Getty Images
عام طور پر موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی آنکھوں میں پانی بھرنا، بند ناک یا سونگھنے کی صلاحیت میں کمی کو معمول کی بات سمجھا جاتا ہے تاہم بعض اوقاتیہ خطرناک صورتحال اختیار کر کے دماغ اور بینائی کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے جس کے باعث سرجری کے سوا چارہ نہیں رہتا۔
کچھ ایسا ہی ہوا انڈیا کی ریاست گجرات کی ایک 12 سالہ بچی کے ساتھ جنھیں پچھلے تین ماہ سے آنکھوں میں پانی، ناک بند ہونے اور چکر آنے کی شکایت تھی۔
تاہم ڈاکٹرز کو معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ بچی کی آنکھوں، ناک اور دماغ کے کچھ حصوں میں پھپوندی (فنگس) لگ گئی ہے جس کو نکالنے کے لیے سرجری کی گئی ہے۔
اس فنگل انفیکشن کو طبی اصطلاح میں الرجک فنگل (رینوسائنوسٹس) کہا جاتا ہے۔
اگر اس قسم کے فنگل انفیکشن کا طویل عرصے تک علاج نہ کیا جائے تو اس کے متاثرہ حصوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے کہ بینائی اور دماغ کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
ضلع بناسکنتھا کے ایک گاؤں میں رہنے والی اس لڑکی کے والدین کا خیال تھا کہ یہ تمام علامات نزلہ زکام کی ہیں۔ انھوں نے پہلے اپنی بیٹی کا مقامی ڈاکٹروں نے علاج کروایا تاہم اس کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
اس کے بعد بچی کو علاج کے لیے وش نگر، ڈیسا اور احمد آباد شہر کے نجی ہسپتالوں میں لے جایا گیا۔
لڑکی کی آنکھوں میں مسلسل پانی آنے کا مسئلہ تھا۔ان کا ماہر امراض چشم سے علاج کروایا گیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
آخر کار ایک ڈاکٹر نے انھیں کان، ناک اور گلے کے ماہر سے ملنے کا مشورہ دیا اور یوں بچی کو احمد آباد کے سولا سول ہسپتال لے جایا گیا۔
دماغ، ناک اور گلے کو متاثر کرنے والی فنگسGetty Imagesاس فنگل انفیکشن کو طبی اصطلاح میں الرجک فنگل (رینوسائنوسٹس) کہا جاتا ہے
لڑکی کے والد کرسن بھائی چودھری نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ’میری بیٹی کی آنکھوں سے مسلسل پانی آ رہا تھا، شروع میں ہمیں لگتا تھا کہ یہ ایک عام نزلہ ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے پانی آنے کا مسئلہ بڑھتا گیا۔ اس کی ناک بھی بند ہو گئی تھی۔‘
’جب مسئلہ بڑھتا گیا تو ہم اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے، دوائی لینے کے باوجود اسے آرام نہیں آ رہا تھا، بعد میں اسے چکر آنے لگے، اس کی بینائی بھی دھندلی ہونے لگی تو ہم اسے آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئے، لیکن پھر بھی اسے آرام نہیں آیا۔‘
اس کے بعد بچی کے والدین علاج کے لیے احمد آباد کے ایک نجی ہسپتال لے گئے۔
کرسن بھائی چودھری نے بتایا کہ ’ہمارے جاننے والے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ہماری بیٹی کو آنکھ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ کان، ناک اور گلے کا مسئلہ ہے، پھر ہم اسے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کان، ناک اور گلے کے ماہر کے پاس لے گئے، وہاں ہمیں بتایا گیا کہ علاج پر چار لاکھ روپے خرچ ہوں گے، چنانچہ اپنے ایک جاننے والے کے مشورے پر ہم سولا سی آئی وی ہسپتال پہنچے۔‘
’سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر نینا بین نے ہمیں بتایا کہ ہماری بیٹی کی ناک، آنکھ اور دماغ کے جنکشن ( وہ مقام جہاں یہ سب اعضا ملتے ہیں) پر فنگس ہے جسے سرجری کے ذریعے نکالنا پڑے گا۔ میری بیٹی کو ایک ہفتے سے سولا سول ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور اس کا آپریشن ہوا، وہ اب ٹھیک ہے۔ اسے چکر آنا بھی بند ہو گئے ہیں اور اس کی آنکھوں میں پانی آ رہا ہے۔ وہ باقاعدگی سے دوائیں لے رہی ہے۔‘
یہ فنگس کیا ہے اور یہ کیسے دوبارہ پیدا ہوتی ہے؟
سولا ہسپتال میں کان، ناک اور حلق کے شعبہ کی سربراہ ڈاکٹر نینا بھلودیا نے بچی کا علاج کیا۔ بی بی سی گجراتی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نینا نے بتایا کہ ’جب اس لڑکی کو علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا تو اسے ناک بند ہونے اور آنکھوں میں پانی آنے کا مسئلہ تھا۔ بچی کی بائیں آنکھ قدرے سوجی ہوئی تھی اور اس کی سونگھنے کی صلاحیت متاثر ہو گئی تھی۔‘
ڈاکٹر کے مطابق ’علامات کی بنیاد پر لڑکی کا ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کیا گیا۔ جس سے پتہ چلا کہ آنکھ کے کونے، ناک اور دماغ میں فنگس موجود ہے۔ بچی کو الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس کی تشخیص ہوئی۔ ہم نے بغیر کوئی کٹ لگائے مائیکروسکوپ کی مدد سے سرجری کر کے یہ پھپوندی نکال دی گئی۔‘
اس فنگس اور اس کے پھیلنے کے طریقے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نینا نے کہا کہ مریضوں میں دو طرح کی الرجی سے متعلق نزلہ زکام دیکھا جاتا ہے۔
ان کے مطابق ’پہلی قسم جب مریض کو کسی چیز سے الرجی ہو، جیسے کوئی خوشبو، ذرات، دھول یا دھواں، جس کی وجہ سے نزلہ ہو جاتا ہے جبکہ دوسری قسم جب مریض کے سانس کے نظام میں وائرس یا بیکٹیریا کی وجہ سے نزلہ زکام ہوتا ہے۔ یہ وائرس یا بیکٹیریا الرجی پیدا کرتے ہیں جس سے جلد پر دھبے بھی پڑ سکتے ہیں۔‘
آپ کی ناک کا میل آپ کی صحت کے بارے میں کیا بتاتاہے اور یہ بیماریوں سے لڑنے میں کیسے مددگار ثابت ہوتا ہے؟سرویکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین سے جڑے مفروضوں کی حقیقت: ’پیریڈز ڈسٹرب نہیں ہوں گے اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت بہتر ہو گی‘ نزلہ زکام سے لڑنے میں مددگار ’زنک‘ کیا ہے اور آپ کے جسم کو اس کی ضرورت کیوں ہے؟ڈریسنگ ٹیبل پر سجا میک اپ بچوں کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟
تو کیا ہر نزلہ زکام میں فنگس کا امکان موجود ہوتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر نینا بھالودیا نے کہا کہ
’ہر نزلہ و زکام میں فنگس نہیں ہوتا لیکن کچھ کیسز میں ایسا دیکھا گیا ہے۔ شروع میں ناک سے پیپ جیسا چپچپا مادہ نکلتا ہے جو فنگس ہوتا ہے۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ فنگس سائنَس (ناک اور حلق کے درمیان موجود خم دار حصہ) تک پھیل جاتا ہے اور پھر سائنَس کے اردگرد کے حصوں میں بھی اثر ڈال دیتا ہے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’مثال کے طور پر یہ فنگس آنکھوں کے اردگرد، دماغ کے سامنے یا درمیانی حصے کے اوپری حصے میں جہاں آنکھ کی نس یا دماغ کی شریانیں ہوتی ہیں، وہاں پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ فنگس ان حصوں کو نقصان پہنچاتا ہے یا شریانوں میں خون کے لوتھڑے بنا دیتا ہے۔‘
ڈاکٹر نینا نے مزید بتایا کہ ’یہ فنگس بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ عالمی وبا کووِڈ-19 کے دوران جس نام کا ذکر زیادہ ہوا، وہ تھا ’میوکارمائیکوسِس‘۔ یہ بھی ایک قسم کا فنگس ہے۔ ایسے مریض جن کی قوتِ مدافعت کمزور ہو، جیسے گردے کے مریض، دل کے مریض، شوگر یا بلڈ پریشر کے مریض یا کسی اور سنگین بیماری میں مبتلا افراد، ان میں یہ فنگس پایا جاتا ہے۔‘
ڈاکٹر نینا کے مطابق اس بچی کے کیس میں جو فنگس پایا گیا ہے، وہ الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس ہے۔ اس میں مریض کی قوتِ مدافعت اچھی ہوتی ہے، لیکن یہ فنگس کسی وائرس کی وجہ سے نہیں بلکہ الرجی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
فنگس کا پھیلاؤ
تو کیا یہ فنگس صرف آنکھوں، کانوں اور دماغ تک محدود رہتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر نینا بھلودیا کا کہنا تھا کہ ’یہ فنگس انفیکشن عام طور پر ناک سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ جب مریض سانس لیتا ہے تو ہوا میں موجود ذرات ناک میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اگر اس وقت کوئی وائرس موجود ہو تو وہ بھی ناک میں آ سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ فنگس زیادہ تر آنکھوں، ناک اور گلے میں ہوتا ہے، لیکن اگر یہ انفیکشن مزید پھیل جائے تو یہ پھیپھڑوں اور دماغ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔‘
بروقت علاج نہ ہونے سے سنگین نتائج کا خطرہ
ڈاکٹر بھلودیا نے خبردار کیا کہ ’اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس میں مریض اپنی بینائی کھو سکتا ہے۔ اگر دماغ کی دیوار پر فنگس بڑھ جائے تو دیوار پتلی اور گرنے لگتی ہے، جس کی وجہ سے ناک کے ذریعے دماغی مادہ نکلنا شروع ہو جاتا ہے اور اس سے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کو ایک یا دونوں نتھنوں کا طویل عرصے تک بند ہونا، سونگھنے کی صلاحیت میں کمی، آنکھوں میں پانی بھرنا، بینائی میں کمی، یا جھومنا جیسی علامات کا سامنا ہو تو آپ کو فوری طور پر کان، ناک اور گلے کے ڈاکٹر سے ملنا چاہیے۔‘
’اس فنگس کو سرجری کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر آنکھوں، ناک اور دماغ کے کونوں میں موجود فنگس کو نکال دیا جاتا ہے۔ سرجری کے بعد تین سے چھ ماہ تک اینٹی فنگل ادویات دی جاتی ہیں۔ مریض کو وقتاً فوقتاً ناک کی صفائی بھی کرانا پڑتی ہے۔ علاج کے بعد آنکھوں کی بینائی میں بہتری بھی دیکھی جاتی ہے۔‘
نزلہ زکام سے لڑنے میں مددگار ’زنک‘ کیا ہے اور آپ کے جسم کو اس کی ضرورت کیوں ہے؟ڈریسنگ ٹیبل پر سجا میک اپ بچوں کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟آپ کی ناک کا میل آپ کی صحت کے بارے میں کیا بتاتاہے اور یہ بیماریوں سے لڑنے میں کیسے مددگار ثابت ہوتا ہے؟اگر آپ کے جسمانی اعضا غلط جگہ پر ہوں تو کیا یہ خطرے کی بات ہے؟سرویکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین سے جڑے مفروضوں کی حقیقت: ’پیریڈز ڈسٹرب نہیں ہوں گے اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت بہتر ہو گی‘ مردہ عورت کی بچہ دانی کے ذریعے پیدائش کا ’معجزہ‘