نیٹ میٹرنگ کے بجائے ’نیٹ بلنگ‘: نئے نظام سے نئے اور پرانے سولر صارفین کیسے متاثر ہوں گے؟

بی بی سی اردو  |  Feb 10, 2026

پاکستان میں بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کی جانب سے ملک میں سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف کروانے کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ نیا نظام کیا ہے اور اس سے سولر سسٹم کا استعمال کرنے والے نئے اور پرانے صارفین کیسے متاثر ہوں گے؟

نیپرا کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نئے قواعد کے تحت نیٹ میٹرنگ سے منسلک پرانے صارفین بھی اب نیٹ بلنگ کے نظام پر منتقل کر دیے جائیں گے جبکہ نئے صارفین کے لیے متعارف کرائے گئے قواعد میں 'نیٹ بلنگ' کے نظام سے منسلک ہونے کے علاوہ ان کے نیپرا کے ساتھ معاہدوں کی مدت پانچ سال کر دی گئی ہے۔

اس نئے نظام سے بنیادی تبدیلی یہ آئے گی کہ نیپراکے نئے قواعد کے تحت اب سولر صارفین اپنی اضافی بجلی پہلے سے زیادہ سستے داموں فروخت کریں گے جبکہ انھیں اپنی ضرورت کے لیے بجلی مہنگے ٹیرف پر خریدنی ہو گی۔ اس سے پہلے نیٹ میٹرنگ کے تحت صارفین جتنی بجلی بناتے تھے، اتنا ہی بجلی کا بل کم ہو جاتا تھا۔

پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے نظام میں ہونے والی یہ پہلی تبدیلی نہیں ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے صارفین سے بجلی کی خریداری کی قیمت گیارہ روپے کر دی گئی تھی۔

پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حالیہ برسوں میں سولر سے بجلی پیدا کرنے کے رجحان کر فروغ ملا ہے جس کی وجہ سولر پینلوں کا سستا ہونا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں اس وقت سولر سسٹمز سے تقریبا 7000 میگاواٹ کے لگ بھگ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جس میں نیٹ میٹرنگ کے علاوہ نان نیٹ میٹرنگ سولر صارفین بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں توانائی شعبے کے ماہرین کے مطابق نیپرا کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے نظام کی وجہ ملک میں قومی گرڈ سے بجلی کی کم کھپت ہے جسے حکومت بڑھانا چاہتی ہے۔

تاہم ان کے مطابق نیٹ بلنگ کا نیا نظام صارفین کو بیٹری سسٹم کو اپنانے پر مجبور کر سکتا ہے کیونکہ نیٹ بلنگ کے نظام کی شرائط کے بعد اب یہ نظام سولر صارفین کے لیے زیادہ پرکشش نہیں رہا۔

سولر صارفین کے لیے ’نیٹ بلنگ‘ کا نظام کیا ہے؟

نیپرا کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نیٹ بلنگ نظام کے تحت موجودہ سولر صارفین اپنے معاہدے ختم ہونے تک پرانے نظام پر رہیں گے، لیکن نئے صارفین اور تجدید کرانے والوں پر نیا نظام لاگو ہو گا۔

نئے نظام کے تحت اگر کوئی صارف گرڈ کو دی گئی بجلی کے مقابلے میں کم بجلی استعمال کرے تو اضافی رقم یا تو اگلے بل میں شامل کر دی جائے گی یا ہر تین ماہ بعد ادا کی جائے گی۔

نیپرا نے سولر سسٹم کی زیادہ سے زیادہ حد ایک میگاواٹ مقرر کی ہے اور شرط رکھی ہے کہ سسٹم کی گنجائش صارف کے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

انرجی شعبے کی ماہر عافیہ ملک کے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’نیٹ میٹرنگ کے نظام میں ایکسپورٹ اور امپورٹ یونٹ مائنس ہو جاتے تھے تاہم نیٹ بلنگ کے نظام میں ایسا کوئی آپشن نہیں ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’گرڈ سے بجلی لینے پر وہی قیمت ادا کرنی پڑے گی جو نان سولر صارفین کو ادا کرنی پڑتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’نئے نظام کے مطابق بجلی کی کمپنیاں سولر صارفین سے اضافی بجلی قومی اوسط قیمت پر خریدیں گی، جو اس وقت تقریباً 11 روپے فی یونٹ ہے۔ دوسری طرف جب یہی صارفین گرڈ سے بجلی لیں گے تو انھیں 40 سے 50 روپے یا اس سے زیادہ فی یونٹ ادا کرنا پڑے گا۔‘

نیٹ بلنگ کے نئے نظام سے پرانے صارفین کیسے متاثر ہوں گے؟

نیٹ میٹرنگ سے جڑے پرانے صارفین بھی نئے نظام کے تحت نیٹ بلنگ سے منسلک ہو جائیں گے۔ پرانے صارفین پر اس کے اثرات کے بارے میں عافیہ ملک نے بتایا کہ ’نئے قواعد کا اطلاق پرانے صارفین پر بھی ہوگا اور وہ بھی نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ کے نظام سے جڑ جائیں گے۔‘

ان کے مطابق ’پہلے اضافی بجلی کے یونٹس کے حساب کے بعد یہ صارفین جس فائدے میں تھے اب وہ انھیں حاصل نہیں رہے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نئے قواعد کے تحت ان کے معاہدوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور وہ سات سال تک برقرار رہیں گے تاہم ان کی جانب سے ایکسپورٹ کیے جانے والے یونٹس کو ان کے حساب میں ایک مہینے میں کریڈٹ کر دیا جائے گا جو پہلے تین مہینوں کے لیے ہوتا تھا۔‘

نیٹ بلنگ: نئے صارفین کے لیے کیا پالیسی ہے؟

سولر صارفین کے لئے نیٹ بلنگ کے نظام کے تحت جو پالیسی متعارف کرائی گئی ہے اس کے نئے قواعد کے مطابق، جب کسی صارف کا سولر سسٹم بجلی کے نظام سے جڑ جائے گا تو ہر بلنگ سائیکل کے آخر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی (ڈسکو) یہ حساب لگائے گی کہ صارف نے کتنی بجلی خود استعمال کی اور کتنی بجلی سولر سسٹم سے بنائی۔

توانائی شعبے کے ماہر زیان بابر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ صارف کی سولر سے بننے والی بجلی ڈسکو خرید لے گی، لیکن صارف کی اپنی بجلی کی کھپت کا بل مہنگے عام نرخ پر ہی بنایا جائے گا۔ البتہ صارف کی فراہم کردہ بجلی کی رقم بل سے منہا کر دی جائے گی۔‘

پاکستان میں بجلی کے صارفین گردشی قرض کے بوجھ تلے کیوں دبے ہوئے ہیں؟آندھی، طوفان میں سولر پینل گِرنے سے حادثات اور ’لاکھوں کا نقصان‘: اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟’سورج سے چلنے والے بھائی‘: نایاب بیماری میں مبتلا کوئٹہ کے ’سولر کڈز‘ کی زندگی اب کیسی ہے؟نیٹ میٹرنگ کے بجائے گراس میٹرنگ کی تجویز کا سولر صارفین کے لیے کیا مطلب ہو گا اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

نیپرا کے مطابق اگر کسی مہینے صارف کی جانب سے گرڈ کو دی گئی بجلی کی رقم، ڈسکو سے لی گئی بجلی کے بل سے زیادہ ہو جائے تو یہ اضافی رقم یا تو اگلے بل میں ایڈجسٹ کی جائے گی یا پھر ہر تین ماہ بعد صارف کو ادا کی جائے گی۔

بابر نے بتایا کہ ’نئے قواعد کے تحت سولر صارفین کو اب اجازت نہیں ہو گی کہ وہ اپنی منظور شدہ بجلی کی حد سے زیادہ صلاحیت کا سولر سسٹم لگائیں جس کا مقصد یہ ہے کہ گھریلو صارفین ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی بنا کر گرڈ کو فراہم نہ کریں۔‘

عافیہ ملک کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ’نئی پالیسی کے تحت نیٹ بلنگ کا نظام سولر صارفین کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ اب صارفین نیٹ بلنگ کے نظام سے جڑنے کی بجائے سولر پینل کے ساتھ بیٹریاں استعمال کر کے اپنی ضرورت کی بجلی بچائیں گے کیونکہ نیا نیٹ بلنگ نظام ان کے لیے مالی طور پر زیادہ منافع بخش نہیں رہا۔‘

ماہرین کے مطابق حکومت نئے نظام کے تحت گرڈ سے بجلی کی کھپت کو بڑھانا چاہتی ہے کیونکہ اس کی کم کھپت سے نان سولر صارفین پر کیپسٹی پیمنٹ کا بوجھ پڑتا ہے۔

زیان بابر نے کہا کہ ’یہ کہنا اس وقت مشکل ہے کہ کیا واقعی یہ پالیسی گرڈ سے بجلی کی کھپت کو بڑھا پائے گی۔‘

اس سلسلے میں عافیہ ملک کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے اس بات کا امکان کم ہے کہ گرڈ سے بجلی کی کھپت بڑھ پائے گی کیونکہ لوگ اگر نیٹ بلنگ پر کم مراعات کی وجہ نہیں جائیں گے تو وہ متبادل کے طور پر سولر پینل کے ساتھ بیٹریاں لگا کر اپنی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔

نیٹ میٹرنگ کے بجائے گراس میٹرنگ کی تجویز کا سولر صارفین کے لیے کیا مطلب ہو گا اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟’سورج سے چلنے والے بھائی‘: نایاب بیماری میں مبتلا کوئٹہ کے ’سولر کڈز‘ کی زندگی اب کیسی ہے؟27 کے بجائے 10 روپے فی یونٹ میں خریداری: پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی کیا ہے اور یہ صارفین کو کیسے متاثر کرے گی؟پاکستان میں بجلی کے صارفین گردشی قرض کے بوجھ تلے کیوں دبے ہوئے ہیں؟آندھی، طوفان میں سولر پینل گِرنے سے حادثات اور ’لاکھوں کا نقصان‘: اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟کپیسِٹی پیمنٹ: حکومت نجی بجلی گھروں کو کروڑوں کی ادائیگیوں سے چھٹکارا پانے کے لیے کیا کر سکتی ہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More