Getty Images
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقہ نے انڈیا کو 76 رنز سے شکست دے دی۔
اتوار کے روز جنوبی افریقہ کی جانب سے دیے گئے 188 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انڈین ٹیم 111 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی۔
جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے تھے۔
مارکو جانسن نے چار اور کیشو مہاراج نے تین وکٹیں لے کر جنوبی افریقہ کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انڈیا کی جانب سے شیوم دوبے نے سب سے زیادہ 42 رنز بنائے۔
یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں انڈیا کی پہلی شکست ہے۔ ٹیم انڈیا گروپ مرحلے میں اپنے چاروں میچ جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔
لیکن جنوبی افریقہ کی اس میچ میں کامیابی پر ڈیوڈ ملر کو میچ کا بہترین کھلاڑی منتخب کیا گیا۔
احمد آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
Getty Imagesانڈیا کی انگز
انڈیا کی کرکٹ ٹیم اتوار کو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں اپنی بیٹنگ کی ابتدا سے ہی دباؤ کا شکار نظر آئی۔ انڈیا کے اوپنر ایشان کشن پہلے اوور کی چوتھی گیند پر صفر پر آؤٹ ہوئے جنھیں جنوبی افریقہ کے کپتان مارکرم نے بولڈ کیا۔
اس کے بعد تلک ورما دوسرے اوور کی پہلی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی وکٹ یانسن نے حاصل کی۔ انڈیا نے اپنی انگز کے دوسرے اوور کی پہلی گیند تک پانچ رن پر دو وکٹ گنوا دی تھیں۔
تاہم، تین میچوں کے بعد، ابھیشیک شرما اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب رہے اور پہلے اوور کی آخری گیند پر چوکا لگا دیا۔
شرما نے کچھ دیر کریز پر ٹھہرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی پانچویں اوور کی تیسری گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ تین وکٹیں جلد گرنے کے ساتھ، انڈیا نے واشنگٹن سندر کو پانچویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھیجا۔ لیکن یہ اقدام کام نہ آیا اور سندر صرف 11 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد کپتان سوریہ کمار یادیو بھی 22 گیندوں پر 18 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
کرکٹ میں ’سیاست اور پیسے کی کہانی‘: ٹی 20 ورلڈ کپ کے بحران میں آئی سی سی بے بس کیوں ہے؟پاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟پاکستان، انڈیا کرکٹ میں بڑھتے فاصلے، سیاسی مداخلت اور سوشل میڈیا کا دباؤ: اس بار روایتی حریفوں کو کھیل کے میدان میں کس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہے گا؟28 ہزار کی گنجائش مگر ’ٹکٹوں کی 88 ہزار درخواستیں‘: پاکستان، انڈیا میچ کے لیے شائقین کو جہاز، گراؤنڈ کے ٹکٹس کے حصول میں دشواری
جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں انڈیا کی آدھی ٹیم دسویں اوور میں پویلین لوٹ چُکی تھی۔ ہاردک پانڈیا نے شیوم دوبے کے ساتھ مل کر اننگز کو آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن ان کی اننگز 18 رنز سے آگے بڑھنے میں ناکام رہی۔
15ویں اوور میں کیشو مہاراج نے ہاردک پانڈیا، رنکو سنگھ اور ارشدیپ سنگھ کی وکٹیں لیں۔ رنکو سنگھ دو گیندوں پر صفر پر آؤٹ ہوئے۔
شیوم دوبے نے یقینی طور پر 37 گیندوں پر 42 رنز بنا کر انڈیا کو 100 سے آگے پہنچا دیا لیکن جانسن نے انھیں بھی آؤٹ کر دیا۔
Getty Imagesجنوبی افریقہ کی اننگز
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی شروعات خراب رہی۔
انڈین تیز گیند باز جسپریت بمراہ اور ارشدیپ سنگھ نے شروع میں شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کیا۔ جنوبی افریقی اوپنرز نے میچ کی 10ویں گیند پر اپنا پہلا چوکا مارا، لیکن جسپریت بمراہ نے اگلی ہی گیند پر ڈی کاک کو آؤٹ کرکے انڈیا کو پہلی کامیابی دلائی۔
ارشدیپ نے اگلے اوور میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے اوور کی چوتھی گیند پر کپتان مارکرم کوآؤٹ کر دیا۔
رائن رکلٹن جو تیسرے نمبر پر بلے بازی کے لیے آئے تھے وہ بھی اچھا کھیل پیش نہ کر سکے اور چوتھے اوور کی آخری گیند پر بمراہ کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ چار اوورز میں 20 رنز پر تین وکٹیں گنوانے کے بعد دباؤ میں دکھائی دیا۔
لیکن اس کے بعد ڈیولڈ بریوس نے ڈیوڈ ملر کے ساتھ مل کر افریقی اننگز کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 30 گیندوں میں 50 رنز کی شراکت داری کی۔
بریوس اور ملر کی بدولت 10 اوورز کے اختتام پر جنوبی افریقہ کا سکور تین وکٹوں کے نقصان پر 84 رنز تھا۔
Getty Images
تاہم شیوم دوبے نے 13ویں اوور کی دوسری گیند پر بریوس کو آؤٹ کر دیا۔ بریوس نے 29 گیندوں پر 45 رنز بنائے۔ تاہم ملر وکٹ پر جمے رہے اور 26 گیندوں میں اپنی نصف سنچری مکمل کی۔
بریوس کے آؤٹ ہونے کے بعد ملر نے سٹبس کے ساتھ مل کر جنوبی افریقہ کی اننگز کو آگے بڑھایا۔ تاہم میچ میں مہنگے ثابت ہونے والے ورون چکرورتی نے انڈیا کو ملر کی اہم وکٹ دلوائی۔ ملر نے 35 گیندوں پر 63 رنز بنائے۔
ملر کی اننگز میں سات چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔ ورون نے 16ویں اوور کی چوتھی گیند پر ملر کی وکٹ لی۔ جنوبی افریقہ کی پانچویں وکٹ 152 پر گری۔
ارشدیپ سنگھ نے 18ویں اوور کی دوسری گیند پر جانسن کو آؤٹ کر کے جنوبی افریقہ کو دوبارہ دباؤ میں ڈال دیا۔
سٹبس نے 24 گیندوں پر 44 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور جنوبی افریقہ کے سکور کو 187 رنز تک پہنچا دیا۔
بمراہ کے تین وکٹوں کے علاوہ ارشدیپ سنگھ نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ورون چکرورتی اور شیوم دوبے نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
’سُپر 8 میچ تو ہم ہی جیتیں گے، تو آپ کپ کیک ہی رکھ لو‘
یوں تو اس میچ میں کوئی ان ہونی چیز نہیں ہوئی مگر اس کے باوجود اس میچ کے چرچے سوشل میڈیا پر ایک اشتہار کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔
یہ اشتہار سٹار سپورٹس کی جانب سے پیش کیا گیا کہ جس میں ایک انڈین اور ایک جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے ڈمی کھلاڑیوں کو دیکھایا گیا۔
اس اشتہار میں یہ دونوں کھلاڑی ایک ہوٹل میں ایک ہی ٹیبل پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، مگر جب انڈین کھلاڑی ہال میں پڑے ایک ہی کپ کیک کی جانب بڑھتے ہیں تو جنوبی افریقہ کا کھلاڑی بھاگتے ہوئے اُس واحد کپ کیک کو اُٹھانے اور انڈین کھلاڑی سے معذرت کرتا ہے اور انڈین کھلاڑی کو ’سوری‘ کہتا ہے۔
مگر آگے سے پلٹ کر انڈین کھلاڑی کہتا ہے کہ ’سوری ٹو یو‘ جس پر جنوبی افریقہ کا کھلاڑی کہتا ہے مگر ایسا کیوں تو انڈین کھلاڑی انھیں یاد کرواتا ہے کہ سنہ 2024 میں آپ کو ہم نے فائنل میں شکست دی تھی اس لیے سوری۔
پھر انڈین کھلاری کہتا ہے کہ ’کپ تو ہم نے ہی جیتا تھا اور آنے والا سپر ایٹ کا میچ بھی ہم ہی جیتیں گے، اس لیے آپ کپ کیک رکھ لیں۔‘
بس اتنا سُنتے ہی جنوبی افریقہ کے کھلاڑی کے گلے میں کیک پھنس جاتا ہے اور انڈین کھلاڑی کہتا ہے کہ او ہو ’چوکنگ‘۔ (یاد رہے کہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کو چوکرز کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اہم ایونٹ کی اکثر اہم میچز ہار جاتی ہے۔)
اب معاملہ یہاں تھما نہیں ہوا یہ کہ سٹار سپورٹس کی جانب سے انڈیا کی جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سپر ایٹ مرحلے کے میچ میں شکست کے فوراً بعد اس اشتہار کو غائب تو کر دیا گیا مگر کمان سے نکلا تیر کہاں واپس آتا ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ اشتہار ہے اور انڈین کرکٹ فینز کا غصہ۔۔۔
سوشل میڈیا اور انڈین فینز کا غصہ
اس میچ میں شکست کے بعد سٹار سٹورٹس کے اس اشتہار کو لگا کر دی سکن ڈاکٹر 13 نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’جنوبی افریقہ نے انڈیا کو ایک یک طرفہ میچ میں شکست دی اور سٹار سپورٹس نے اس مخصوص مقابلے کے لیے بنائے گئے توہین آمیز اشتہار کو ہٹا دیا۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’شاید یہ واقعہ ہمارے اشتہار بنانے والوں کو یہ سبق ضرور دے جائے گا کہ تکبر کرنا درست نہیں۔‘
شورتی سلوا پانڈا نامی ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میچ سے پہلے کپ کیک کے اشتہار میں ’جنوبی افریقہ کے چوکر ہونے کا مذاق اُڑایا گیا اور اصلی میدان میں انڈین نے 111 رنز بنائے اور 76 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’کھیل کے اصل میدان میں ناکامی کی بڑی وجہ خود اعتمادی کا حد سے زیادہ ہونا تھا۔ بڑی بڑی باتیں، زبردست ہائپ، لیکن کارکردگی صفر۔‘
میچ میں تو انڈیا کو جنوبی افریقہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر ذکر پاکستانی بالر محمد عامر کا کیوں ہوا؟Getty Images
سوشل میڈیا پر ہمیں ایک جانب تو سٹار سپورٹس کے اشتہار کی بات ہوتی رہی تو دوسری جانب پاکستانی گیند باز محمد عامر کا ذکر بھی ہوتا رہا۔
محمد عامر نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پر انڈیا اور جنوبی افریقہ کے میچ سے قبل بھی کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے انڈین بلے باز ابھشک شرما کا ذکر کیا اور اُن کی بیٹنگ ٹیکنیک پر بات کی۔
محمد عامر کا کہنا تھا کہ ابھیشک شرما کو جب تک اُن کے من پسند مقام پر کھیلنے کے لیے بال ملتی رہے وہ اس پر اچھی ہٹ لگاتے ہیں مگر جیسے ہی بال تھوڑی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو انھیں مُشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’انٹرنیشنل کرکٹ میں ہی کھلاڑی کی اصل قابلیت اور صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔‘
سپنرز سے لیس پاکستانی بولنگ اٹیک اور انڈین بلے بازوں کی ’کمزوری‘: کیا پاکستان کے پاس انڈیا کو شکست دینے کا یہ اچھا موقع ہے؟ٹی 20 ورلڈ کپ: کیا پاکستان اور انڈیا سیمی فائنل اور فائنل میں مدِمقابل آ سکتے ہیں؟کرکٹ میں ’سیاست اور پیسے کی کہانی‘: ٹی 20 ورلڈ کپ کے بحران میں آئی سی سی بے بس کیوں ہے؟پاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟28 ہزار کی گنجائش مگر ’ٹکٹوں کی 88 ہزار درخواستیں‘: پاکستان، انڈیا میچ کے لیے شائقین کو جہاز، گراؤنڈ کے ٹکٹس کے حصول میں دشواری