اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی برائے مانیٹرنگ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکام ’نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی خراسان شاخ اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائیاں تو کر رہے ہیں، تاہم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو (افغان) حکام کی جانب سے بہت آزادی اور حمایت حاصل ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کے حملے بڑھ گئے ہیں اور اس صورتحال کے باعث خطے میں تناؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘
پاکستان نے اس رپورٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ پاکستان کے دیرینہ خدشات کی بھرپور تائید کرتی ہے کہ افغانستان میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ کی موجودگی بدستور قائم ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ ’یہ رپورٹ پاکستان کے اُس موقف کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا اصل ہدف پاکستان ہے اور یہ خطرہ افغانستان سے جنم لیتا ہے۔ دہشت گرد گروہ کو افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت، سہولت کاری اور وسائل تک رسائی حاصل ہے، جس سے اس کی کارروائیوں کو تقویت ملتی ہے۔‘
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جبکہ پاکستانی حکومت گذشتہ کچھ عرصے سے تسلسل سے یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ ملک میں شدت پسندی کی بڑی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
خیال رہے گذشتہ برس ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کے سبب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متعدد سرحدی جھڑپیں دیکھنے میں آئی تھیں جس کے بعد قطر اور ترکی کی کوششوں سے دونوں ممالک میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔
جہاں پاکستان افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کرنے کا الزام کرتا ہے وہیں افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکام اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
’ٹی ٹی پی خطے سے باہر بھی ایک خطرہ بن سکتی ہے‘Getty Images
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے کچھ رکن ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’ٹی ٹی پی اپنے حملوں کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے القاعدہ کے ساتھ اپنا تعاون بڑھا سکتی ہے اور خطے سے باہر بھی ایک خطرہ بن سکتی ہے۔‘
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی برائے مانیٹرنگ کا اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کو بھی (افغان) حکام کی ’سرپرستی‘ حاصل ہے اور یہ گروہ کالعدم ٹی ٹی پی کو تربیت اور تجاویز بھی دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے متعدد رُکن ممالک نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ غیرملکی افواج کی جانب سے افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ کالعدم ٹی ٹی پی کے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کو مزید مہلک بنا رہا ہے۔
’ٹی ٹی پی جدید رائفلز، نائٹ وژن ڈیوائسز، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز، سنائپر سٹمز اور ڈرون اٹیک سسٹم کا استعمال کرتی ہے۔‘
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی بنیادی طور پر افغانستان کے ننگر ہار، کنڑ، خوست اور پکتیکا جیسے علاقوں میں متحرک ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہیں اور ان پاکستانی سرحدی علاقوں میں پُرتشدد واقعات معمول سے پیش آتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ سنہ 2025 میں پاکستان میں حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ایک سال میں 3500 سے زیادہ حملوں میں ٹی ٹی پی کے ملوث ہونے کی شکایات درج ہوئی ہیں اور ان میں 2100 حملے جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اس طرح کی رپورٹس پہلے بھی جاری کی جا چکی ہیں۔
افغانستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ ہر سال ہی جاری کی جاتی ہے اور صرف اب نہیں بلکہ طالبان کی حکومت قائم ہونے سے قبل بھی اس طرح کی رپورٹ جاری کی جاتی رہی ہیں۔
’آمدن کا 48 فیصد حصہ‘ سکیورٹی امور پر خرچ کرنے والی افغان طالبان حکومت کو پیسہ کہاں سے ملتا ہے؟افغان طالبان کی قیادت میں موجود دراڑ اور انٹرنیٹ کی بندش کے پس منظر میں ہونے والی لڑائیکیا پاکستانی شدت پسند تنظیموں کی افغان جنگجوؤں کو حملوں سے دور رکھنے کی ہدایات افغان طالبان کے دباؤ کا نتیجہ ہیں؟پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ لیکن انڈیا سے قربتیں: افغان طالبان کی خارجہ پالیسی میں کیا ڈرامائی تبدیلیاں آئیں؟
وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسی تمام رپورٹس میں ہر برس ایک ہی جیسے الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں 30 یا 40 گروہ ہیں۔
ان کے مطابق ایسی رپورٹس اشرف غنی اور حامد کرزئی کے ادوار میں بھی جاری ہوئی تھیں۔
تجزیہ کار و محقق عبدالسید بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ اقوامِ متحدہ کی کسی رپورٹ میں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان تعلقات سے متعلق معلومات شامل کی گئی ہوں۔
یہ رپورٹ کیا ظاہر کرتی ہے؟Getty Images
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں سے وابستہ لوگوں کی تعداد چھ ہزار سے لے کر سات ہزار تک ہے، لیکن آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی بنیادی طور پر القاعدہ اور افغان طالبان کی بنائی ہوئی ایک تنظیم ہے اور القاعدہکو عالمی سطح پر ایک بڑی شدت پسند تنظیم سمجھا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس بات کا اعتراف ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے اپنی کتاب ’انقلاب محسود‘ میں بھی کیا ہے۔
سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی صلاحیتوں اور خطے سے نکل کر باہر کی دنیا کے لیے ممکنہ خطرات جیسی باتوں سے محسوس ہوتا ہے کہ اس رپورٹ میں حقائق بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اب ٹی ٹی پی وہ تنظیم نہیں رہی جو پہلے بیت اللہ محسود یا حکیم اللہ محسود کے دور میں ہوا کرتی تھی، اور جس کا عالمی ایجنڈا ہوا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اب ٹی ٹی پی اپنے بیانات میں عالمی ایجنڈے پر بات تک نہیں کرتی۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں کوئی نئے شواہد نہیں پیش کیے گئے ہیں بلکہ لگ بھگ پرانی باتوں کو ہی دہرایا گیا ہے۔
سمیع یوسفزئی کے مطابق ’ٹی ٹی پی سے پاکستان کو تشویش ضرور لاحق ہے اور ٹی ٹی پی کی توجہ کا واحد مرکز بھی اب پاکستان ہی ہے۔‘
Getty Images
عبدالسید کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی کمیٹی برائے مانیٹرنگ کی رپورٹس کی معلومات کے ذرائع عمومی طور پر رُکن ممالک ہوتے ہیں۔
’چونکہ ہر ملک کے اپنے سیاسی مفادات اور مقاصد ہوتے ہیں اس لیے یہ ممکن ہے کہ ان معلومات پر وہ مفادات اثر انداز ہوئے ہوں۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان رپورٹس کی تیاری کا ایک باقاعدہ طریقہ کار موجود ہوتا ہے، جس کے تحت مختلف رکن ممالک سے حاصل شدہ معلومات کا جائزہ لے کر انھیں رپورٹ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
عبدالسید نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کی رپورٹ یقیناً پاکستان کے اُس موقف کی پرزور تائید ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کو سرپرستی اور پناہ حاصل ہے، لیکن چونکہ اس معلومات کے ذرائع پاکستان سمیت دیگر رکن ممالک ہوتے ہیں، اس لیے ان پر سوالات بھی اٹھتے رہتے ہیں۔‘
تاہم عبدالسید یہ ضرور مانتے ہیں کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے سے اس نوعیت کا موقف سامنے آنا یقیناً افغان طالبان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ وہ ٹی ٹی پی کی موجودگی یا اس کی حمایت سے مسلسل انکار کرتے رہے ہیں۔
تجزیہ کار رفعت اللہ اورکزئی کہتے ہیں کہ افغان طالبان کی حکومت اور ٹی ٹی پی دونوں ہی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے، لیکن ’یہ ایک حقیقت ہے کہ متعدد کالعدم شدت پسند تنظیموں کے اہم کردار افغانستان میں نظر آئے ہیں۔ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور دیگر ٹی ٹی پی کے کمانڈرز افغانستان میں پائے گئے جبکہ ٹی ٹی پی کے کمانڈر عمر خالد خراسانی بھی افغانستان میں مارے گئے تھے۔‘
دوسری جانب سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ شدت پسند تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں سب سے زیادہ تشویش پاکستان کو ہے۔
’افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی اور ناں ہی کبھی ایسے کوئی واقعات ان کے ساتھ پیش آئے ہیں۔‘
افغانستان اور پاکستان کا کیا موقف ہے؟
افغان حکام ان تمام اطلاعات کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کسی بھی ایسی تنظیم کی حمایت نہیں کرتی، جو کسی اور ملک میں جا کر پُرتشدد کارروائیاں کرتی ہو۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے چند روز پہلے کہا تھا کہ افغانستان کی سلامتی کے بارے میں جو تشویش ظاہر کی جا رہی ہے وہ بے بنیاد ہے، افغانستان محفوظ ہے اور یہاں کوئی غیر ملکی یا غیر مجاز مسلح گروہ موجود نہیں ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک یا گروہ کے خلاف استعمال ہونے نہیں دی جائے گی۔
بی بی سی نے اس رپورٹ پر موقف جاننے کے لیے ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ’اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان ڈی فیکٹو حکام نے متعدد دہشت گرد گروہوں، بالخصوص ٹی ٹی پی، کو ایک سازگار ماحول فراہم کیا ہے جس کے نتیجے میں اسے زیادہ آزادی اور سہولت ملی ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی حملوں میں اضافہ اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’رپورٹ میں یہ تشویشناک پہلو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ القاعدہ کو افغان حکام کی سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث یہ تنظیم تربیت اور حکمتِ عملی کی رہنمائی فراہم کر کے ٹی ٹی پی کے لیے سہولت کار اور قوت بڑھانے والے عنصر کے طور پر کام کر رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ رپورٹ پاکستان کے اس مؤقف کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا اصل ہدف پاکستان ہے اور یہ خطرہ افغانستان سے جنم لیتا ہے۔ دہشت گرد گروہ کو افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت، سہولت کاری اور وسائل تک رسائی حاصل ہے، جس سے اس کی کارروائیوں کو تقویت ملتی ہے۔‘
’سی آئی اے سربراہ نے کہا ہم نے پاکستان میں ریڈیو سٹیشن قائم کر لیا‘: افغانستان پر سوویت حملے کا فیصلہ کیسے ہوا؟سلطان عزیز عزام: ایف ایم سٹیشن پر ناول پڑھ کر سُنانے والا ’براڈ کاسٹر‘ داعش خراسان کا کمانڈر کیسے بنا؟افغان شہریوں پر بیرون ملک عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے کی ممانعت: افغان علما کی قرارداد پاکستان، افغانستان کشیدگی میں کیا معنی رکھتی ہے؟’اسلامی اقدار کے منافی‘ لباس پہننے پر افغانستان میں گرفتاریاں: جب چار نوجوانوں کو پیکی بلائنڈرز جیسا سٹائل اپنانا مہنگا پڑ گیاافغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ ’طالبان کا دفاعی ڈھانچہ بن چکا ہے‘، امریکی رپورٹ کے انکشافات اور پاکستان کی تشویشامریکہ میں ’افغان شہری‘ لقمان خان کی گرفتاری: ’یہ خاندان بطور پناہ گزین کچھ عرصہ پاکستان میں رہا تھا‘