AFP via Getty Images
پاکستان میں جہاں ایک طرف مقدس ماہ رمضان کا چاند نظر آنے پر مبارکبادیں دی جا رہی ہیں وہیں کئی لوگ سوشل میڈیا پر گذشتہ چند دنوں سے یہ پوچھتے دکھائی دے رہے ہیں کہ آیا ان کے بینک اکاؤنٹ سے خود بخود زکوٰۃ کٹے گی یا نہیں۔
گذشتہ روز پاکستان کی وفاقی وزارت تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے رواں سال کے لیے زکوٰۃ کا نصاب پانچ لاکھ 3 ہزار 529 روپے مقرر کیا تھا۔
جبکہ دو روز قبل وزارت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بینکس اکاوؑنٹس سے ’یکم رمضان کو زکوٰۃ کاٹی جائے گی۔‘
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر یکم رمضان کو کسی اکاؤنٹ میں موجود رقم پانچ لاکھ 3 ہزار 529 روپے سے کم ہوگی تو اس پر زکوٰۃ نہیں کاٹی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی ہر سال کی طرح بحث چل پڑی ہے کہ زکوٰۃ کن کن اکاؤنٹس سے اور کتنی کاٹی جائے گی؟
کن اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کاٹی جائے گی؟
حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ زکوٰۃ اور عشر آرڈیننس 1980 کے مطابق، زکوٰۃ ہر طرح کے سیونگ بینک اکاؤنٹس سے کاٹی جاتی ہے۔
آرڈیننس میں لکھا ہے کہ یہ قانون صرف بینکوں میں موجود کھاتوں پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ اس کا اطلاق ڈاک خانوں، قومی بچت کے مراکز اور دیگر مالیاتی اداروں میں موجود اکاؤنٹس پر بھی ہوتا ہے، چاہے وہ کسی نام سے بھی ہوں۔
صحافی تنویر ملک سے بات کرتے ہوئے بینکار فرحان محمود نے بتایا کہ زکوٰۃ تمام اکاؤنٹس سے کاٹی جاتی ہے، ماسوائے ان اکاؤنٹس کے جن میں لوگ حلف نامہ جمع کروا کر بینک کو مطلع کر دیں کہ ہماری زکوٰۃ نہ کاٹی جائے۔
رمضان 2026: دنیا کے کس علاقے میں سب سے مختصر اور کہاں طویل ترین روزہ ہو گا؟کجھور سے روزہ افطار کرنا ہماری صحت کے لیے مفید کیوں ہے؟رمضان نے بھی ہمارا کیا بگاڑ لیادلی کی جامع مسجد میں روزانہ افطار اور محبتیں بانٹنے والی ہندو لڑکی کن اکاؤنٹس کو زکوٰۃ سے استثنیٰ حاصل ہوتی ہے؟
پاکستان میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ زکوٰۃ اور عشر آرڈیننس 1980 میں کرنٹ اکاؤنٹس کا ذکر نہیں، جنھیں عموماً نوکری پیشہ افراد ’پے رول اکاؤنٹ‘ بھی کہتے ہیں۔
ماضی میں بی بی سی بات کرتے ہوئے نجی بینک میں ملازمت کرنے والے افسر سہیل لطیف کا کہنا تھا کہ فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کا جب سیونگز اکاؤنٹ کھولا جاتا ہے تو وہ بینک میں بیان حلفی بھی جمع کرواتے ہیں کہ بینک ان کی زکوٰۃ نہ کاٹے بلکہ وہ خود ہی زکوٰۃ ادا کریں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس بیان حلفی کے بعد بینک ایسے شخص کے اکاؤنٹ سے زکوٰۃ کی رقم نہیں کاٹی جاتی۔
خیال رہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل تشیع اس بات پر متفق ہیں کہ زکوٰۃ صرف اسی کو کہتے ہیں کہ جو اپنے ہاتھ سے دی جائے اور بینکوں کے کھاتوں سے نکالی گئی رقم کہاں خرچ کی گئی، اس کے بارے میں کبھی بھی کھاتے داروں کو نہیں بتایا گیا۔
Bloomberg via Getty Images
تاہم دیگر افراد جو نہیں چاہتے کہ حکومت ان کے اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کاٹے وہ بھی سی زی-50 (CZ50) نامی ایک حلف نامی جمع کروا سکتے ہیں۔ اس فارم میں لکھا ہوتا ہے کہ بینک مذکورہ صارف کے اکاؤنٹ سے کٹوتی نہ کرے اور وہ خود اپنا زکوّۃ ادا کریں گے۔
تاہم پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک کے مطابق، یہ فارم یکم رمضان سے 30 روز قبل جمع کروانا ضروری ہے۔
زکوٰۃ کیا ہے اور کتنی عائد ہوتی ہے؟
ہر اس مسلمان پر زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے جس کے پاس نصاب سے زیادہ سے نقد رقم یا اس کے مساوی سٹاک، سونا اور مالِ تجارت ہو۔ ان تمام چیزوں کی کل قیمت ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینا ہوتا ہے۔
زکوٰۃ کسی بھی غریب یا ضرورت مند بشمول رشتہ داروں کو دی جا سکتی ہے۔ تاہم شوہر اپنی بیوی یا بیوی اپنے شوہر کو زکوِٰۃ نہیں دی سکتی ہے نہ ہی کوئی شخص اپنے، والدین، دادا دادی، نانا نانی، بچوں، پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو نہیں دے سکتا ہے۔
اس کے علاوہ کوئی صاحبِ نصاب شخص زکوٰۃ وصول نہیں کر سکتا ہے۔
Anadolu via Getty Imagesپاکستان میں زکوٰۃ کا قانون کب رائج ہوا؟
پاکستان میں زکوٰۃ اور عُشر کا قانون سابق فوجی صدر جنرل ضیاالحق کے دور میں سنہ 1980 میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں نافذ کیا گیا۔
جب یہ قانون عمل میں لایا گیا تو خدشات پہلے سے ہی موجود تھے کہ پاکستان کے نظام میں اس قانون پر عملدرآمد میں مشکلات پیش آئیں گی، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اس میں بے ضابطگیوں کے خدشات بھی موجود تھے۔
اس نظام کے تحت کوشش کی گئی کہ فیڈرل زکوٰۃ کونسل اس قانون پر عملدرآمد کی نگرانی کرے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کا جج کرے جبکہ اس کونسل کے دیگر بھی اچھی شہرت کے حامل ہوں۔
اسی طرح صوبائی سطح پر بھی ہائی کورٹ کا جج اس کونسل کی نگرانی کرے جبکہ بالکل بنیادی سطح پر بالغ مسلمان، اساتذہ اور علما ایک مسجد میں بیٹھ کر زکوٰۃ کونسل کے چیئرمین اور دیگر ارکان کو منتخب کریں۔
سنہ 1983 میں جو گزٹ شائع ہوا تھا اس کے مطابق ملک بھر میں 32 ہزار زکوٰۃ کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں۔ مرکزی سطح پر بنائی گئی کونسل کے اخراجات وفاقی حکومت جبکہ صوبائی سطح پر بنائی گئیں زکوٰۃ کونسل کے اخراجات صوبائی حکومتیں برداشت کرتی تھیں۔
زکوٰۃ کے مستحق افراد کے ناموں کی فہرست مؤکل کونسل تیار کرتی تھی جبکہ زکوۃ کونسل کے ارکان پر مجموعی زکوٰۃ کا دو سے 10 فیصد تک اخراجات کی مد میں خرچہ کیا جاتا تھا۔
Getty Images
بینکوں سے جو رقم زکوٰۃ کی مد میں کاٹی جاتی اور مستحق افراد کو تقسیم کی جاتی تو ان خدمات کے عوض بینکوں کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا۔
زکوٰۃ کا یہ نظام تقریباٌ30 سال تک ملک میں رائج رہا اور بھر سنہ2010 میں 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ معاملہ صوبوں کو چلا گیا اور سنہ1980 کا زکوٰۃ کا قانون ختم کردیا گیا۔
اگرچہ زکوٰۃ کی رقم جو بینکوں سے کاٹی جاتی ہے وہ رقم فیڈرل زکوٰۃ کونسل کے اکاؤنٹ میں ہی جاتی ہے تاہم وہاں سے یہ رقم آبادی کے تناسب سے صوبوں میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔
موجودہ قانون
18ویں آئینی ترمیم کے بعد زکوٰۃ کا محکمہ صوبوں کے پاس چلا گیا جس کے مطابق آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں زکوٰۃ اور عشر کونسل کا چیئرمین کوئی سرکاری ملازم اور یا ہائی کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہوگا۔ عدالت عالیہ کے ریٹائرڈ جج کی عدم دستیابی کی صورت میں کوئی بھی شخص جس کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے وہ اس کونسل کا چیئرمین بننے کا اہل ہے۔
صوبہ سندھ میں ہائی کورٹ کا ریٹائرڈ جج اس کونسل کا سربراہ ہوگا اور جس کی تعیناتی کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہوگا۔
ضلعی سطح پر اس کونسل کا انتخاب صوبائی زکوٰۃ اور عشر کونسل کی منظوری سے ہوگا اور اس کونسل کے چیئرمین کا تعلق نجی شعبے سے ہوگا جبکہ لوکل سطح پر کونسل کے ممبران کا انتخاب ضلعی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ہوگا۔
افطار دسترخوان پر جلیبیاں، امرتی، سویّاں اور میٹھے مشروبات: رمضان میں میٹھے سے ہاتھ کیوں نہیں رکتارمضان میں خود کو مذہبی، جسمانی اور مالی طور پر کیسے منظم کیا جائے؟کیا روزہ آپ کے کام کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے’انسولین رزیسٹینس‘ کیا ہے اور کیا روزہ رکھ کر اس طبی پیچیدگی پر قابو پایا جا سکتا ہے؟رمضان میں کیا کھائیں اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟روزے کی حالت میں مائیگرین کے ناقابلِ برداشت درد سے بچنے کے لیے کیا کریں؟ رمضان اور لینٹ: مسیحی برادری اور مسلمانوں کے روزوں میں کیا فرق ہے؟