’میں نے بس جے ہند کے نعرے کا جواب دیا‘: انڈیا کا ترانہ گانے پر باچا خان یونیورسٹی کے چار طلبا کو نکال دیا گیا

بی بی سی اردو  |  Feb 17, 2026

Getty Images

’میرے والد کو ابھی تک علم نہیں کہ مجھے یونیورسٹی نکال دیا گیا، یہ بات صرف میری امّی جانتی ہیں۔ میں نے گھر آ کر ان کو یہی بتایا کہ اس بار رمضان گھر پر ہی گزاروں گا۔‘

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر سے تعلق رکھنے والے مراد خان ان چار طالب علموں میں شامل ہیں، جنھیں 13 فروری کو باچا خان یونیورسٹی سے ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد نکالا گیا تھا۔

اس ویڈیو میں ایک طالب علم کو انڈیا کا ترانہ گاتے ہوئے اور کچھ دیگر طالب علموں کو ان کا ساتھ دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی نے اس معاملے پر باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم خبر کے شائع ہونے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ویڈیو میں کیا ہے؟

یہ ویڈیو 11 فروری کو باچا خان یونیورسٹی میں شام چار بجے کے بعد اس وقت بنائی گئی تھی جب کیمپس میں یوتھ فیسٹیول کے پہلے دن کا اختتام ہوا تھا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں فارمیسی کے طالب علم جبران ریاض کو انڈیا کا ترانہ گاتے ہوئے سُنا جا سکتا ہے جبکہ ان کے ساتھ کھڑے کچھ دیگر طالب علم بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد 13 فروری کو باچا خان یونیورسٹی میں ڈسیپلینری کمیٹی کی میٹنگ ہوئی اور اس کے بعد جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں چار طالب علموں کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ’جبران ریاض، سید کاتب شاہ، بشیر خان اور مراد خان نے بدامنی پھیلانے اور قومی اتحاد کو نقصان پھیلانے کی نیت سے انڈیا کا ترانہ گایا۔ انھوں نے اس واقعے کو ریکارڈ کیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی پھیلایا۔‘

اس نوٹیفکیشن میں ان چاروں افراد کو ہاسٹل کے کمرے خالی کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

طالب علم کی معافی اور صفائی کا موقع نہ دیے جانے کا شکوہ

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد طالب علم جبران ریاض نے ایک اور ویڈیو بنائی جس میں وہ اپنے عمل پر معذرت کرتے نظر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یوتھ فیسٹیول پر تمام سٹوڈنٹس اکھٹے ہوئے تھے، جس طرح مذاق میں ہم انڈیا کے گانے گاتے یا سنتے ہیں، میں بھی اسی طرح سے ترانہ گایا، پھر میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ آپ کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ ایک مذاق تھا۔ ’پاکستان ہمارا اپنا ملک ہے، ہم اس کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتے اور انڈیا ہمارا دشمن ہے۔‘

دوسری جانب یونیورسٹی سے نکالے جانے والے ایک اور طالب علم مراد خان کہتے ہیں کہ ’واقعے کے بعد ہمیں بُلایا گیا اور بس اتنا کہا کہ آپ لوگ ایک ویڈیو میں آئے ہیں۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ انھیں صفائی دینے کا موقع بھی نہیں دیا گیا اور انھیں یونیورسٹی سے نکالے جانے کا علم نوٹیفکیشن سے ہوا۔

’صفائی کا موقع بھی نہیں دیا گیا، ہمارا کیریئر ختم کر دیا گیا۔ ہم نے تو ایڈوانس میں اگلے سمیسٹر اور ہاسٹل کی فیس بھی جمع کروا رکھی تھی۔‘

مراد خان نے مزید بتایا کہ ’مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس تفریخ کی اتنی بڑی سزا ہو گی، جب ترانہ ختم ہوا تو میں نے بس جے ہند کے نعرے کا جواب دیا تھا۔‘

قومی ترانے کی ’بے ادبی‘ اور علی امین گنڈاپور کی وضاحت: ’افغان قونصل جنرل کو پاکستان کے ترانے سے کوئی مسئلہ نہیں‘’جناح وندے ماترم کے خلاف تھے‘: مودی کی لوک سبھا میں تقریر اور 150 برس پرانے قومی گیت پر تنازعجب سورۃِ فاتحہ کو پاکستان کا قومی ترانہ بنانے کی تجویز پیش کی گئی’دل دل پاکستان‘ دل کی بات تھی جو دلوں میں اتر گئیکشمیر: پاکستانی ترانہ گانے پر کرکٹ ٹیم گرفتار
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More