’وہ ان کی آنکھوں کا تارا تھا‘: سگی ماں کو ہتھوڑے سے قتل کرنے اور دو ماہ تک لاش کے ساتھ رہنے والا بیٹا

بی بی سی اردو  |  Feb 23, 2026

Family photoڈیل مورگن نے دسمبر 2020 میں اپنی والدہ کو ہتھوڑے کے وار سے قتل کیا اور دو ماہ تک ان کی لاش کے ساتھ رہتے رہے

انتباہ: اس مضمون میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔

جوڈتھ ریہیڈ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دوسروں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے گزارا۔ اس لیے جب کورونا وبا کے دوران ان کا اکلوتا بیٹا بطور تیماردار ان کے ساتھ رہنے اور اُن کی خدمت کے لیے آیا تو کسی کو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ وہ انھیں ایک ہتھوڑا نما لکڑی کے ڈنڈے سے اس قدر تشدد کا نشانہ بنائے گااُن کی جان ہی چلے جائے گی۔

’کاراوکے کوئین‘ کے نام سے مشہور 68 سالہ خاتون کے خاندان کو اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب انھیں اس بات کا علم ہوا کہ 43 برس کے ڈیل مورگن نے دسمبر سنہ 2020 میں جوڈتھ کو ہتھوڑے سے بے دردی سے قتل کر دیا اور دو ماہ تک ان کی لاش کے ساتھ رہتا رہا۔

پولیس کو 20 فروری سنہ 2021 کو مارکیٹ سٹریٹ، پیمبروک ڈاک میں واقع ان کے فلیٹ پر اس وقت بلایا گیا جب ایک پڑوسی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ جوڈتھ کی کھڑکی پوری سردیوں کے دوران کھلی رہی تھی اور دوستوں نے بتایا کہ وہ کئی مہینوں سے نظر ہی نہیں آئی تھیں۔

پولیس کو کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا، ہاں لیکن کھڑکی سے جھانکنے پر انھوں نے بیڈروم کے اندر ایک لاش دیکھی جس کے بعد وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ انھیں جوڈتھ کی باقیات بستر کے قریب سے ملیں، اُن کے جسم پر جزوی طور پر کپڑے موجود تھے تاہم ان کے سر پر ایک تھیلا چڑھایا گیا تھا جو ایک ڈوری کی مدد سے بندھا ہوا تھا۔

ایک نئی دستاویزی فلم میں اب یہ انکشاف ہوا کہ کس طرح فرانزک اور حالات سے متعلق شواہد نے ایک ’شفیق‘ ماں اور بیٹے کے قریبی تعلق کے پیچھے چھپی خوفناک حقیقت کو بے نقاب کیا اور کس طرح لاک ڈاؤن کی پابندیوں نے مورگن کو اپنے جرم کو چھپانے کا موقع فراہم کیا۔

Family photoجوڈتھ ریہیڈ اور اُن کا بیٹا ڈیل ’بہت قریب‘ ہونے کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔

جوڈتھ کی بھانجی جیما نے کہا کہ ’آپ ٹی وی پر اس طرح کے واقعات کے بارے میں سنتے ہیں، لیکن ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچتے کہ یہ آپ کے اپنے خاندان کے ساتھ ہو سکتا ہے۔‘

’ہمیں واقعی لگا تھا کہ یہ ایک عجیب سا حادثہ تھا۔ وہ گریں، ان کے سر پر چوٹ لگی اور یہ محض ایک اتفاقی حادثہ تھا کہ جس کی وجہ سے اُن کی جان چلی گئی۔‘

سوشل میڈیا پر جوڈتھ کی گلی میں موجود پولیس کی تصاویر گردش کرنے لگیں تو سب سے پہلے جیما کو تشویش ہوئی، چنانچہ وہ فوراً یہ دیکھنے کے لیے پہنچ گئیں کہ آیا ان کی خالہ خیریت سے ہیں یا نہیں، لیکن وہ اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ جو سب کُچھ اُن کے سامنے تھا۔

انھوں نے جوڈتھ کی لاش کی شناخت میں پولیس کی مدد کی، انھیں اس ڈریگن فلائی کے ٹیٹو کے بارے میں بتایا جو جوڈتھ نے بنوایا تھا۔

انھوں نے بی بی سی ون ویلز کی سیریز دی ٹرتھ اباؤٹ مائی مرڈر کو بتایا کہ ’میں مکمل طور پر صدمے کی حالت میں تھی کُچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا۔‘

’ہمیں بتایا گیا کہ ان کے سر پر کم از کم 14 بار وار کیا گیا تھا۔‘

Family photoجوڈتھ کی بھانجی جیما نے کہا کہ مورگن اپنی والدہ کا ’نیلی آنکھوں والا لڑکا‘ تھا

جوڈتھ کے بائیں ہاتھ پر چار سینٹی میٹر کا ایک زخم اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ انھوں نے حملہ آور کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

فارینزک ماہرِ ڈاکٹر رچرڈ شیفرڈ نے کہا کہ ’جس گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی حالت میں جوڈتھ کو پایا گیا اور ان کے کانوں پر زخموں کی شدت اور سمت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے دوران انھیں زبردستی اس حالت میں رکھا گیا تھا۔‘

ان کی کھوپڑی کی ہڈی کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے دماغ پر جہاں گہری چوٹیں آئیں وہیں دماغ میں خون کے بہنے کی وجہ سے اُن کی موت ہوئی، اُن پر تشدد کے لیے استعمال ہونے والا ایک ہتھوڑا جائے وقوعہ سے برآمد ہوا، جس پر بال اور خون لگا ہوا تھا۔

Family photoجوڈتھ ریہیڈ لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے جانی جاتی تھیں

جوڈتھ کو پہلے سے لاحق طبی مسائل نے انھیں کورونا وبا کے دوران زیادہ حساس بنا دیا تھا اور اکتوبر سنہ 2020 میں پاؤں کے آپریشن کے بعد مورگن ان کے پاس تھے اور اُن کی مدد ایک تیماردار بن کر رہے تھے۔

مورگن سے پہلے جوڈتھ کے سابق کئیر ٹیکر اور اسسٹنٹ سوشل ورکر دائمی رکاوٹی پھیپھڑوں کی بیماری (کرونک آبسٹرکٹیو پلمونری ڈیزیز) میں مبتلا تھیں، جس کی وجہ سے انھیں کبھی کبھار آکسیجن ٹینک استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔

جب جوڈتھ کی لاش ملی تو مورگن لاپتا تھے اور پولیس کو خدشہ تھا کہ شاید وہ بھی کسی جرم کا شکار ہو گئے ہوں گے۔

جیما نے کہا کہ مورگن اور جوڈتھ ایک دوسرے کے ’بہت قریب‘ تھے اور دونوں کو موسیقی سے بہت لگاؤ تھا، کیونکہ دونوں گٹار بجاتے تھے ’وہ اسے حد درجہ چاہتی تھیں، وہ ان کی آنکھوں کا تارا تھا۔‘

مورگن کے ساتھ بچپن گزارنے والی جیما نے اسے ایک ایسے شخص کے طور پر بیان کیا جو محفل کی جان ہوتا تھا اور جس کی صحبت یا جس کے قریب رہنا ہر کوئی پسند کرتا تھا۔

Dyfed- Powys Policeایک فرانزک ماہر نفسیات نے کہا کہ ’امکان‘ یہ ہے کہ مورگن نہیں چاہتے تھے کہ جو ہوا وہ کسی اور کے سامنے آئے۔

مورگن کے وہاں منتقل ہونے سے پہلے جوڈتھ سات برس تک ایک بیڈروم والے فلیٹ میں اکیلی رہتی تھیں اور ان کی پڑوسن مشیل نے بتایا کہ وہ اپنے باغ میں جانا ’بہت پسند‘ کرتی تھیں اور دونوں دیوار کے اُس پار کھڑے ہو کر باتیں کیا کرتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ نہایت خوش مزاج خاتون تھیں، اُن کے ساتھ گپ شپ کر کے بہت اچھا لگتا تھا۔‘

باقائدگی سے چرچ جانے والی مشیل نے جوڈتھ کو کمیونٹی میں ملنسار قرار دیا اور کہا کہ کورونا کے دوران وہ دوستوں سے نہ مل سکنے پر اداس رہتی تھیں۔

مورگن کے منتقل ہونے کے چند ہفتوں بعد مشیل کو سردیوں کی ٹھنڈی ہوا کے جوڈتھ کے بیڈروم میں داخل ہونے پر تشویش ہونے لگی لیکن مورگن نے اصرار کیا کہ یہ ’ان کے دمے کے لیے اچھا ہے۔‘

اگلے ہفتوں میں جب کورونا کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے تھے، مشیل نے مورگن سے پوچھا کہ کیا وہ باغ کی دیوار کے پار سے جوڈتھ سے بات کر سکتی ہیں؟ مگر انھیں بتایا گیا کہ وہ طبیعت کی خرابی کے باعث بات نہیں کر سکتیں۔

وہ خاتون جس کی تشدد زدہ لاش عروسی جوڑے کے لیے خریدے جانے والے سوٹ کیس سے ملی’والد نے میرے شوہر کو قتل کر کے مجھے بے جان جسم کی طرح چھوڑ دیا‘تالاب سے ملنے والے انسانی اعضا پر انگوٹھی کا نشان: چکوال میں پولیس کو اندھے قتل کی واردات کا سراغ کیسے ملا؟پسند کی شادی سے انکار پر والدین کو انجیکشن لگا کر قتل کرنے کا الزام: ’توقع نہیں تھی بہن ایسی حرکت کرے گی‘

سنہ 2021 کے آغاز تک مشیل اس قدر پریشان ہو چکی تھیں کہ انھوں نے 101 پر کال کر دی۔

ایک پولیس افسر نے فلیٹ پر فون کیا لیکن مورگن نے افسر کو یقین دلایا کہ جوڈتھ ’بالکل ٹھیک‘ ہیں اور تنہائی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

چند دن بعد انھوں نے مشیل اور جوڈتھ کی ایک اور فکرمند دوست کو بتایا کہ ان کی حالت ’اچانک بگڑ گئی ہے‘ اور وہ ہسپتال میں ہیں لیکن جب اس دوست نے ہسپتال سے رابطہ کیا تو ان کے داخلے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

اسی لمحے انھیں احساس ہوا کہ یہ معاملہ ٹھیک نہیں اور جوڈتھ کے ساتھ کُچھ غلط ہوا ہے۔

خود جوڈتھ کے فلیٹ پر نہ جا سکنے کے باعث دوستوں نے دوبارہ پولیس کو فون کیا اور افسران خود موقع پر پہنچے جہاں انھوں نے جوڈتھ کی لاش دیکھی جو اس وقت تک گلنے سڑنے کے عمل سے گزر رہی تھی۔

BBC One Walesمورگن کے منتقل ہونے کے بعد جوڈتھ کی پڑوسی مشیل ان کی خیریت کے بارے میں فکر مند ہوگئیں لیکن مورگن نے انھیں بتایا کہ اُن کی والدہ ہسپتال میں ہیں

پوسٹ مارٹم رپورٹ کی رپورٹ کے آنے کے بعد یہ جاننے میں مدد ملی کہ انھیں کب قتل کیا گیا اور تفتیش کاروں کو یہ ثبوت ملا کہ مورگن ہی ممکنہ قاتل تھے۔

ڈاکٹر شیفرڈ نے کہا کہ ’ان کی لاش کی حالت ’ممی بننے کے عمل سے مطابقت رکھتی تھی‘ کیونکہ کھلی کھڑکی سے آنے والی سردیوں کی ٹھنڈی ہوا نے ’عملی طور پر کمرے کو فریج میں بدل دیا تھا‘ اور گلنے سڑنے کے عمل کو سست کر دیا تھا۔‘

شیفرڈ نے بتایا کہ ’جوڈتھ کی لاش کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک فلیٹ میں پڑی رہی اور یہ وہ وقت تھا کہ جب مورگن بھی اُن کے ساتھ اسی فلیٹ میں رہ رہا تھا۔‘

BBC

تلاشی کے چند گھنٹوں بعد مورگن خود کو پولیس کے حوالے کرنے پہنچ گئے اور انھیں والدہ کے قتل کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا، لیکن انھوں نے تفتیش کے دوران تعاون سے انکار کیا اور اپنے فون اور سوشل میڈیا تک رسائی دینے سے بھی منع کر دیا۔

جوڈتھ کی ڈائری سے وہ حقیقت سب کے سامنے آئی کہ جس کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا اور وہ یہ کہ مورگن منشیات کا عادی تھا۔ جوڈتھ کی اس ڈائری میں وہ ادویات بھی لکھی ہوئی تھیں جو مورگن کو تجویز کی گئی تھیں اور اس میں یہ بات بھی درج تھی کہ وہ اُن کا مالی طور پر بھی ان کا استحصال کر رہا تھا۔

اس ڈائری کے سامنے آنے کے بعد ماں بیٹے کے بگڑے ہوئے تعلقات کا پردہ فاش ہوا اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مورگن برسوں سے ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا اور منشیات کا عادی تھا۔

جوڈتھ کی کی جانب سے جو تحریر اس ڈائری میں درج کی گئی تھی اُس پر 2 دسمبر 2020 کی تاریخ درج تھی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مورگن ممکنہ طور پر دو ماہ تک اپنی ماں کی لاش کے ساتھ فلیٹ میں رہ رہا تھا۔

فارینزک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کیٹرین ولیمز نے کہا کہ ’کسی لاش کے ساتھ رہنا ’سمجھ سے بالاتر‘ ہے، لیکن یہ مورگن کی ذہنی حالت کو نمایاں کرتا ہے۔‘

’کبھی کبھی جب کوئی شخص ایسا جرم کرتا ہے جس پر اسے شرمندگی ہو، تو وہ گویا یہ دکھاوا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، جو ہوتا ہے اُسے ایک جانب رکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔‘

’یہ حقیقت کہ انھوں نے اپنی والدہ کے سر پر تھیلا چڑھا دیا، غالباً اسی طرح کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے یعنی اجتناب کی، اس حقیقت سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کہ وہ اس طرزِ عمل میں ملوث رہا تھا۔‘

Family photo

مورگن نے اپنی والدہ کے قتل کا اعتراف کیا اور اکتوبر سنہ 2021 میں انھیں کم از کم 21 سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

جج پال تھامس نے مورگن سے کہا کہ انھوں نے ’ایک لاچار اور بے قصور خاتون پر وحشیانہ تشدد کیا اور اپنی ہی والدہ کی جان لی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ تمہیں بے حد چاہتی تھیں، حتیٰ کہ جب تم نے ایک بار پہلے بھی ان سے چوری کی تھی تب بھی وہ تمہارا دفاع کرتی تھیں۔ وہ تمہارے مُشکل وقت میں تمہاری مدد کرنا چاہتی تھیں۔ مختصراً یہ کہ تم ہی ان کی پوری دنیا تھے۔‘

’تم نے اُن 43 برسوں کی محبت اور وابستگی کا صلہ انھیں ہتھوڑے سے پیٹ پیٹ کر مار دینے کی صورت میں دیا۔‘

لاک ڈاؤن کے باوجود سینکڑوں افراد جوڈتھ کی آخری رسومات کے لیے سڑکوں پر کھڑے ہوئے، ان کی رحم دلی اورزندگی سے محبت کو یاد کرتے ہوئے۔

جیما نے کہا کہ ’وہ خود شاید ہمیشہ اس بات سے واقف نہ تھیں، لیکن ہم کبھی کبھار انھیں مسز بوکے کہہ کر پکارتے تھے، کیونکہ ان کی شخصیت سے ایسا ہی تاثر ملتا تھا۔‘

’کبھی کوئی چیز اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی نہیں ہوتی تھی، ان کا گھر ہمیشہ نہایت صاف ستھرا رہتا تھا۔‘

’حقیقت میں کوئی چیز انھیں روک نہیں سکتی تھی، انھیں گانا بہت پسند تھا۔۔۔ اگر کبھی بھی مائیکروفون ہاتھ میں لینے کا موقع ملتا، تو وہ ضرور گاتیں۔‘

وہ خاتون جس کی تشدد زدہ لاش عروسی جوڑے کے لیے خریدے جانے والے سوٹ کیس سے ملی’والد نے میرے شوہر کو قتل کر کے مجھے بے جان جسم کی طرح چھوڑ دیا‘ریپ اور قتل کے ملزمان سے طیفی بٹ تک، پنجاب میں سنگین جرائم کے سینکڑوں ملزمان کی ہلاکت پر اٹھتے سوالاتپسند کی شادی سے انکار پر والدین کو انجیکشن لگا کر قتل کرنے کا الزام: ’توقع نہیں تھی بہن ایسی حرکت کرے گی‘تالاب سے ملنے والے انسانی اعضا پر انگوٹھی کا نشان: چکوال میں پولیس کو اندھے قتل کی واردات کا سراغ کیسے ملا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More