تبصرے کرتے ہیں، جب وہ ہوٹل کے بے خبر مہمانوں کو دیکھتے ہیں ان کی شکل و صورت کا جائزہ لیتے ہیں، ان کی بات چیت کے بارے میں گپ شپ کرتے ہیں، اور ان کی جنسی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔

جب جوڑا جنسی تعلق شروع کرتا ہے تو وہ جشن مناتے ہیں اور اگر وہ لائٹس بند کر دیتے ہیں تو شکایت کرتے ہیں۔ خواتین کو اکثر ’بدکردار‘، ’طوائف‘ اور دیگر نازیبا القابات سے پکارا جاتا ہے۔

ہم نے چین کے وسطی علاقے ژینگژو کے ایک ہوٹل کے کمرے تک جاسوس کیمروں میں سے ایک کا سراغ لگایا، جس میں ہم نے سبسکرائبرز، سوشل میڈیا صارفین اور اپنی تحقیق سے کئی سراغ اکٹھے کیے۔

وہاں موجود محققین کمرے تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور انھوں نے دیکھا کہ کیمرہ لینس جو بستر کی طرف تھا دیوار کے وینٹیلیشن یونٹ میں چھپا ہوا تھا اور بجلی کی فراہمی کے نظام سے جڑا ہوا تھا۔

BBCجاسوس کیمروں سے ہوٹلوں کے بستروں کا منظر صاف نظر آتا ہے

ایک خفیہ کیمرا ڈٹیکٹر، جو آن لائن ہوٹل کے مہمانوں کے لیے ’ضروری چیز‘ کے طور پر وسیع پیمانے پر فروخت ہوتا ہے، نے اس نے بھی کوئی انتباہ نہیں دیا کہ ان پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

ٹیم نے خفیہ کیمرہ غیر فعال کر دیا اور یہ خبر تیزی سے ٹیلیگرام پر پھیل گئی۔

ایک سبسکرائبر نے اے کے زیر انتظام مرکزی چینل پر لکھا: ’ژونگ ہوا‘ نامی کیمرہ ہٹا دیا گیا ہے۔

اے کے اے نے کمنٹ کیا کہ ’یہ بہت افسوس کی بات ہے، اس کمرے میں آواز کا معیار سب سے بہترین ہے۔‘

لیکن یہ شکایات خوشی میں بدل گئیں جب چند گھنٹوں کے اندر، اے کے اے نے پوسٹ کیا کہ ایک دوسرے ہوٹل میں ایک نیا کیمرہ فعال کر دیا گیا ہے۔

اے کے اے نے اپنے سبسکرائبرز سے کہا ’یہ ہے ہمارے لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارم کی رفتار‘۔۔۔ ’شاندار ہے نا؟‘

ہماری 18 ماہ کی تحقیقات کے دوران ہم نے اے کے اے جیسے تقریباً بارہ ایجنٹس کی شناخت کی۔

سبسکرائبرز کے ساتھ ان کی گفتگو سے واضح ہوتا تھا کہ وہ سپلائی چین کے اوپر والوں کے لیے کام کر رہے ہیں، جنھیں وہ ’کیمرہ مالکان‘ کہتے تھے۔

ایجنٹس کے تبصروں کے مطابق انھی لوگوں نے جاسوس کیمروں کو نصب کرنے کاک انتظام کیا اور لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز کا انتظام کیا۔

ہماری اے کے اے کے ساتھ براہِ راست پیغام رسانی کے دوران، اس نے غلطی سے ایک سکرین شاٹ شیئر کر دیا جس میں ایک شخص کا پیغام تھا، جسے اس نے ’کیمرے کا مالک‘ کہا، اور پروفائل نام ’برادر چن‘ تھا۔

اے کے اے نے فورا پیغام ڈیلیٹ کر دیا اور اس پر بات کرنے سے انکار کر دیا لیکن ہم نے براہ راست ’برادر چن‘ سے رابطہ کیا۔

ہمارے ثبوت کے باوجود کہ انھوں نے لائیو سٹریمنگ ویب سائٹ اے کے اے کو فراہم کی، برادر چن نے دعویٰ کیا کہ وہ صرف ایک سیلز ایجنٹ ہے، حالانکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ سپلائی چین صرف ان جیسے لوگوں تک محدود نہیں ہے۔

جو بات واضح ہے وہ یہ کہ اس کاروبار میں بھاری رقوم کمائی جا رہی ہیں۔ چینل کی ممبرشپ اور سبسکرپشن فیس کی بنیاد پر، بی بی سی کے اندازے کے مطابق اے کے اے نے گذشتہ اپریل سے اب تک کم از کم 22 ہزار ڈالر کمائے ہیں۔

چین کے بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق گذشتہ سال چین میں اوسط سالانہ آمدنی 6200 ڈالر تھی۔

BBCایرک اور ایملی ہمیشہ عوامی مقامات پر ٹوپیاں پہنتے ہیں تاکہ پہچانے نہ جائیں اور اب وہ ہوٹلوں میں قیام سے گریز کرتے ہیں

چین میں جاسوس کیمروں کی فروخت اور استعمال پر سخت قواعد ہیں، لیکن ہمیں ملک کی سب سے بڑی الیکٹرانکس مارکیٹ ہواقیانگبی میں خریدنا نسبتا آسان لگا۔

عدالتوں میں جاسوس کیمروں سے پورن بنانے کے الزام میں کتنے افراد پیش کیے گئے ہیں، درست اعداد و شمار تلاش کرنا زیادہ مشکل ہے۔ چین کے حکام نے حالیہ برسوں میں قانونی مقدمات کی تفصیلات بہت کم شیئر کی ہیں، لیکن جو مقدمات ہمیں ملے وہ شمال میں جیلن صوبے سے لے کر جنوب کے دور گوانگڈونگ تک۔۔۔ پورے چین میں پھیلے ہوئے تھے۔

بلیو لی، ہانگ کانگ میں قائم ایک این جی او رین للی سے تعلق رکھتی ہیں، جو متاثرین کو انٹرنیٹ سے خفیہ طور پر فلمائی گئی واضح فوٹیج ہٹانے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے گروپ کی خدمات کی طلب بڑھ رہی ہے لیکن یہ کام مزید مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ٹیلیگرام رین للی کی ہٹانے کی درخواستوں کا کبھی جواب نہیں دیتا، جس کی وجہ سے انھیں گروپ ایڈمنسٹریٹرز سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، یعنی وہی لوگ جو جاسوس کیمروں کا فحش مواد بیچتے یا شیئر کرتے ہیں۔۔۔ اور وہ کم ہی جواب دیتے ہیں۔

لی کہتی ہیں ’ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیک کمپنیاں ان مسائل کو حل کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ یہ کمپنیاں غیر جانبدار پلیٹ فارم نہیں ہوتیں؛ ان کی پالیسیاں یہ طے کرتی ہیں کہ مواد کس طرح پھیلایا جائے گا۔‘

بی بی سی نے خود بھی ٹیلیگرام کو اس کے رپورٹ فیچر کے ذریعے آگاہ کیا کہ اے کے اے اور برادر چن اور ان کے زیرِ انتظام گروپس، اس کے پلیٹ فارم پر خفیہ کیمروں سے بنائی گئی فحش ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں، لیکن ٹیلیگرام نے نہ تو کوئی جواب دیا اور نہ ہی کوئی کارروائی کی۔

10 دن بعد، بی بی سی کی مکمل تحقیقات کے نتائج کے ساتھ دوبارہ رابطہ کیا گیا۔ ٹیلیگرام نے ہمیں بتایا: ’غیر رضامندانہ طور پر بنایا گیا فحش مواد شیئر کرنا ٹیلیگرام کی شرائط کے تحت واضح طور پر ممنوع ہے‘ اور ’یہ فعال طور پر نگرانی کرتا ہے۔۔۔ اور روزانہ لاکھوں ایسے مواد کے ٹکڑوں کو ہٹانے کے لیے (نامناسب مواد کی) رپورٹس قبول کرتا ہے۔‘

ہم نے باضابطہ طور پر برادر چن اور اے کے اے کو بتایا کہ وہ ہوٹل کے بے خبر مہمانوں کا استحصال کر کے منافع کما رہے تھے۔

انھوں نے جواب نہیں دیا لیکن چند گھنٹوں بعد وہ ٹیلیگرام اکاؤنٹس جن سے وہ مواد کی تشہیر کرتے تھے، حذف ہو چکے تھے۔

تاہم وہ ویب سائٹ جس تک اے کے اےنے مجھے رسائی دی اب بھی ہوٹل کے مہمانوں کی لائیو سٹریمنگ کر رہی ہے۔

ایرک اور ایملی اپنے تجربے کی وجہ سے صدمے میں ہیں۔ وہ ہمیشہ عوامی مقامات پر ٹوپیاں پہنتے ہیں تاکہ پہچانے نہ جائیں اور اب وہ ہوٹلوں میں قیام سے گریز کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایرک اب ان ٹیلیگرام چینلز کو پورن دیکھنے کے لیے استعمال نہیں کرتے لیکن پھر بھی کبھی کبھار چیک کرتے ہیں۔۔۔ ڈرتے ہیں کہ کلپ دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔

اضافی رپورٹنگ: کیٹ براؤن، بریجٹ ونگ اور مینگیو ڈونگ

’بیٹی کو خفیہ کیمرے کے ذریعے ہوئے جنسی جرم سے شدید تکلیف پہنچی’’مجھے خفیہ کیمرے والے سمارٹ چشموں سے لاعلمی میں فلمایا گیا، پھر سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا‘وہ مرد جو راتوں کو خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنا کر پیسے کماتے ہیںسیول: ٹوائلٹس میں خفیہ کیمروں کے لیے روزانہ کھوج1600 افراد کی خفیہ کیمروں سے ہوٹلوں میں پورن بنائی گئی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More