Getty Images
مارچ کے آغاز سے اب تک صرف 99 کے قریب جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
بی بی سی ویریفائی کے تجزیے کے مطابق دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی اس آبنائے (ہرمز) سے تیل و گیس اور دیگر اشیا کی انتہائی محدود ترسیل تو جاری ہے مگر ایران جنگ کے آغاز (28 فروری) کے بعد سے یہاں گزرنے والی ٹریفک میں تقریباً 95 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
ایران جنگ کی تازہ ترین تفصیلات بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر
میری ٹائم انفارمیشن کے مطابق ایران جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً 138 تجارتی جہاز گزرتے تھے، جن میں زیادہ تر تیل سے لدے ہوتے تھے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا میں تیل کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
تاہم شپنگ تجزیہ کار کمپنی ’کیپلر‘ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ کے آغاز سے اب تک صرف 99 جہاز ہی اس تنگ آبی گزرگاہ کو عبور کرنے میں کامیاب رہے ہیں، یعنی اوسطاً پانچ جہاز روزانہ۔
بی بی سی ویریفائی نے اِن 99 جہازوں کے حوالے سے تفصیلات اکٹھی کی ہیں۔
تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اِن 99 جہازوں میں سے تقریباً ایک تہائی، یعنی 33 کا تعلق ایران سے تھا۔ اِن 33 جہازروں میں سے 14 جہاز ایران کے پرچم تلے سفر کر رہے تھے جبکہ دیگر جہاز وہ تھے جو ایرانی تیل کی تجارت سے تعلق کے شبے میں عالمی پابندیوں کی زد میں ہیں (یعنی باقی کے جہاز بھی ایرانی کے تیل کی سپلائی کا کام کرتے ہیں)۔
مزید برآں، نو جہاز ایسے تھے جن کی ملکیت چین سے منسلک کمپنیوں کے پاس ہے، جبکہ چھ جہازوں کی منزل انڈیا درج تھی۔ تجزیے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ کئی غیر ایرانی جہاز اس دورانیے میں ایران کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوئے، جن میں یونانی کمپنیوں کے جہاز بھی شامل ہیں۔
کچھ جہاز اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے معمول سے طویل راستہ اختیار کرتے دکھائی دیے۔ مثال کے طور پر ایک پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکر نے 15 مارچ کو آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت درمیانی راستے کے بجائے ایرانی ساحل کے قریب سفر کیا۔
BBCپاکستانی تیل بردار جہاز کی جانب سے اختیار کیے گئے طویل راستے کا نقشہ
امریکی دفاعی تھنک ٹینک ’رینڈ کارپوریشن‘ سے منسلک محقق بریڈلی مارٹن کے مطابق یہ پاکستانی جہاز غالباً ایران سے ملنے والی ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستانی جہاز کی جانب سے طویل راستہ اختیار کیے جانے کا مطلب آبنائے ہرمز کے مرکزی راستے پر بارودی سرنگوں کی موجودگی یا ایرانی حکام کی جانب سے جہاز کی شناخت آسان بنانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
’ونڈورڈ میری ٹائم اینالیٹکس‘ سے منسلک مشیل وائز کے مطابق ایران حملے کے خوف اور بارودی سرنگوں کے خدشے کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بند اور قابو میں کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا ’اسی وجہ سے جہازوں کو بین الاقوامی راستے کے بجائے ایران کے ساحلی پانیوں کے قریب سفر کرنا پڑ رہا ہے۔‘
امریکہ کے سینٹر فار نیول انیلیسز سے منسلک مائیکل کونل بھی اس بات سے متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز (ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے) مختلف راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
اُن کے مطابق ’ممکن ہے کہ چند ممالک کا ایرانی حکام کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو کہ اگر جہاز ایک مخصوص راستے پر رہیں گے تو وہ محفوظ رہیں گے۔‘
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی سطح پر تیل و گیس کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین خطرات کی نشاندہی کرتی ہے اور آبنائے ہرمز پر ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
چار بڑے خطراتEPAآبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران تھائی لینڈ کے پرچم بردار جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا
بی بی سی ویریفائی نے ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 20 تجارتی جہازوں پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ حملے صرف آبنائے ہرمز کے قریب ہی نہیں بلکہ ایرانی ساحل کے نزدیک دیگر حصوں میں بھی ہوئے ہیں۔
11 مارچ کو تھائی پرچم بردار جہاز میوری ناری پر دو میزائل اس وقت داغے گئے جب اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔ جہاز پر سوار عملے کے 23 افراد میں سے تین تاحال لاپتہ ہیں، ان لاپتہ افراد کے بارے میں خیال ہے کہ وہ حملے کے بعد جہاز کے انجن روم میں پھنس گئے تھے۔
اس جہاز کے مالکان نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ زندہ بچ جانے والا عملہ ’سمندر میں ہوئے دو میزائل حملوں کے بعد شدید صدمے کا شکار ہے۔‘
اُسی روز دو دیگر جہازوں پر بھی حملہ ہوا: یونانی ملکیت والا سٹار گوینتھ اور امریکی ملکیت والا ایم ٹی سیف سی وشنو۔ ایم ٹی سیف سی وشنو کے مالک کا کہنا ہے کہ ’تجارتی جہاز رانی کی گزرگاہوں کو جنگی میدان نہیں بنانا چاہیے۔‘
عراق کے ساحل پر لنگر انداز اس جہاز پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا جبکہ جہاز پر سوار باقی 28 افراد کو جلتے ہوئے جہاز سے سمندر میں کودنا پڑا تاکہ اپنی جانیں بچا سکیں۔
جہاز کے مالک ایس وی انچن کا کہنا ہے کہ ’جہاز پر سوار افراد فوجی نہیں تھے بلکہ ایسے پروفیشنلز تھے جو عالمی تجارت کو رواں دواں رکھتے ہیں۔‘
BBCماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ڈرونز، میزائل، تیز رفتار حملہ آور کشتیوں اور بارودی سرنگوں جیسے خطرات کا سامنا ہے
کنگز کالج فری مین ایئر اینڈ اسپیس انسٹیٹیوٹ سے منسلک آرون ڈاسن کے مطابق ’ڈرونز، میزائل، تیز رفتار حملہ آور کشتیاں اور بارودی سرنگیں جہاز رانی اور تجارت کے لیے ایک پیچیدہ خطرہ ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ 'روایتی بارودی سرنگ صاف کرنے والے جہاز ویسے ہی سست رفتاری سے کام کرتے ہیں۔ اور اگر انھیں فضا اور زمین سے حملوں کا بھی خطرہ ہو تو اُن کے لیے بارودی سرنگوں کو تلاش کرنا اور ناکارہ بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔'
اس مقام پر ایران اپنے جغرافیائی حالات کو بھی اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز نہ صرف تنگ اور کم گہری ہے بلکہ اس کا ساحل پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے، جس سے ایران کو بلند مقامات سے حملے کرنے کا موقع ملتا ہے اور جہازوں کے پاس ردعمل کے لیے کم وقت رہ جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کئی جہاز اپنی شناخت چھپانے کے لیے جان بوجھ کر اپنا ٹریکنگ سسٹم بھی بند کر رہے ہیں۔ شپنگ تجزیہ کار کمپنی 'کیپلر'کے دیمتریس امپاتزیدیس کے مطابق 'یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ آنکھیں بند کر کے خطرے کے مقام سے گزر جائیں۔'
جب جہاز خلیج عمان میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اپنا ٹریکر بند کر دیتے ہیں، جس سے وہ نقشوں سے غائب ہو جاتے ہیں اور کئی گھنٹوں یا دنوں بعد کسی اور مقام پر دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں۔
یہ طریقہ کار جہازوں کو اپنی پوزیشن چھپانے میں مدد دیتا ہے، مگر اس سے کیپلرجیسی کمپنیوں کے لیے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ امپاتزیدیس نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ 'ہمارے تجزیہ کاروں نے ہر چیز کو مینولی جانچا ہے اور سیٹلائٹ تصاویر کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔'
اضافی رپورٹنگ: ڈینیئلے پالمبو اور جوشوا چیٹم
ایران سے جنگ میں ایف 35 کو نقصان: 77 ملین ڈالر کے جہاز میں خاص کیا ہے اور اب تک امریکہ کے کتنے طیاروں کو نقصان پہنچا ہے؟پاکستانی آئل ٹینکر ’کراچی‘ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے لمبا راستہ کیوں چنا؟بمباری اور تباہی کے درمیان ایران میں سالِ نو کا آغاز اور مجبتی خامنہ ای کا پیغام: ’پاکستان میرے والد کا خاص پسندیدہ ملک تھا‘جنگ کے دوران مسافر طیاروں کی بھیڑ سنبھالنے والے ’فلائٹ کنٹرولر‘ کیسے کام کرتے ہیں؟مسلسل میزائل و ڈرون حملے اور معاشی دباؤ: کیا ایران نے امریکہ و اسرائیل کو طویل جنگ میں پھنسا دیا ہے؟وہ ملک جہاں سیاحت عروج پر تھی، مگر پھر ایک ڈرون آ گرامشرق وسطیٰ میں ’جی پی ایس جیمنگ‘ کی جنگ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟ایران میں پھنسے پاکستانی ملاح: ’وہ پورٹ سے نکل ہی رہے تھے کہ دو میزائل حملے ہوئے‘