’ہم خاموش نہیں رہ سکتے، آواز اٹھاتے رہیں گے‘: سابق کرکٹ کپتانوں کے خط پر پاکستانی حکومت نے کیا کہا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 23, 2026

Getty Imagesکپل دیو (بائیں) ان سابق کرکٹ کپتانوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے

چاہے عمران خان وزیر اعظم کے دفتر میں ہوں یا اڈیالہ جیل میں، کرکٹ کی دنیا آج بھی انھیں 92 ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان کے طور پر یاد کرتی ہے۔ اسی لیے عمران خان کے ماضی کے دوستوں اور کرکٹ کے بعض بڑے ناموں نے عمران خان کے علاج کے بارے میں اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل نے دیگر 13 سابق ٹیسٹ کپتانوں کے ساتھ مل کر ایک خط لکھا ہے جس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو اپنے مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج اور اہل خانہ کے ساتھ ملاقاتوں کی اجازت دی جائے۔

پاکستانی حکومت متعدد بار یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن سے متاثرہ سابق وزیر اعظم کو جیل میں بہترین سہولیات دی گئی ہیں اور ان کے بروقت علاج میں کوئی کمی نہیں آئی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ’عمران خان نے بتایا ہے کہ علاج اور انجیکشن کے باوجود ان کی دائیں آنکھ صرف 15 فیصد ہی کام کرتی ہے۔‘

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کپتانوں کے خط سے پہلے ہی تمام ضروری اقدامات کر چکی ہے اور ماضی میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنے والا کوئی کپتان ’قانون سے بالاتر نہیں۔‘

دریں اثنا اس سے قبل پاکستان کے سابق کپتانوں وسیم اکرم اور وقار یونس نے بھی عمران خان سے یکجہتی میں پیغامات جاری کیے تھے۔ وسیم اکرم نے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ عمران خان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ وقار یونس نے کہا کہ عمران خان ’ہمارے قومی ہیرو‘ ہیں اور انھیں فوراً علاج کی ضرورت ہے۔

کرکٹ کے سابق کپتانوں نے پاکستانی حکومت کو خط کیوں لکھا؟

مائیک ایتھرٹن، گریگ چیپل اور دیگر غیرملکی سابق کپتانوں کی طرف سے تصدیق کی گئی ہے کہ عمران خان کی صحت اور قید کے حوالے سے خدشات پر مبنی خط لکھا گیا ہے۔

اس خط پر مائیک ایتھرٹن، ایلن بارڈر، مائیکل بریئرلی، گریگ چیپل، این چیپل، بیلنڈا کلارک، سنیل گواسکر، ڈیوڈ گاور، کِم ہیوز، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، سٹیو وا اور جان رائٹ کے دستخط ہیں۔

گریگ چیپل نے کرک انفو کے لیے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ جب انھیں سابق پاکستانی وزیر اعظم اور اپنے پرانے دوست عمران خان کی قید اور صحت کے بارے میں جنم لینے والے خدشات کا علم ہوا تو وہ ان کی مدد کے لیے کچھ کرنے پر مجبور ہو گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں سیاسی اختلافات کو بھول کر ایسے سابقہ کپتانوں کو اکٹھا کرنا تھا جو کرکٹ کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول عمران خان ’ایسے رہنما تھے جنھوں نے صرف ٹیم کی قیادت نہیں کی بلکہ ایک پوری قوم کو حوصلہ دیا۔‘

گریگ چیپل نے عمران خان کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کا قصہ بھی سنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میری اُن سے آخری ملاقات فروری 2020 میں ہوئی تھی۔ اُسی وقت جب دنیا بدلنے ہی والی تھی۔ اُس وقت وہ وزیرِاعظم تھے اور میں کاروباری سلسلے میں پاکستان آیا ہوا تھا۔

’سر ویوین رچرڈز اور شین واٹسن کے ساتھ ہم اُن کے اسلام آباد والے دفتر گئے۔ ہمارا صرف 15 منٹ کی رسمی ملاقات کا پروگرام تھا لیکن عمران — ہمیشہ کی طرح مہمان نواز — نے اسے بڑھا کر 45 منٹ کر دیا۔

’اُن کے چیف آف سٹاف واضح طور پر بےچین تھے۔ وہ پانچ مرتبہ کمرے میں داخل ہوئے تاکہ انھیں اگلی مصروفیات یاد دلائیں، جو ہمیں بعد میں پتا چلا کہ سینیئر امریکی اور سعودی حکام کے ساتھ ملاقاتیں تھیں۔‘

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’عمران صرف مسکرائے اور ہمیں بتایا کہ انھیں اس دفتر میں آئے ہوئے اتنا مزہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا جب سے انھوں نے یہ عہدہ سنبھالا ہے۔‘

’اس وقت بھی وہ اُس شدید دباؤ کی بات کر رہے تھے جس کا وہ سامنا کر رہے تھے اور یہ کہ حالات مزید سخت ہونے والے ہیں۔ وہ ان سب کا مقابلہ بالکل اسی استقامت سے کر رہے تھے جیسے وہ ایک سبز وکٹ پر نئے گیند کا سامنا کرتے تھے۔‘

عمران خان کی صحت پر ’سیاست‘ اور پی ٹی آئی میں اختلافات: ’یہ سب سے بڑا جذباتی ہتھیار ہے جسے علیمہ خان استعمال کرنا چاہتی ہیں‘عمران خان کی بینائی متاثر: سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟’نگرانی کے 10 کیمرے، 100 کتابیں اور دو سیب‘: عمران خان سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا بتایا گیاکرکٹ کی تاریخ پر پی سی بی کی ویڈیو سے عمران خان غائب: ’کیا آپ کھیل کو بھی منقسم کرنا چاہتے ہیں؟‘

چیپل نے اس خط پر بات کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے اُن لوگوں (سابق کپتانوں) کے سماجی اثر و رسوخ کو استعمال کرنا تھا جنھوں نے کرکٹ کے میدان میں اپنی قوموں کی قیادت کی ہے۔ میں نے تقریباً 20 افراد سے رابطہ کیا اور اگرچہ کچھ نے محسوس کیا کہ سیاسی پہلو بہت پیچیدہ ہیں، لیکن 13 لوگوں نے میرا ساتھ دیا۔ میرے پیغام کے چند ہی منٹوں میں ایلن بارڈر، مائیکل ایتھرٹن اور سر کلائیو لائیڈ جیسے نام اس مہم کا حصہ بن گئے۔

’سنیل گواسکر اور کپل دیو کے ردعمل خاص طور پر دل کو چھو لینے والے تھے۔ ’اپنے ملک میں پڑوسی سے متعلق معاملات پر اُنھیں درپیش دباؤ کے باوجود انھوں نے ایک لمحے کے لیے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انھوں نے اپنے دوست کو اور برصغیر میں ہونے والی اپنی بے شمار مقابلوں کو یاد کیا اور ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔‘

مگر گریگ چیپل نے واضح کیا ہے کہ وہ کوئی سیاسی پیغام نہیں دے رہے۔ ’ہم حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران کو فوری طور پر اُن ماہر ڈاکٹروں سے طبی سہولیات فراہم کی جائیں جن کا انتخاب وہ خود کریں، انھیں انسانی بنیادوں پر مناسب حالات مہیا کیے جائیں جن میں اُن کے اہلِ خانہ کی ملاقاتیں بھی شامل ہوں اور انھیں قانونی عمل تک منصفانہ اور شفاف رسائی دی جائے۔ یہ کوئی انتہا پسندانہ مطالبات نہیں ہیں۔ یہ ایک مہذب معاشرے کی بنیادی ضروریات ہیں۔‘

انھیں اپنے خط پر آنے والے ردعمل سے خوشی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس خط نے سب کو یاد دلایا کہ ’عمران خان ایک بہادر شخص ہیں جنھوں نے خطرات کا ادراک ہونے کے باوجود سیاست میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔‘

’جب ہمارے ساتھی کے ساتھ اتنا بُرا سلوک کیا جا رہا ہو تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہم آواز اٹھاتے رہیں گے اور اس ناقابلِ قبول صورتحال پر توجہ دلاتے رہیں گے کیونکہ کرکٹ، اپنی اصل روح میں، صرف رنز اور وکٹوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ اُن لوگوں کے کردار کے بارے میں بھی ہے جو اسے کھیلتے ہیں اور اُس دائمی احترام کے بارے میں ہے جو کھیل ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہتا ہے۔‘

Getty Imagesگریگ چیپل کے بقول انھوں نے ہی کرکٹ کی دنیا کے بڑے ناموں کو عمران خان سے متعلق خط لکھنے پر آمادہ کیاحکومت کا ردعمل: ’کپتان ہونے سے کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہوتا‘

پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قانون اور نظام اس قدر اچھا ہے کہ یہ خط لکھے جانے سے پہلے ہی عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات دور کر دیے گئے تھے۔ ’پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنے زیرِ نگرانی ان تمام چیزوں کو ایڈرس کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ عمران خان کو ایسی سہولتیں بھی دی گئی ہیں جو ایک ’سزا یافتہ قیدی کو نہیں ملتیں۔ یہ واحد قیدی ہے جسے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مراعات اور سہولیات دی گئی ہیں۔‘

طلال چوہدری نے عمران خان کو ’پاکستان کی تاریخ کا موسٹ لکڈ آفٹر پرزنر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو دی گئی سہولیات اور علاج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

سابق کپتانوں کے خط پر انھوں نے کہا کہ ’بہت اچھا ہوتا اگر کپتان یہ بھی لکھتے کہ جس طرح کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ اور بیٹنگ جرم ہے، اسی طرح اگر کوئی کپتان وزیر اعظم بن جائے تو کرپشن بھی جرم ہے۔ انھیں اس کی بھی مذمت کرنی چاہیے۔‘

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ ’کپتان ہونا انسان کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا۔۔۔ انھوں نے آدھا خط لکھا ہے، انھیں پوری بات لکھنی چاہیے تھی۔‘

’انھیں اس بارے میں بھی افسوس ظاہر کرنا چاہیے تھا کہ وہ کرپشن کیس میں اس وقت سزا یافتہ ہیں۔‘

اس مطالبے پر کہ عمران خان کو ان کی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کروانے کی اجازت دی جائے، طلال چوہدری نے کہا کہ ’سب کچھ قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ مرضی والی تو کوئی بات نہیں ہوتی۔ کیا ان کے ملکوں میں قیدیوں کی اپنی مرضی چلتی ہے؟ قیدیوں کے لیے جیل مینوئل ہے، اس کے باوجود اس قیدی کا سب سے زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔‘

تو کیا حکومت پاکستان سابق کرکٹ کپتانوں کے خدشات دور کرنے کے لیے انھیں جوابی خط لکھنے کا ارادہ رکھتی ہے، اس پر طلال چوہدری نے کہا کہ ’نہیں، یہ انھیں خود دیکھنا چاہیے۔ ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔ ہم صرف پاکستان کے قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔‘

اگرچہ سابق کپتانوں نے کہا ہے کہ انھوں نے سیاست سے بالاتر ہو کر انسانی حقوق کی خاطر یہ خط لکھا ہے تاہم طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بعض کپتانوں کے اپنے ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال اتنی اچھی نہیں ہے۔ ’انھیں چاہیے کہ کرپشن کیس میں سزا یافتہ قیدی کی فکر کی بجائے اپنے ملکوں میں انسانی حقوق کی فکر کریں۔‘

’نگرانی کے 10 کیمرے، 100 کتابیں اور دو سیب‘: عمران خان سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا بتایا گیاعمران خان کی بینائی متاثر: سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟عمران خان کی صحت پر ’سیاست‘ اور پی ٹی آئی میں اختلافات: ’یہ سب سے بڑا جذباتی ہتھیار ہے جسے علیمہ خان استعمال کرنا چاہتی ہیں‘پاکستان کی تاریخکا ’سب سے عظیم‘ کرکٹر کون ہے؟کرکٹ کی تاریخ پر پی سی بی کی ویڈیو سے عمران خان غائب: ’کیا آپ کھیل کو بھی منقسم کرنا چاہتے ہیں؟‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More