سیکس کی کم ہوتی خواہش کیا ٹیسٹوسٹیرون سے واپس آ سکتی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Feb 15, 2026

BBC

سنہ 1990 کی دہائی میں ایلن ریوز سٹیج پر باقاعدگی سے پرفارم کرتے تھے، جہاں ’دی ڈریم بوائز‘ کے رکن کے طور پر ہزاروں لوگوں کے سامنے وہ اپنے کپڑے اتارتے تھے۔ وہ اتنے مقبول تھے کہ وہ اپنے مرد رقاص ساتھیوں کے ہمراہ سپائس گرلز کی فلم سپائس ورلڈ میں بھی نظر آئے۔

اس وقت ریوز کی عمر 24 سال تھی اور ان کے مطابق وہ خاصے ’پر کشش‘ تھے۔

لیکن جب ریوز اپنی عمر کی 30 ویں دہائی میں داخل ہوئے تو انھوں نے خود کو ایک بالکل مختلف صورت حال میں پایا۔ ان کا مزاج خراب رہنے لگا اور سیکس کی خواہش تقریباً ختم ہو گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے ٹھیک محسوس نہیں ہوتا تھا۔‘

ریوز کی عمر اب 52 برس ہو چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سیکس کی خواہش کم ہونے سے ان کے طویل مدتی رشتے پر منفی اثر پڑا۔

ان کے مطابق: ’ہم تین تین، چار چار مہینے سیکس کے بغیر گزار دیتے تھے۔ مجھے بالکل دلچسپی نہیں تھی۔ اس طرح کی چیزیں ایک جوڑے کے درمیان تعلق کو توڑ سکتی ہیں۔‘

ریوز نے ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی (ٹی آر ٹی) شروع کی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے ان کی سیکس کرنے کی خواہش لوٹ آئی، انھیں یوں لگا جیسے وہ ’ایک چڑچڑے بوڑھے آدمی‘ سے واپس عمر کی 20 ویں دہائی والے نوجوان بن گئے ہیں۔

ریوز کے مطابق یہ ’ناقابل یقین حد تک شاندار‘ لگا۔ ریوز اب لندن میں مقیم ایک فٹنس اور لائف سٹائل کوچ ہیں۔

خواتین بھی اب ٹیسٹوسٹیرون کی طرف رجوع کر رہی ہیں۔

37 سالہ مینوپاز بلاگر ریچل میسن کہتی ہیں کہ اس ہارمون نے ان کی توانائی، توجہ کے ارتکاز اور سیکس کی خواہش کے لیے ’حیرت انگیز‘ کام کیا۔

ٹیسٹوسٹیرون کے نسخے تجویز کیے جانے کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کیئر کوالٹی کمیشن کی جانب سے مرتب کردہ نیشنل ہیلتھ سروس بزنس اتھارٹی کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں سنہ 2021 سے لے کر سنہ 2024 کے درمیان ٹیسٹوسٹیرون کے نسخے تجویز کیے جانے کی تعداد 135 فیصد بڑھی۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پورے برطانیہ میں جنسی خواہش میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جنسی رویوں اور طرز زندگی کے سروےمیں ہر دہائی کے دوران تقریباً 10 ہزار افراد سے سوال کیے جاتے ہیں۔ اس کے مطابق جنسی سرگرمی کی شرح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ سروے کے نئے اعداد و شمار اس سال کے آخر میں آئیں گے۔

سنہ 1990 کی دہائی میں 16 سے 44 سال کے افراد نے بتایا کہ وہ اوسطاً مہینے میں پانچ بار سیکس کرتے تھے۔ 2000 کی دہائی میں یہ تعداد مہینے میں چار بار رہ گئی اور 2010 مین تین بار۔ اگلے نتائج اس سال کے آخر میں متوقع ہیں اور محققین کو توقع ہے کہ یہ کمی جاری رہے گی۔ اگرچہ وہ اس کمی کی کوئی واحد وجہ بیان نہیں کرتے۔

اس پس منظر میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا ٹیسٹوسٹیرون بڑھانے سے سیکس کی خواہش بہتر ہو سکتی ہے یا اس پر ہونے والی توجہ زیادہ تر صرف تشہیر اور منافع کا نتیجہ ہے؟

سیکس کرنے کی کم ہوتی خواہش

ایلن ریوز کی سیکس کی خواہش میں کمی اس رجحان کی محض ایک مثال ہے، جس کے بارے میں محققین کہتے ہیں کہ یہ تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔

نیٹسال کی تعلیمی ڈائریکٹر سوازگ کلفٹن کہتی ہیں: ’کئی سال کے دوران ہم نے ہر آبادیاتی گروہ میں کمی نوٹ کی۔ مثال کے طور پر آج ایک ساتھ رہنے والے جوڑوں کی تعداد 90 کی دہائی کے مقابلے میں کم ہے۔ یہ سیکس کی خواہش میں کمی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ لیکن ساتھ رہنے والے جوڑوں کو خاص طور پر دیکھا گیا تو ان میں بھی اس خواہش کی کمی پائی گئی۔‘

درحقیقت جنسی سرگرمی میں سب سے نمایاں کمی عمر رسیدہ، شادی شدہ یا ساتھ رہنے والے جوڑوں میں دیکھی گئی۔

کلفٹن کے مطابق حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ سیکس کی خواہش کم ہوتی کیوں دکھائی دے رہی ہے۔

انھوں نے کہا: ’اب تک ہمارے پاس موجود اعداد و شمار واضح طور پر نہیں بتا سکتے کہ ہماری پوری آبادی اب اتنا زیادہ سیکس کیوں نہیں کر رہی۔‘

وہ عوامل جو مردوں اور خواتین میں جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش کو کم کرتے ہیںسیکس کی بڑھتی خواہش اور موڈ میں اُتار چڑھاؤ: جنوری کے سرد دن اور طویل راتیں ہمارے مزاج کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟بچے کی پیدائش کے بعد خواتین سیکس سے کیوں کتراتی ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟دوائیوں پر خوراک کے ممکنہ اثرات کتنے سنگین ہو سکتے ہیں اور 'ویاگرا' کس پھل کے ساتھ نہیں لینی چاہیے؟

کئی بار کی گئی تحقیق میں سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ یہ واضح ہوا کہ ڈیجیٹل دنیا ایک بڑا عنصر ہو سکتی ہے۔ یہ تمام توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ہے اور ذہن کو کچھ اور سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔

ڈاکٹر بین ڈیوس ایک سیکس تھراپسٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک وجہ ذہنی دباؤ بھی ہو سکتا ہے جو گذشتہ 30 سال کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔

انھوں نے وضاحت کی: ’لوگوں کی زندگیوں میں بہت کچھ چل رہا ہے۔ ٹیکنالوجی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ، افسردگی اور تنہائی بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ سب جنسی خواہش میں کمی کی وجہ بنتے ہیں۔‘

ایک اور امکان نے آن لائن بہت توجہ حاصل کی ہے اور اب ایک بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کم ٹیسٹوسٹریرون کی سطح سیکس کی خواہش پر اثر انداز ہوتی ہے۔

برٹش سوسائٹی فار سیکسوئل میڈیسن (بی ایس ایس ایم) کے رکن اور کنسلٹنٹ یورولوجسٹ پروفیسر جیفری ہیکیٹ کہتے ہیں: ’مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح یقینی طور پر کم ہو رہی ہے۔ موٹاپے میں اضافہ، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور زیادہ بیٹھے رہنے والا طرز زندگی، یہ سب ٹیسٹوسٹیرون کم کرتے ہیں۔ اور ٹیسٹوسٹیرون میں کمی ہماری سیکس کی خواہش میں کمی کی ایک وجہ ہے۔‘

گذشتہ 20 سال میں بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیقوں میں مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح ناپی گئی۔ ان سے نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ سطح کم ہوئی ہے۔ لیکن ہیکیٹ زور دیتے ہیں کہ معاملہ کہیں زیادہ پیچدہ ہے۔ کم ٹیسٹوسٹیرون کی وجہ سے سیکس کی خواہش کم ہو سکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کم ٹیسٹوسٹیرون والے ہر شخص میں یہ خواہش کم ہو گی۔

اس پیچیدگی کے باوجود ٹیوب سٹیشنوں، بسوں کے اڈوں اور سوشل میڈیا پر اب ایسے اشتہارات کی بھرمار ہے: کیا آپ میں جنسی خواہش کم ہے؟ دماغ پر دھند چھائی ہے؟ تھکاوٹ ہے؟ یہ ہے ٹیسٹوسٹیرون چیک کروانے کا وقت! کیا آپ کے مرد نے اپنی صلاحیت کھو دی ہے؟ شاید مسئلہ اس کے ہارمونز کا ہو!

تو کیا ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی (ٹی آر ٹی) کم جنسی خواہش کا جادوئی علاج ہے؟

ٹیسٹوسٹیرون نے ’مجھے میری زندگی لوٹا دی‘

میلیسا گرین تقریباً ایک سال سے ٹیسٹوسٹیرون لے رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس نے نہ صرف ان کی ’زندگی کی چمک‘ واپس لوٹا دی بلکہ ان کی شادی بھی بچا لی۔

43 سالہ گرین کہتی ہیں کہ ان مکی کم جنسی خواہش ان کے رشتے پر بہت زیادہ اثر ڈال رہی تھی۔

پیری مینوپاز کی حالت میں ہونے کے باعث میلیسا گرین کے ڈاکٹر نے پہلے ہی انھیں ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی کے ذریعے ایسٹروجن اور پروجیسٹرون تجویز کیے تھے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹر نے کہا تھا انھیں اضافی ہارمون کی ضرورت نہیں اور ان کے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح چیک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ وہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کیئر ایکسیلنس کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ان ہدایات کے مطابق ٹیسٹوسٹیرون صرف ان خواتین کے لیے زیر غور آنا چاہیے جنھوں نے پہلے سے ایچ آر ٹی کا کورس آزما لیا ہو اور جن میں جنسی خواہش کی کمی کی تمام دیگر ممکنہ وجوہات کو خارج کر دیا گیا ہو۔

بالآخر گرین ایک نجی کلینک گئیں، خون کے ٹیسٹ کروائے اور انھیں بتایا گیا کہ ان کی سطحیں کم ہیں۔ یہ نتائج انھوں نے اپنے ڈاکٹر کو بتائے اور اب انھیں این ایچ ایس سے کچھ مقدار میں ٹیسٹوسٹیرون ملتا ہے۔ اور کچھ مقدار ایک نجی نسخے کی وجہ سے ملتی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’اس نے میری زندگی واپس دے دی ہے۔ کچھ لحاظ سے مجھے لگتا ہے جیسے میں اپنی عمر کی 20 ویں دہائی میں ہوں۔ میری توانائی زیادہ ہو گئی ہے، ذہانت تیز ہوئی ہے، اور جنسی خواہش بھی واپس آ گئی ہے۔‘

Melissa Greenمیلیسا گرین اور ان کے شوہر مارکس

کچھ لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ٹیسٹوسٹیرون سیکس کی خواہش پر اثر ڈالتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کے خیال میں ایسا نہیں ہے۔

شیریل او مالی ایک سال تک ٹیسٹوسٹیرون لیتی رہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ اس نے مینوپاز کے دوران کھوئی ہوئی کچھ توانائی واپس لانے میں مدد کی، لیکن اس نے ان کی سیکس کی خواہش کو حد سے زیادہ بڑھا دیا اور وہ شدید غصے میں رہنے لگیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے سیکس کی بہت زیادہ خواہش ہوتی تھی۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ جنسی تعلق چاہتی تھی، لیکن اسی وقت میں اس سے نفرت بھی کرتی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، یہ میں نہیں تھی۔ میں خود پر قابو کھو رہی تھی۔‘

ریچل میسن کہتی ہیں کہ جب وہ ٹی آر ٹی کے بارے میں پوسٹ کرتی ہیں تو انھیں معلوم ہوتا کہ ’بہت سی خواتین ٹیسٹوسٹیرون شروع کرنے سے ڈرتی ہیں، انھیں فکر ہوتی ہے کہ ان میں مردانہ خصوصیات آ جائیں گی، چہرے پر بال آ جائیں گے، یا وہ خود کو کھو دیں گی۔‘

میسن کہتی ہیں کہ کلائی کے جس حصے پر وہ روزانہ ٹیسٹوسٹیرون جیل لگاتی ہیں وہاں خاص طور پر زیادہ بال اُگ آئے ہیں۔ لیکن ان کے مطابق ہارمون سے ملنے والے فائدے اتنے ہیں کہ کلائی کے ایک حصے پر بال اگنا برداشت کیا جا سکتا ہے۔

جسمانی بالوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹی آر ٹی کے کئی دیگر ممکنہ ضمنی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ خواتین میں سب سے عام اثرات میں ضرورت سے زیادہ بال اُگنا، مہاسے اور وزن میں اضافہ شامل ہیں۔ عام طور پر خوراک کم کرنے یا علاج روک دینے سے یہ مسائل پھر سے حل ہو جاتے ہیں۔ بالوں کا جھڑنا اور آواز کا بھاری ہونا ٹیسٹوسٹیرون کے استعمال میں بہت کم دیکھا جاتا ہے۔

مردوں میں یہ وزن بڑھنے، تکلیف دہ اور طویل عرصے تک قائم رہنے والے جنسی تناؤ، مردانہ گنج پن اور موڈ میں اتار چڑھاؤ جیسے اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ یہ نطفے کی پیداوار بھی کم کر سکتا ہے جس سے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت (فرٹیلیٹی) پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے لیے علاج موجود ہیں لیکن علاج سے پہلے طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔

’یہ آمدن کا آسان ذریعہ ہے‘

این ایچ ایس کے کچھ ڈاکٹروں اور سیکنڈری کیئر کنسلٹنٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ نجی کلینکس ٹی آر ٹی کو ایک پیچیدہ مسئلے کا فوری حل بتا رہے ہیں اور اسے بیچ کر منافع کما رہے ہیں۔

این ایچ ایس کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر پاؤلا بریگز جنسی اور تولیدی صحت کی ماہر ہیں۔ وہ اسے ’آمدن کا آسان ذریعہ‘ قرار دیتی ہیں۔ اس میں لوگ ایسی چیز پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کر رہے ہیں جس کی انھیں ضرورت بھی نہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ قابو سے باہر ہو چکا ہے اور صنعت اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ استحصالی ہے۔‘

تاہم نجی کلینکس کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کی زندگی بہتر بنا رہے ہیں، ایسی سروس فراہم کر کے جو این ایچ ایس دینے میں ناکام ہے۔

جیف فوسٹر، جو این ایچ ایس کے ڈاکٹر ہیں اور مردوں کی صحت کے لیے کروڑوں پاؤنڈ کی لاگت سے تیار کیے گئے کلینک وائے کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نجی شعبہ دیکھ بھال میں موجود خلا کو پُر کر رہا ہے۔

ان کے مطابق: ’فی الحال این ایچ ایس اس قابل نہیں کہ وہ ان ہزاروں مردوں کی تشخیص یا علاج کر سکے جن میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہو سکتی ہے۔‘

این ایچ ایس میں ٹی آر ٹی کی سہولت موجود ہے۔

مائیکل کوکسیس سنہ 2016 سے اپنی کمپنی بیلنس مائی ہارمونز کے ذریعے ٹی آر ٹیفراہم کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ چند سال میں طلب ’بے حد تیزی سے‘ بڑھی ہے۔

کوکسیس کہتے ہیں کہ ان کے کچھ مریض این ایچ ایس کے ذریعے ٹیسٹ کرواتے ہیں اور انھیں بتایا جاتا ہے کہ ان کی ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم نہیں ہے، جس کے بعد وہ نجی کلینک کا رخ کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’صرف اس لیے کہ کسی شخص کی ٹیسٹوسٹیرون کی سطح این ایچ ایس کے مقرر کردہ حد سے تھوڑی سی زیادہ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹی آر ٹی ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔ یہ معاملہ سیاہ اور سفید نہیں بلکہ اس میں بہت باریکیاں ہیں۔‘

AFP via Getty Imagesوائے کے میڈیکل ڈائریکٹر جیف فوسٹر کہتے ہیں: ’اس وقت این ایچ ایس اس قابل نہیں کہ وہ ان ہزاروں مردوں کی تشخیص یا علاج کر سکے جن میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہو سکتی ہے۔‘

30 سے 40 سال کی عمر کے درمیان مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح ہر سال تقریباً ایک فیصد کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق یہ بڑھتی عمر کے معمول کا ایک حصہ ہے اور اس سے جنسی عمل کی خواہش پر اثر پڑنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

ایلن ریوز کو ابتدا میں این ایچ ایس کے ذریعے ٹی آر ٹی ملی تھی۔ دو ٹیسٹوں میں ان کی سطحیں 10 نینومول فی لیٹراور 12 نینومول فی لیٹر آئیں۔ انھیں تین ہفتے کے وقفے سے چار انجیکشنز کا کورس دیا گیا۔ لیکن چوتھے انجیکشن کے بعد ’کسی خاص وضاحت کے بغیر‘ ریوز کو بتایا گیا کہ یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔

وہ کہتے ہیں: ’میں دوبارہ وہیں آ گیا جہاں سے شروع کیا تھا۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ میں نجی علاج کراؤں گا۔‘

تو مردوں کے لیے ٹیسٹوسٹیرون کی قابل قبول سطح کیا ہے؟ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس ادارے سے پوچھتے ہیں اور کون سی تحقیق پڑھتے ہیں۔

برٹش سوسائٹی فار سیکسوئل میڈیسن (بی ایس ایس ایم) کی ہدایات، جو بڑی بین الاقوامی تحقیقات سے اخذ کی گئی ہیں، تجویز کرتی ہیں کہ جن مردوں کی سطح 12 نینومول فی لیٹر سے کم ہو انھیں ٹی آر ٹی کے لیے زیر غور لایا جانا چاہیے۔ غالب امکان ہے کہ وہ ہائپوگونادزم کی علامات ظاہر کر رہے ہوں، یعنی ایسی حالت جس میں خصیے اس اہم جنسی ہارمون کی کافی مقدار پیدا نہیں کر رہے ہوتے۔

این ایچ ایس کی رہنما ہدایات مختلف ہیں۔ ان کے کے مطابق جس مرد میں سطح چھ سے آٹھ نینومول فی لیٹر سے کم ہو گی، اس میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہو سکتی ہے۔

خواتین میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح 20 سے 40 سال کی عمر کے درمیان کم ہونا شروع ہوتی ہے اور پھر مینوپاز کے قریب آ کر ایک سطح پر رک جاتی ہے۔ سطح کا کم ہونا معمول کی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کمی جنسی خواہش اور مجموعی صحت پر کتنی اثر انداز ہوتی ہے۔

ٹیسٹ موجود ہیں لیکن درست پیمائش لینا مشکل ہے۔ اگرچہ ٹیسٹوسٹیرون خواتین کے لیے بھی اہم ہے لیکن ان کے جسم کو اس کی بہت کم مقدار درکار ہوتی ہے۔ اگر خواتین کو یہ تجویز بھی کیا جائے تو اسے ’آف لیبل‘ دینا پڑتا ہے، کیونکہ فی الحال این ایچ ایس میں خواتین کے لیے کوئی منظور شدہ علاج موجود نہیں۔

بریگز ٹی آر ٹی کی مقبولیت پر محتاط ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جو آ کر انھیں بتاتے ہیں کہ انھیں ٹیسٹوسٹیرون چاہیے کیوں کہ وہ خود کو اداس محسوس کرتے ہیں اور سیکس کا موڈ نہیں بنتا۔

’وہ مجھے بتاتے ہیں کہ انھوں نے تحقیق کر لی ہے۔ اکثر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر کسی ایسے شخص کی پوسٹ دیکھی ہوتی ہے جو کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس ہارمون نے زندگی بدل دی۔‘

بریگز کا کہنا ہے کہ ’ہارمون نے کسی معروف شخصیت کے لیے کام کیا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ عام لوگوں کے لیے بھی کام کرے گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے مقامی علاقے چیشائر اور مرسی سائیڈ میں ڈاکٹروں کے پاس ایسے مریضوں کی بھرمار ہے جو ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ کروانا چاہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ ٹی آر ٹی کا نسخہ لے کر جاتے ہیں لیکن چند ماہ بعد واپس آ کر کہتے ہیں کہ اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔

وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ کچھ لوگوں کو ٹی آر ٹی سے فائدہ ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ٹیسٹوسٹیرون کے خواہش مند ہر شخص کو ہی اس سے فائدہ پہنچے۔ خواتین کے بارے میں اب تک دستیاب طبی شواہد بتاتے ہیں کہ ٹی آر ٹی صرف ان خواتین کے لیے موثر ہے جو مینوپاز کے بعد جنسی عمل کی خواہش کی کمی کا شکار ہوں۔

بریگز کہتی ہیں کہ نجی کلینکس کی تشہیر نے ’ہر چیز کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا دیا ہے۔ میں اُس وقت ٹی آر ٹی کے خلاف نہیں ہوں جب اس کی ضرورت ہو، لیکن اس کی ضرورت سے زیادہ تشہیر کے خلاف ضرور ہوں۔‘

ڈاکٹر بین ڈیوس بھی خبردار کرتے ہیں کہ کچھ مریض صرف نفسیاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ ان پر ٹی آر ٹی کا اثر ہو رہا ہے اور وہ ایسے علاج پر اپنی رقم خرچ کرتے رہتے ہیں جس کی انھیں ضرورت نہیں ہوتی۔

شیریل او مالی نے ٹیسٹوسٹیرون لینا بند کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ علاج کے دوران انھیں شدید غصہ اور حد سے زیادہ سیکس کی خواہش محسوس ہوتی تھی، وہ اب ختم ہو چکی ہے اور ان کی جنسی خواہش اس سطح پر واپس آ گئی ہے جو ان کے لیے آرام دہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے بہت سکون ہے کہ میں نے اسے لینا چھوڑ دیا۔‘

Cheryl O'Malleyشیرل او میلی کہتی ہیں کہ 'مجھے بہت سکون ہے کہ میں نے اسے (ٹیسٹوسٹیرون) لینا چھوڑ دیا۔'’یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے‘

ڈیوس کہتے ہیں ’دوا کچھ لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے‘ لیکن وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ صرف دوا دینے تک محدود نہیں ہے۔

’جنرل پریکٹیشنرز (جی پیز) کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ مریض کے ساتھ یہ بات کریں کہ اس کی جنسی خواہش کم ہونے کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ کیا یہ اس کے پارٹنر کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ہے؟ کیا یہ اس کے اپنے نظریے کی وجہ سے ہے؟ یا کیا موجودہ جنسی تعلقات اسے اب مزید دلچسپ نہیں لگ رہے؟‘

وہ کہتے ہیں کہ جنسی خواہش کم ہونے کے پیچھے بہت سے عوامل کام کر رہے ہیں اور ٹیسٹوسٹیرون واحد حل نہیں ہے۔

ایلن ریوز سات سال سے ٹی آر ٹی (ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی) پر ہیں۔ انھیں پرائیویٹ کلینک ’بیلینس مائی ہارمون‘ سے ٹیسٹوسٹیرون تجویز کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی ڈرامائی طور پر بہتر ہو گئی ہے۔

’میری جنسی خواہش واپس آ گئی ہے، اتنی کہ شروع میں میں ہر رات دس راتوں تک جنسی تعلق چاہتا تھا۔ لیکن اب یہ معمول پر آ گئی ہے اور میں بس ایک بہتر حالت میں ہوں۔‘

اس کے باوجود ریوز کا ماننا ہے کہ ’یہ جادوئی حل نہیں ہے‘ اور اپنا طرزِ زندگی تبدیل کیے بغیر ٹیسٹوسٹیرون لینا بے فائدہ ہے۔

ورنہ، وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک فراری کا انجن کسی ’خراب کار‘ میں ڈال دیا جائے۔‘

’اب میں زیادہ اعتماد کے ساتھ سیدھا چلتا ہوں، جو جزوی طور پر ٹیسٹوسٹیرون کی وجہ سے ہے اور جزوی طور پر میری اپنی محنت کی وجہ سے۔‘

کچھ خواتین کو سپرم سے الرجی کیوں ہوتی ہے؟کونڈم کے بغیر سیکس کرنے سے پھیلنے والا انفیکشن ’سوزاک‘ کیا ہے؟وہ دوا جو خواتین کو انجانے میں سیکس کی ’خطرناک لت‘ میں مبتلا کر سکتی ہےسیکس میں لذت بڑھانے کی غرض سے منشیات کا استعمال: ’پہلے پہل تو خوشگوار آزادی کا احساس ہوا، مگر پھر میں زندہ لاش بن گیا‘اچھی سیکس لائف کیسی ہوتی ہے اور اس میں موجود خرابیاں کیسے دور کی جائیں؟کیم سیکس: ’جنسی لذت کے لیے آئس کا نشہ کرنے سے لطف تو دوبالا ہوا لیکن ہم تیزی سے کمزور پڑنے لگے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More