انڈیا میں کانفرنس کے دوران ’چینی ساختہ‘ روبوٹ کتے کی نمائش پر تنازع کیوں ہوا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 18, 2026

Getty Images

انڈیا میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات پر مبنی پانچ روزہ اجلاس کو عالمی رہنماؤں اور ٹیکنالوجی ایگزیکٹوز کے ایک تاریخی اجتماع کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ تاہم یہ اپنے آغاز کے بعد سے ہی ایک کے بعد دوسرے تنازع کا شکار ہوتا چلا گیا۔

لیکن اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران سب سے منفرد تنازع ایک روبوٹ کتے پر پیدا ہوا۔

پیر کے روز اس اجلاس کا افتتاح انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اور اسے عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) میں منعقد ہونے والی پہلی بڑی بین الاقوامی اے آئی کانفرنس قرار دیا گیا۔ اس بین الاقوامی ایونٹ میں 20 ممالک کے صدر، وزرائے اعطم اور نائب صدور شرکت کر رہے ہیں۔

تاہم آغاز سے ہی اس کے بارے میں شکایات سامنے آنے لگیں۔

افتتاح کے موقع پر شرکا نے طویل قطاروں، حد سے زیادہ بھیڑ اور بد انتظامی کی شکایت کی۔ شرکا کا کہنا تھا کہ انھیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ کچھ نے یہ بھی بتایا کہ کھانے اور پانی تک رسائی محدود تھی اور ان کے سٹال سے ان کی مصنوعات چوری ہو گئیں۔

مغرب کو عمومی طور پر مصنوعی ذہانت کا مرکز خیال کیا جاتا ہے۔ لہذا یہ بات اہم تھی کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے اہم رہنماؤں کا اجلاس جنوب میں ہو رہا ہے، یعنی وہ خطہ جو مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔

Getty Imagesاے آئی سمٹ کے افتتاح پر شرکاء نے طویل قطاروں، حد سے زیادہ بھیڑ اور بد انتظامی کی شکایت کی

مصنوعی ذہانت کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گذشتہ برس ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں نے انڈیا میں مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

مائیکروسافٹ کی جانب سے 17.5 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔ یہ ایشیا میں اس کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ گوگل نے 15 ارب ڈالرز جبکہ ایمازون نے 35 ارب ڈالرز مختص کیے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایمازون ان 35 ارب ڈالرز میں سے کتنی رقم مصنوعی ذہانت پر خرچ کرے گا۔

انڈیا خود کو عالمی جنوب کے رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے۔ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کہہ چکے ہیں کہ ’مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی شراکت داری میں عالمی جنوب کی زیادہ شمولیت ہونی چاہیے۔‘

114 نئے رفال طیاروں کی خریداری کا معاہدہ: انڈیا فرانسیسی ساختہ لڑاکا جہازوں پر ہی انحصار کیوں کر رہا ہے؟انڈین شہری کا سکھ رہنما کے قتل کی سازش کا اعتراف: ’مودی حکومت نے امریکی زمین پر کرائے کے قاتلوں کےذریعے قتل کی سازش تیار کی‘دس ماہ کی بچی جس نے اپنے اعضا عطیہ کر کے پانچ لوگوں کی زندگیاں بچا لیں دھمکیوں اور فوجی مشقوں کے بیچ چند حوصلہ افزا بیانات: عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دورروبوٹ کتے پر تنازع کیوں ہوا؟

مصنوعی ذہانت کے اس اجلاس میں ایک روبوٹ کتا بھی رکھا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں انڈیا کی گلگوٹیا یونیورسٹی کی نمائندہ انٹرویو لینے والے کو اس کتے سے متعارف کرا رہی تھیں۔ انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا ’آپ کو اورائن سے ملنا چاہیے۔ یہ گلگوٹیا یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلینس نے بنایا ہے۔‘

اور اسی دعوے نے ایسے تنازع کو جنم دیا جس پر ہر کوئی بات کر رہا ہے۔

انڈیا کے وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی وشنو نے ایکس پر ایک روبوٹ کتے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا کے خود مختار اے آئی ماڈلز عالمی معیار پر اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ یہ ہمارے انجینیئرز اور جدت کاروں کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔‘

اسی پوسٹ کے نیچے صارفین کے رد عمل کی مدد سے ہی ایکس نے یہ سیاق و سباق مرتب کیا: ’یہ روبوٹ چین سے درآمد کیا گیا ہے، جس کی لاگت 2800 ڈالرز ہے۔‘

چائنہ پلس نامی ایک ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ’دہلی کی اے آئی سمٹ میں انڈیا کی ایک یونیورسٹی نے چینی روبوٹ کو اپنی تخلیق ظاہر کر کے پیش کیا ہے۔‘

اس کے بعد تنقید کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔

انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ایکس پوسٹ میں لکھا ’مودی حکومت نے عالمی سطح پر انڈیا کو اے آئی کے معاملے میں مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ اے آئی سمٹ میں چینی روبوٹوں کو ہمارا اپنا بتا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ چینی میڈیا نے ہمارا مذاق اُڑایا ہے۔ یہ بھارت کے لیے واقعی شرم ناک ہے۔‘

واضح رہے کہ مذکورہ پوسٹ اب اشونی وشنو کے ایکس اکاؤنٹ پر موجود نہیں ہے۔

تنازع کے بعد گلگوٹیا یونیورسٹی نے بھی ایکس پر وضاحت جاری کی اور لکھا ’یہ روبوٹ کتا گلگوٹیا نے نہیں بنایا اور نہ ہی ہماری جانب سے ایسا دعویٰ کیا گیا۔‘

یونیورسٹی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس سے فیکلٹی اور طلبہ ’گہری تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔‘

روبوٹ کتا آخر بنایا کس نے؟

انڈیا کے متعدد ذرائع ابلاغ کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے پیش کیا گیا چار ٹانگوں والا روبوٹ دراصل یونی ٹری گو 2 تھا۔ ایک ایسا کمرشل روبوٹ جو ایک چینی کمپنی بناتی ہے۔ یونی ٹری روبوٹکس ایک چینی کمپنی ہے جو ہائی پرفارمنس چار ٹانگوں والے روبوٹ بنانے میں مہارت رکھتی ہے۔

یونیورسٹی کی جن نمائندہ نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ روبوٹ کتا یونیورسٹی کی جانب سے بنایا گیا ہے، انڈین میڈیا نے ان سے بھی انٹرویو کیا۔

انھوں نے اپنی شناخت گلگوٹیا یونیورسٹی کی پروفیسر نیہا سنگھ کے نام سے کرائی اور کہا کہ ابتدائی انٹرویو میں شاید وہ اپنی بات زیادہ واضح انداز میں کہہ نہیں پائیں۔

ان کا کہنا تھا: 'اس روبوٹ ڈاگ کے اوپر ہی برینڈنگ ہے، جب ہم نے برینڈنگ تبدیل نہیں کی تو یہ دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں کہ ڈاگ ہم نے بنایا۔'

خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے مطابق گلگوٹیا یونیورسٹی کے سٹاف نے سمٹ میں اپنا سٹال خالی کر دیا ہے۔

دھمکیوں اور فوجی مشقوں کے بیچ چند حوصلہ افزا بیانات: عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دوردس ماہ کی بچی جس نے اپنے اعضا عطیہ کر کے پانچ لوگوں کی زندگیاں بچا لیں 114 نئے رفال طیاروں کی خریداری کا معاہدہ: انڈیا فرانسیسی ساختہ لڑاکا جہازوں پر ہی انحصار کیوں کر رہا ہے؟انڈین شہری کا سکھ رہنما کے قتل کی سازش کا اعتراف: ’مودی حکومت نے امریکی زمین پر کرائے کے قاتلوں کےذریعے قتل کی سازش تیار کی‘طارق رحمان: 18 ماہ کی قید اور 17 سال جلاوطنی کاٹنے والے بنگلہ دیش کے’ممکنہ وزیرِاعظم‘ کون ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More