چین سے لانچ ہونے والا پاکستان کا ’ای او 2‘ سیٹلائیٹ کیا کرے گا اور کہاں سے کنٹرول ہوگا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 13, 2026

پاکستان نے اپنے قومی خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنا دوسرا مقامی ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ لانچ چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں واقع یانگ جیانگ سی شور لانچنگ سینٹر سے کی گئی، جہاں سے ایک آف شور مشن کے دوران پاکستان کے سیٹلائٹ سمیت چھ دیگر سیٹلائٹس بھی مدار میں بھیجے گئے۔

یہ سیٹلائٹ پاکستان کے قومی خلائی ادارے اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیر ریسرچ کمیشن یعنی سپارکو نے تیار کیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ ملک کی زمین کے مشاہدے (ارتھ آبزرویشن) اور ہائی ریزولوشن امیجنگ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

ای او ٹو سیٹلائیٹ کیا ہے؟

بی بی سی اردو سے گفتگو میں منصوبے سے وابستہ سینیئر انجینئر حامد زبیر وڑائچ نے بتایا کہ ’یہ ایک ہائی ریزولوشن ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ہے، یعنی زمین کے مشاہدے کی صلاحیت سے لیس سیٹلائیٹ۔ پاکستان کا یہ چھٹا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ہے اور تیسرا مقامی سیٹلائٹ ہے جس کا ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ پاکستان میں ہوا ہے۔‘

سپارکو حکام کے مطابق یہ سیٹلائٹ خلا سے زمین کی نہایت واضح تصاویر حاصل کرتا ہے۔ ان تصاویر کی مدد سے زمین کے مختلف حصوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا جا سکتا ہےچاہے وہ زرعی زمین ہو، دریا ہوں، گلیشیئرز ہوں یا شہری علاقے۔

یہ سیٹلائٹ کیا کرے گا؟

سپارکو حکام کے مطابق EO-2 قومی ترقیاتی منصوبہ بندی، قدرتی وسائل کے انتظام، ماحولیاتی نگرانی اور شہری پھیلاؤ کی مانیٹرنگ کے لیے اہم ڈیٹا فراہم کرے گا۔

انجینئر حامد زبیر وڑائچ نے بتایا کہ ’اس سیٹلائیٹ کا بنیادی مقصد زمین کے مشاہدے میں بہتری لانا ہے۔ اس سے آبادی کی میپنگ، منصوبہ بندی، سیلاب کی پیشگی وارننگ، گلیشیئرز کی نگرانی اور فصلوں کی مانیٹرنگ کی جا سکے گی۔ یہ سول ایپلیکیشنز میں پاکستان کے لیے بہت فائدہ مند ہوگا۔‘

سپارکو کے مطابق ’EO-2 کی شمولیت سے پاکستان کے سیٹلائٹ فلیٹ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ارتھ آبزرویشن ڈیٹا کی تسلسل، کوریج اور درستگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔‘

چین کی مدد سے خلا میں بھیجا جانے والا پہلا پاکستانی ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ جسے وژن 2047 کا حصہ قرار دیا جا رہا ہےسٹارلنک کو ’وزیر اعظم کی ہدایت پر‘ عارضی این او سی جاری: پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کیسے کام کرے گا؟’آئی کیوب قمر‘: چاند کے مدار میں پہنچنے والے پاکستانی سیٹلائیٹ سے پہلی تصاویر موصولپاک سیٹ ایم ایم ون: لاکھوں روپے کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کیا پاکستان میں عام آدمی کے لیے ’گیم چینجر‘ ثابت ہو گا؟یہ خلا میں کہاں اور کیسے کام کرتا ہے؟

ای او ٹو (EO-2) زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر کی بلندی پر نچلے مدار (لو ارتھ آربٹ) میں گردش کر رہا ہے۔

انجینئر حامد زبیر وڑائچ نے بتایا کہ ’یہ لو ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ہے، یعنی نچلے مدار میں ہے۔ جو زمین کے روزانہ تقریباً سات چکر لگاتا ہے، لیکن ایک ہی جگہ پر فکس نہیں رہتا، مقام بدلتا رہتا ہے۔‘

یعنی سیٹلائٹ مسلسل زمین کے گرد گردش کرتا ہے اور ہر چکر میں مختلف علاقوں کی تصاویر حاصل کرتا ہے۔

مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں انجینئر حامد زبیر وڑائچ کہتے ہیں کہ جتنے زیادہ سیٹلائٹس ہوں گے، اتنی جلدی مختلف علاقوں کی نگرانی ممکن ہوگی۔

اسے پاکستان سے لانچ کیوں نہیں کیا گیا؟

یہ سوال سوشل میڈیا پر بھی سامنے آیا کہ اگر سیٹلائٹ مقامی طور پر تیار ہوا تو اسے پاکستان سے کیوں لانچ نہیں کیا گیا؟

حامد زبیر وڑائچ کتے ہیں کہ "سپارکو کے پاس ابھی پاکستان میں لانچ پیڈ موجود نہیں ہے۔ اس ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے، لیکن فی الحال یہ سہولت دستیاب نہیں۔"

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین اور پاکستان خلائی تعاون کو تاریخی قرار دیا ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ پوری پاکستانی قوم کو پاکستان کے جدید ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ PRSC-EO2 کی کامیاب لانچنگ کے تاریخی سنگِ میل پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ، جو عوامی جمہوریہ چین کے تعاون سے مکمل ہوئی۔

اسحاق ڈار کے بقول ’یہ کامیابی پاکستان کی قومی خلائی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور تکنیکی خود انحصاری کو فروغ دینے میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔‘

چینی حکام نے بھی اس لانچ کو دوطرفہ تعلقات کی علامت قرار دیا، چین کے صحافی اور تجزیہ کار شین شیوی Shen Shiweiنے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سینئر پاکستانی وزیر نے ان سے گفتگو میں کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان ’آل ویدر اسٹریٹیجک کوآپریٹو پارٹنرشپ آسمانوں سے بھی بلند ہے۔‘

شین شی وی، جو چین کی سیاست اور معیشت پر تبصرہ کرتے ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ انھوں نے چین اور پاکستان کے درمیان خلائی تعاون کو قریب سے دیکھا ہے۔

سیٹلائٹ کی عمر اور کمیشننگ مرحلہ

سپارکو حکام کے مطابق EO-2 کی متوقع عمر تقریباً سات سال ہے۔ سپارکو کے انجینئر حامد زبیر وڑائچ نے بتایا کہ لانچ کے بعد سیٹلائٹ فوراً مکمل طور پر فعال نہیں ہوتا۔ ایک ابتدائی مرحلہ آتا ہے جسے 'کمیشننگ' کہا جاتا ہے۔

’یہ مدار میں پہنچ چکا ہے، ابھی کمیشننگ کا مرحلہ جاری ہے۔ اس میں اِن-آربٹ ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ ایک دو دن میں ابتدائی نتائج آنا شروع ہو جائیں گے۔‘

اس مرحلے میں سیٹلائٹ کے تمام آلات، سینسرز اور مواصلاتی نظام کو خلا میں جانچا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ درست طریقے سے کام کر رہے ہیں۔

انجینئر حامد زبیر وڑائچنے بتایا کہ اگرچہ لانچ چین سے ہوئی، لیکن سیٹلائٹ کا مکمل آپریشن پاکستان سے کیا جائے گا۔

پاک سیٹ ایم ایم ون: لاکھوں روپے کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کیا پاکستان میں عام آدمی کے لیے ’گیم چینجر‘ ثابت ہو گا؟’آئی کیوب قمر‘: چاند کے مدار میں پہنچنے والے پاکستانی سیٹلائیٹ سے پہلی تصاویر موصولکیا پاکستان میں ’سست انٹرنیٹ‘ کا حل فائیو جی ٹیکنالوجی میں چھپا ہے؟سٹارلنک کو ’وزیر اعظم کی ہدایت پر‘ عارضی این او سی جاری: پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کیسے کام کرے گا؟چین کی مدد سے خلا میں بھیجا جانے والا پہلا پاکستانی ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ جسے وژن 2047 کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More