پاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Feb 06, 2026

سیاسی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سنیچر کو انڈیا اور سری لنکا میں شروع ہونے والا ہے۔

بنگلہ دیش پہلے ہی ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ کر چکا ہے جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ میچ نہیں کھیلے گا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی پلیئنگ کنڈیشنز کے مطابق اگر پاکستان میچ کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو اس کے میچ کے پوائنٹس ختم ہو جائیں گے۔ انڈیا اس میچ کے لیے زیادہ سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرے گا۔

ادھر سری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستان بورڈ کو خط لکھ کر انڈیا کے ساتھ نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا ہے۔

سری لنکا کرکٹ کے نائب صدر روین وکرماراتھنے نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ ایس ایل کرکٹ نے پی سی بی کو ایک خط بھیجا ہے تاکہ انڈیا کے ساتھ کھیلنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جا سکے۔

سری لنکا نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں اسے بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

لیکن پاکستان کے انڈیا کے خلاف نہ کھیلنے کے اثرات پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاہدے کی ایک شق کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے جو ممکنہ طور پر پاکستان کو ایک اہم جرمانے سے بچا سکتی ہے۔

Getty Imagesسری لنکا کا پی سی بی کو خط

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے سری لنکن میڈیا ہاؤس نیوز وائر کے حوالے سے بتایا ہے کہ سری لنکا کرکٹ بورڈ نے پی سی بی کو خط لکھا ہے۔

ایس ایل سی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ خط میں پی سی بی کو بتایا گیا کہ انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے سے نقصانات ہوں گے، جس میں ہوٹلوں کی منسوخی سے لے کر فلائٹ ریزرویشن اور لاجسٹک کی مشکلات شامل ہیں۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کا انڈیا کے خلاف نہ کھیلنے سے نہ صرف سری لنکا کرکٹ بورڈ بلکہ ٹورنامنٹ میں شامل ہر سٹیک ہولڈر متاثر ہو گا۔

خط میں ایس ایل سی نے پی سی بی کو یہ بھی یاد دلایا کہ اس نے کس طرح پاکستان کرکٹ کو بین الاقوامی تنہائی سے نکالنے میں کردار ادا کیا۔

’اگر بنگلہ دیش کی جگہ انڈیا مطالبہ کرتا۔۔۔‘ ٹی 20 ورلڈ کپ پر ناصر حسین کا تبصرہ زیرِ بحثکرکٹ میں ’سیاست اور پیسے کی کہانی‘: ٹی 20 ورلڈ کپ کے بحران میں آئی سی سی بے بس کیوں ہے؟انڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟’پاکستان کا ٹرافی جیتنا اب صرف ٹیم ہی کے ہاتھ نہیں رہا‘

ایس ایل سی نے لکھا ہے کہ جب دیگر کرکٹ ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں تو اس نے کئی بار پاکستان کا دورہ کیا۔

دراصل یہ اس دور کا حوالہ ہے جب 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم کی بس پر دہشت گردانہ حملے کے بعد دیگر ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کرنا چھوڑ دیا تھا۔

بی بی سی اردو کی منزہ انوار نے پی سی بی کے ترجمان عامر میر نے پوچھا کہ انھیں سری لنکن کرکٹ کی جانب سے ایسی کوئی درخواست موصول ہوئی ہے اور آیا پی سی بی اس پر غور کر رہا ہے؟ عامر میر نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کرتے ہوئے محض اتنا کہنا کہ ’انڈیا کہ ساتھ نے کھیلنے کا فیصلہ ہمارا (پی سی بی) نہیں، حکومت کا ہے۔‘

Getty Imagesانڈین کپتان سوریہ کمار یادو نے تصدیق کی کہ انڈین ٹیم 15 فروری کو میچ کے لیے سری لنکا جائے گیانڈیا اور پاکستان کے تازہ ترین بیانات

ٹورنامنٹ سے پہلے کی پریس کانفرنس میں کپتان سوریہ کمار یادو نے تصدیق کی کہ انڈین ٹیم 15 فروری کو میچ کے لیے سری لنکا کا سفر کرے گی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی ٹیم کو میچ کی منسوخی کے حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ذہنیت واضح ہے۔۔۔ ہم نے کھیلنے سے انکار نہیں کیا، دوسرے فریق نے انکار کر دیا ہے۔ آئی سی سی نے فکسچر دیا ہے، حکومت نے نیوٹرل مقام کا فیصلہ کیا ہے۔ ہماری کولمبو کی فلائٹ بک ہو چکی ہے، ہم جا رہے ہیں، باقی کا خیال رکھیں گے۔‘

ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان آغا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کے ساتھ کھیل ہمارے اختیار میں نہیں، یہ حکومت کا فیصلہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں، وہ جو کہیں گے ہم کریں گے۔‘

تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں آمنے سامنے ہوتی ہیں تو کیا کیا جائے گا، تو انھوں نے کہا کہ اگر ہمیں سیمی فائنل یا فائنل میں انھیں (انڈیا سے دوبارہ کھیلنا ہے تو ہم دوبارہ ان (حکومت) سے رجوع کریں گے اور ان کے مشورے کی بنیاد پر ہی چلیں گے۔‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ گروپ مرحلے کے بعد میچوں پر پاکستان کے موقف کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

کرکٹ کی تاریخ میں اس سے قبل ٹیمیں ٹورنامنٹ کے میچوں سے دستبردار ہو چکی ہیں۔ 1996 کے ورلڈ کپ میں، انڈیا، پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز دونوں نے سری لنکا کا سفر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انگلینڈ نے بھی ہرارے میں 2003 کے ورلڈ کپ میں زمبابوے کے خلاف اپنا میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔

ان میں سے کسی بھی ملک کو بعد میں آئی سی سی نے جرمانہ یا سزا نہیں دی، حالانکہ سبھی کو اپنے میچز فورفیٹ کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

تاہم، آئی سی سی اس سے قبل کھیل میں حکومتی مداخلت پر متعدد ممالک کو سزا دے چکی ہے۔ اس لیے پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کو کچھ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آئی سی سی کے آئین کے آرٹیکل 2.4 میں کہا گیا ہے کہ کرکٹ بورڈ کو اپنے معاملات کو خود مختاری سے چلانا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کرکٹ کی حکمرانی، ضابطے یا انتظامیہ میں کوئی حکومتی مداخلت نہ ہو۔

2019 میں، زمبابوے کی حکومت نے اپنے کرکٹ بورڈ کو تحلیل کر دیا، جس کے نتیجے میں آئی سی سی کی طرف سے تین ماہ کی معطلی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں فنڈنگ ​​منجمد ہو گئی اور زمبابوے کو ورلڈ کپ کوالیفائرز سے باہر کر دیا گیا۔

چار سال بعد ناقص کارکردگی کے باعث سری لنکن حکومت نے کرکٹ بورڈ کو فارغ کر دیا۔ نتیجتاً سری لنکا سے انڈر 19 ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق چھین لیا گیا۔

بعد ازاں دونوں ممالک کی آئی سی سی کی رکنیت بحال کردی گئی۔

Getty Imagesپاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان آغا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے ساتھ کھیل ہمارے اختیار میں نہیں، یہ حکومت کا فیصلہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں’فورس میجور‘ پر بحث تیز ہوتی جا رہی ہے

آئی سی سی اور پی سی بی کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح تصویر سامنے نہ آنے کے بعد ایم پی اے کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ خاص طور پر اس کی ایک شق ’فورس میجر‘ پر گرما گرم بحث ہو رہی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ شاید پاکستان اس شق کو استعمال کر کے جرمانے سے بچ جائے گا۔

درحقیقت ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی تمام ٹیموں نے ایم پی اے پر دستخط کر رکھے ہیں۔ فورس میجر کلاز ایک ایسی شق ہے جو ایک رکن کو ناگزیر حالات میں اپنے معاہدے کی شرائط کو نظر انداز کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ تاہم ان حالات میں جنگ، دہشت گردی یا قدرتی آفات شامل ہیں۔

یہ شق دراصل ایسے واقعات یا عوامل پر مشتمل ہے جن کے باعث کوئی ملک کسی سیریز یا ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔

اس شق کے سب سیکشن کے ڈی کے میں ’کوئی بھی کارروائی جو حکومت یا کسی سرکاری اتھارٹی کی جانب سے کی جاتی ہے جن میں اجازت نہ دینا یا کسی بھی قسم کی توثیق، استثنیٰ یا کوئی ممانعت‘ شامل ہے تو وہ ’فورس میجور‘ کے زمرے میں آئے گی یعنی یہ شرکت نہ کرنے کی ’قابلِ قبول وجہ‘ سمجھی جائے گی۔

کرک انفو نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کے پاس ایم پی اے کی ایک کاپی ہے، جس کی بنیاد پر قانونی ماہرین نندن کامتھ اور رضا علی نے پاکستان کے بائیکاٹ کے نتائج کے بارے میں بات کی ہے۔

اس گفتگو کے مطابق، ایم پی اے کی شق 12 آئی سی سی ایونٹ کے دوران پیدا ہونے والے ایسے حالات کے نتائج کو بیان کرتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ’فورس میجر‘ حکومتی حکم کی بھی تعریف کرتا ہے۔

ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پی سی بی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کے احکامات کا پابند ہے اور انڈیا کے خلاف گروپ میچ کھیلنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

ایم پی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی بھی ٹیم جو میچ نہ کھیلنے کا انتخاب کرتی ہے اسے باضابطہ طور پر آئی سی سی کو اس فیصلے سے آگاہ کرنا چاہیے۔ اس صورت میں، پی سی بی کو آئی سی سی کو اپنی حکومت سے تحریری حکم نامہ فراہم کرنا ہوگا۔

اس نوٹس میں پی سی بی کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ ایسا حکم کیوں، کیسے اور کس حد تک اس کی معاہدے کی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔

پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

پاکستانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ٹیم 15 فروری کو انڈیا کے خلاف اپنے میچ میں میدان میں نہیں اترے گی۔

اس کے بعد 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے بحث اس بات کی نہیں ہے کہ کن میچوں کا انتظار کیا جائے بلکہ بحث ایک خاص میچ کی ہے، جسے پاکستان نہیں کھیلے گا۔

قواعد کے مطابق پاکستان کے فیصلے کا براہ راست پوائنٹس ٹیبل پر اثر پڑے گا، جہاں ہر میچ کے پوائنٹس سیمی فائنل کی راہ کا تعین کرتے ہیں۔

مزید برآں، اس بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ پاکستان کیوں میچ نہیں کھیل رہا ہے اور مستقبل میں ایسی ہی صورتحال کے دوبارہ ہونے کا خطرہ ٹی وی حقوق کے سودوں کو متاثر کرے گا۔ خاص طور پر انڈیا اور پاکستان کے میچ جو زیادہ آمدنی والے مقابلے ہوتے ہیں۔

گذشتہ سال انڈیا اور پاکستان کے درمیان چیمپئنز ٹرافی کا میچ 60 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے سٹریمنگ پلیٹ فارمجیو ہاٹ سٹار پر دیکھا۔

بی بی سی سپورٹ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے کھیل کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے بقول، ’اگر کوئی ٹیم میچ ریفری کی رائے میں شکست قبول کرتی ہے یا کھیلنے سے انکار کرتی ہے تو وہ ٹیم میچ ہار گئی سمجھی جائے گی۔‘

’میچ کھیلنے سے انکار‘ کے نتیجے میں ذمہ دار ٹیم اور اس کے کپتان کے خلاف آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے۔

اس سے پاکستان کے خلاف مزید پابندیوں کے امکان کے دروازے کھلے رہ جاتے ہیں۔ تاہم، یہی شق 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی موجود تھی، اس لیے یہ ممکن نہیں کہ یہ صرف حالیہ واقعے تک مخصوص ہو۔

تاہم، آئی سی سی کے قوانین کے تحت، میچ نہ کھیلنے والی ٹیم کا طریقہ کار واضح ہے۔ انڈیا شیڈول کے مطابق کولمبو کا سفر کرے گا، پریکٹس کرے گا اور میچ سے قبل پریس کانفرنس کرے گا۔

اگر پاکستان اس کے بعد کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو وہ میچ ہار گیا، تصور کیا جائے گا۔ انڈیا کو دو پوائنٹس دیے جائیں گے، پاکستان کو کوئی نہیں ملے گا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا نیٹ رن ریٹ منفی طور پر متاثر ہوگا۔

ہاں، اگر انڈیا بھی اس میچ کے لیے سری لنکا کا سفر نہیں کرتا تو میچ کو منسوخ تصور کیا جائے گا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملے گا۔ تاہم موجودہ حالات میں ایسا ممکن نہیں ہے۔

ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں ایک میچ سے دو پوائنٹس بہت اہم ہوتے ہیں اور ان کی ہار پاکستان کو دوسری ٹیموں سے پیچھے دھکیل سکتی ہے۔

پاکستان کو گروپ مرحلے میں چار میچز کھیلنے ہیں اور ٹیم پہلے ہی ان میں سے ایک، انڈیا کے خلاف کھیلنے سے انکار کر چکی ہے۔

پاکستان اپنے دوسرے گروپ مرحلے کے میچوں میں نیدرلینڈ، امریکہ اور نمیبیا سے کھیلے گا۔ یہ بظاہر آسان میچ لگتے ہیں، لیکن پاکستان کو پہلے ہی 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اگر امریکہ کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں بھی بڑا اپ سیٹ کرتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے چیلنج ہو سکتا ہے۔

قواعد کے مطابق کھیلنے سے انکار کرنے والی ٹیم کو نیٹ رن ریٹ میں بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ تاہم، اس نقصان کی حد ٹورنامنٹ کے کھیل کے حالات میں بیان کردہ قواعد پر منحصر ہے۔ تاہم، نیٹ رن ریٹ اکثر ٹائی پوائنٹس کے حالات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

نیٹ رن ریٹ کے قوانین کے مطابق، کوئی بھی ٹیم جو میدان میں نہ اترے اسے میچ کے 20 اوورز میں صفر رنز سکور کرنے والی تصور کیا جائے گا۔ تاہم،دوسری ٹیم کے لیے نیٹ رن ریٹ کا اطلاق معمول کے مطابق ہوگا۔

Getty Imagesٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا مکمل شیڈول

سات فروری سے شروع ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آٹھ مارچ تک چلے گا۔ ان 30 دنوں میں کل 55 میچ آٹھ مختلف مقامات پر کھیلے جائیں گے: پانچ انڈیا اور تین سری لنکا میں۔

ٹورنامنٹ کا پہلا میچ پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان کولمبو میں کھیلا جائے گا جبکہ فائنل احمد آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم میں ہوگا۔

ٹورنامنٹ میں کل 20 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں: افغانستان، آسٹریلیا، کینیڈا، انگلینڈ، انڈیا، آئرلینڈ، اٹلی، نمیبیا، نیپال، نیدرلینڈ، نیوزی لینڈ، عمان، پاکستان، سکاٹ لینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا، متحدہ عرب امارات، امریکہ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے۔

بنگلہ دیش اس فہرست میں نہیں ہے کیونکہ سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیش حکومت نے آئی سی سی سے اپنے تمام میچز انڈیا سے باہر کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

آئی سی سی نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو بنگلہ دیش کے بجائے ٹورنامنٹ میں شرکت کی دعوت دی۔ یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا حصہ نہیں بنے گا۔

اس پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے یہ بھی کہا کہ وہ 15 فروری کو انڈیا کے خلاف ہونے والا میچ کھیلے گی۔

دریں اثنا، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ایک نئے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا آغاز کیا ہے۔ 5 فروری سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ میں تین ٹیمیں شامل ہیں، جن میں لٹن داس، نظم الحسین شانتو، اور اقبال علی جیسے بنگلہ دیشی کرکٹرز شامل ہیں، جو ورلڈ کپ میں شرکت کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کا فائنل 9 فروری کو ہو گا۔

انڈیا نے 2007 میں پاکستان کو شکست دے کر پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس کے بعد انڈیا نے 2024 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا تھا۔

پاکستان نے 2009 میںٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس کے بعد انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور آسٹریلیا نے ٹائٹل جیتا ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی بھی ٹیم لگاتار دو مرتبہٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہے۔

20 ٹیموں کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، گروپ مرحلے کے لیے 40 میچز شیڈول ہیں۔

ہر گروپ سے سرفہرست دو ٹیمیں سپر ایٹ راؤنڈ میں جائیں گی، جس میں چار ٹیموں کے دو گروپ شامل ہوں گے۔ ہر گروپ کی سرفہرست ٹیمیں سیمی فائنل میں جائیں گی، فائنل مقابلہ 8 مارچ کو سرفہرست دو ٹیموں کے درمیان ہو گا۔

’پاکستان کا ٹرافی جیتنا اب صرف ٹیم ہی کے ہاتھ نہیں رہا‘’اس کے طویل مدتی اثرات ہوں گے‘: ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا پاکستان کو پیغامانڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟پاکستان نے ٹی20 سیریز میں آسٹریلیا کو کلین سویپ کردیا: محمد نواز کی پانچ وکٹیں اور ’بابر اعظم ورلڈ کپ کے لیے مکمل تیار‘انڈین چینلز اس بار پی ایس ایل کے میچز کیوں نہیں دکھا سکیں گے؟انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار: کیا پاکستان اپنے ’اصولی‘ فیصلے کا دفاع کر پائے گا؟کرکٹ میں ’سیاست اور پیسے کی کہانی‘: ٹی 20 ورلڈ کپ کے بحران میں آئی سی سی بے بس کیوں ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More