جب والد کی پھانسی رکوانے کے لیے بے نظیر بھٹو نے بی بی سی پر خبر چلوائی اور جنرل ضیا نے مرحوم ذوالفقار بھٹو کے لیے دعا کرائی

بی بی سی اردو  |  Apr 04, 2026

Gamma-Rapho via Getty Images

بے نظیر بھٹو نے ایک داؤ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ذوالفقار کی بھٹو کی پھانسی سے دو دن قبل انھوں نے ملازم کے ہاتھ ایک تحریر بھجوائی تھی۔ بے نظیر کا خیال تھا کہ تحریر میں درج پیغام ان کے والد کی پھانسی رکوا دے گا۔

اپنی سوانح عمری ’دخترِ مشرق‘ (ڈاٹر آف دی ایسٹ) میں بے نظیر دو اپریل کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کا ذکر کرتی ہیں۔ اسی روز بے نظیر اور ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو کو یہ احساس ہوا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جانے والی ہے۔

ملک کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو راولپنڈی کی جیل میں قید تھے۔ انھیں قتل کے مقدمے میں عدالتی کارروائی کے بعد سزائے موت سنائی جا چکی تھی؛ ایسی عدالتی کارروائی، جسے پھانسی کے تقریباً 45 سال بعد سپریم کورٹ خود غیر منصفانہ قرار دینے والی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو راولپنڈی سینٹرل جیل سے چند میل دور سہالہ کے پولیس ٹریننگ کیمپ میں نظر بند رکھی گئی تھیں۔

کتاب دخترِ مشرق کے مطابق دو اپریل 1979 کی اس صبح پولیس ٹریننگ کیمپ سہالہ کے ایک کمرے میں، بے نظیر صوفے پر آرام کر رہی تھیں کہ اچانک ان کی والدہ نے کمرے میں داخل ہو کر پکارا، ’پنکی!‘

یہ وہ نام تھا جس سے بے نظیر بھٹو کے گھر والے انھیں بلاتے تھے۔ لیکن نصرت بھٹو کے لہجے میں کچھ ایسی بات تھی کہ بے نظیر ساکت ہو کر رہ گئیں۔

نصرت بھٹو نے کہا: ’باہر فوجی موجود ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم دونوں کو آج تمہارے والد سے ملنے جانا ہو گا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟‘

ان دونوں کو ہی معلوم تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔

اس روز نصرت بھٹو کی ذوالفقار علی بھٹو سے جیل میں ملاقات طے تھی۔ بے نظیر کی ملاقات چند دن بعد ہونی تھی۔ جنرل ضیا الحق کی حکومت نے دونوں کے لیے ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کے الگ الگ دن طے کر رکھے تھے۔ ملاقات کے لیے ایک ہی روز بھیجے جانے کا بس یہی مطلب ہو سکتا تھا۔۔۔ کہ یہ آخری ملاقات تھی۔

کتاب میں بے نظیر بھٹو لکھتی ہیں کہ یہ پیغام ملنے کے بعد انھیں واضح ہو گیا: ’ضیا میرے والد کو قتل کرنے والے تھے۔‘

تب انھوں نے ایک آخری کوشش کرنے کی ٹھانی۔

’ابراہیم! جلدی سے یہ یاسمین کے پاس لے جاؤ‘

اپنی سوانح عمری دخترِ مشرق میں بے نظیر لکھتی ہیں: ’میرا ذہن تیزی سے چلنے لگا۔ ہمیں یہ خبر باہر تک پہنچانی تھی، لوگوں اور بین الاقوامی برادری تک یہ آخری پیغام بھیجنا تھا۔ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔‘

بے نظیر نے اپنی والدہ سے کہا: ’ان سے کہہ دیں کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں۔ ان سے کہیں کہ اگر یہ آخری ملاقات ہے تو پھر، ظاہر ہے، میں ضرور آؤں گی، لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو ہم کل جائیں گے۔‘

جس وقت نصرت بھٹو وہاں موجود گارڈز کو یہ بات بتا رہی تھیں، اسی وقت بے نظیر بھٹو نے ایک پیغام لکھا: ’میرے خیال میں وہ ہمیں آخری ملاقات کے لیے بلا رہے ہیں۔‘

یہ پیغام بے نظیر بھٹو کی ایک دوست کے لیے تھا۔ اس امید پر کہ وہ دوست پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو خبر کر دیں گی اور وہ رہنما سفارتی حلقوں کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی متحرک کریں گے۔

سہالہ پولیس ٹریننگ کیمپ میں نظر بندی کے دوران انھیں ذاتی ملازم رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ انھی ملازمین میں ایک ابراہیم بھی تھے۔

بے نظیر نے ابراہیم کو بلا کر کہا: ’جلدی سے یہ یاسمین کے پاس لے جاؤ۔‘

وہ جانتی تھیں کہ وہ ایک بہت بڑا خطرہ مول لے رہی ہیں۔ باہر جاتے ہوئے ابراہیم کی تلاشی لی جا سکتی تھی، ان کا پیچھا کیا جا سکتا تھا، اس قدر جلدی میں ابراہیم سے بھی احتیاط کا دامن چھوٹ سکتا تھا۔

کتاب میں بے نظیر نے لکھا ہے کہ ابراہیم کو یوں بھیجنے میں خطرہ تو بہت زیادہ تھا لیکن اپنے والد کی جان بچانے کے لیے انھوں نے یہ داؤ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔

کاغذ کا ٹکڑا تھماتے ہوئے بے نظیر نے کہا: ’جاؤ ابراہیم جاؤ۔ گارڈز کو بتانا کہ تم میرے لیے دوا لینے جا رہے ہو۔‘

پیغام باہر پہنچتا ہے

باہر موجود مارشل لا حکام آپس میں گفتگو کے بعد اپنے افسران کو یہ پیغام پہنچا رہے تھے کہ بے نظیر بیمار ہیں اور جوابی پیغام کا انتظار کر رہے تھے۔

اسی دوران ابراہیم مرکزی دروازے پر پہنچے اور گارڈز سے کہا: ’مجھے بے نظیر صاحبہ کے لیے دوا لانی ہے، جلدی۔ جلدی!‘

گارڈز سن چکے تھے کہ بے نظیر بھٹو کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ انھوں نے ابراہیم کو باہر جانے کی اجازت دے دی۔

اسی دوران حکام نے نصرت بھٹو کو بتایا: ’چونکہ آپ کی بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں تو آپ ملاقات کے لیے کل چلے جائیے گا۔‘

انھیں کچھ وقت مل گیا تھا۔

کتاب دخترِ مشرق میں بے نظیر بھٹو لکھتی ہیں کہ اس رات آٹھ بج کر 15 منٹ پر انھوں نے اپنے ریڈیو سیٹ پر بی بی سی ٹیون کیا۔

اور پھر وہ رپورٹ نشر ہوئی جس کا انھیں انتظار تھا۔ بی بی سی ریڈیو کہہ رہا تھا: ’اپنی قید سے بے نظیر بھٹو نے پیغام بھجوایا ہے کہ انھیں اپنے والد سے آخری ملاقات کے لیے بلایا گیا ہے۔‘

پیغام باہر بھیجے جانے میں کامیابی مل چکی تھی۔

بے نظیر لکھتی ہیں کہ اپنے پیغام میں انھوں نے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ احتجاج کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ وہ توقع کر رہی تھیں کہ یہ حصہ بھی نشر کیا جائے گا لیکن ایسا نہ کیا گیا، ’بلکہ اس کی جگہ بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی (کہ یہ ملاقات آخری ہو گی)۔‘

بی بی سی نے ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے ایک سابق وزیر کا مؤقف بھی رپورٹ کیا جن کا کہنا تھا: ’وہ (بے نظیر بھٹو) گھبرا گئی ہیں۔‘

اپنی کتاب میں بے نظیر بھٹو لکھتی ہیں: ’میری والدہ اور میں ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہیں پا رہی تھیں۔ ہماری آخری امید بھی بجھ چکی تھی۔‘

کیا اٹک سازش کیس نے بھٹو کا ’اعتماد‘ حاصل کرنے میں جنرل ضیا کی مدد کی؟اگرتلہ سازش کیس: جب شیخ مجیب ’پھانسی کے پھندے‘ سے بچے اور ’ہیرو‘ بن کے اُبھرےبھٹو کی ’بلامقابلہ منتخب ہونے کی خواہش‘، انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اور وہ ’غلطیاں‘ جو فوجی بغاوت کا باعث بنیں’اللہ بھٹو سائیں کا بھلا کرے‘پھانسی سے پہلے دانتوں کے معالج سے ملنے کا مطالبہ

اور پھر تین اپریل 1979 کو انھیں راولپنڈی جیل لے جایا گیا۔

بے نظیر کی کتاب سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ملاقات کس وقت ہوئی تھی تاہم ایک اور کتاب ’بھٹو کے آخری 323 دن‘ میں درج معلومات بتاتی ہیں کہ یہ ملاقات دن ساڑھے 11 بجے ہوئی تھی اور دوپہر دو بجے تک جاری رہی۔

’آپ دونوں یہاں کیوں آئی ہیں؟‘ بے نظیر اور نصرت بھٹو کو اکٹھے دیکھ کر جیل میں قید ذوالفقار علی بھٹو نے سوال پوچھا تھا۔

بے نظیر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ان کے والد کو بھی تبھی معلوم ہوا کہ یہ آخری ملاقات ہے اور یہ کہ انھیں پھانسی دی جانے والی ہے۔

یعنی تین اپریل کے دن ساڑھے 11 بجے تک ذوالفقار علی بھٹو آگاہ نہ تھے کہ ان کی زندگی کے بس چند ہی گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔

دخترِ مشرق میں بے نظیر بھٹو لکھتی ہیں کہ ان کے والد نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا: ’کیا (پھانسی کی) تاریخ مقرر کر دی گئی ہے؟‘

جیلر نے بتایا کہ اگلی صبح پانچ بجے انھیں پھانسی دے دی جائے گی۔ تاہم بھٹو کو اس بات کا یقین نہ تھا۔

کرنل رفیع الدین مارشل لا انتظامیہ کی جانب سے سینٹرل جیل راولپنڈی میں سپیشل سکیورٹی سپرنٹنڈنٹ تعینات کیے گئے تھے اور جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کی حفاظت ان کی ذمہ داری تھی۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے کتاب تحریر کی جس کا عنوان ہے ’بھٹو کے آخری 323 دن۔‘

اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ تین اپریل 1979 کی شام چھ بجے ذوالفقار علی بھٹو کو بتا دیا گیا کہ انھیں پھانسی دی جا رہی ہے۔

ریٹائرڈ کرنل رفیع نے لکھا: ’جیل سپرنٹنڈنٹ جب یہ حکم سنا رہا تھا تو بھٹو صاحب گدّے پر بغیر کسی گھبراہٹ یا پریشانی کے لیٹے رہے۔ بلکہ ان کے جسم اور چہرے پر نرم نازک ڈھیلا پن اور مسکراہٹ نمودار ہوئی۔‘

کرنل (ر) رفیع نے لکھا ہے کہ یہ سننے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کا تحریری حکم دکھانے، وکلا اور دوسرے رشتہ داروں سے ملاقات کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ بھی کہا کہ ’میرے دانت بہت سخت خراب ہیں اور میں اپنے معالج مسٹر ظفر نیازی سے فوراً ملنا چاہتا ہوں۔‘

AFP via Getty Imagesذوالفقار علی بھٹو کو اس بات کا یقین نہ تھا کہ انھیں واقعی پھانسی دے دی جائے گیبھٹو نے کہا: 'رفیع بس!‘

کتاب ’بھٹو کے آخری 323 دن‘ کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ کو بتایا گیا کہ ان کے لیے ٹیلی فون کال ہے۔ جب جیل سپرنٹنڈنٹ اور ان کے ہمراہ آنے والے مجسٹریٹ اور جیل ڈاکٹر بھی کوٹھڑی سے باہر چلے گئے تو ذوالفقار علی بھٹو اور کرنل رفیع تنہا رہ گئے۔

تب انھوں نے پوچھا: ’رفیع! یہ کیا ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے؟‘

کرنل (ر) رفیع نے لکھا ہے کہ جب انھوں نے بتایا کہ آخری حکم مل گیا ہے اور آج پھانسی دی جا رہی ہے، تب ’مسٹر بھٹو میں پہلی مرتبہ میں نے وحشت کے آثار دیکھے۔ انھوں نے اونچی آواز میں اپنے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے کہا، بس ختم؟ بس ختم۔‘

یہ وہ لمحہ تھا جب ذوالفقار علی بھٹو کو ادارک ہوا کہ انھیں واقعی پھانسی دی جانے والی ہے۔

کرنل (ر) رفیع کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے پوچھا: ’کس وقت اور پھر کہاں (پھانسی دی جائے گی)؟‘

کتاب میں درج ہے: ’میں نے اپنے ہاتھوں کی سات انگلیاں ان کے سامنے کیں۔ انھوں نے پوچھا: سات دن بعد؟ میں نے ان کے نزدیک ہو کر سرگوشی میں بتایا: جناب گھنٹے۔‘

’چند لمحوں کے وقفے کے بعد انھوں نے کہا: رفیع بس!‘

کتاب میں لکھا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی گھاٹ پر کھڑا کر کے چار اپریل کی صبح ٹھیک دو بج کر چار منٹ پر جلاد نے لیور کھینچا اور ’بھٹو صاحب ایک جھٹکے کے ساتھ پھانسی کے کنویں میں گر پڑے۔‘

جب ضیا الحق نے بھٹو کے لیے دعا کرائی اور ڈرائیور نے سٹیئرنگ ویل چھوڑ دیا

جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی اس وقت سعید مہدی راولپنڈی میں ڈپٹی کمشنر تعینات تھے۔

اپنی کتاب ’دی آئی وٹنس‘ (عینی شاہد) میں انھوں نے یہ واقعہ درج کیا ہے جو سعید مہدی کے مطابق خود انھوں نے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا لیکن جنرل ضیا الحق کے اے ڈی سی (فوجی معاون) نے انھیں بتایا کہ واقعہ عین اسی طرح پیش آیا جیسے بیان کیا گیا ہے۔

کتاب میں درج ہے کہ چار اپریل 1979 کی صبح ضیا الحق نے ایک بریفنگ کے لیے محکمۂ خارجہ کے دفتر جانا تھا۔ سعید مہدی کے مطابق ضیا الحق وقت کی پابندی نہیں کرتے تھے لیکن اس روز صبح نو بجے وزارت خارجہ پہنچنے کے لیے آٹھ بج کر 40 منٹ پر ہی اپنی رہائش گاہ کے برآمدے میں تیار کھڑے تھے۔

راستے میں جب ان کا قافلہ راولپنڈی جیل کے قریب سے گزرا تو ضیا الحق نے اپنے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر ظفر علی سے پوچھا کہ کیا بھٹو کو پھانسی دی جا چکی ہے؟

ملٹری سیکریٹری نے بتایا کہ صبح کے دو بجے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

گویا ملک کے فوجی حاکم جنرل ضیا الحق یہ ظاہر کر رہے تھے کہ انھیں پھانسی دیے جانے کا علم ہی نہیں ہے۔

سعید مہدی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’جنرل ضیا نے افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان کا ذوالفقار علی بھٹو سے بہت قریبی تعلق تھا اور بھٹو ان پر بہت مہربان تھے، لیکن عدالتی فیصلوں کے آگے وہ بے بس تھے۔‘

جنرل ضیا کا بیان ’عدالتی فیصلوں کے آگے وہ بے بس تھے‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے سعید مہدی لکھتے ہیں کہ ’یہ بات سراسر غلط تھی، کیونکہ یہ ایک کھلا راز تھا کہ جنرل ضیا خود اور ان کی پوری ٹیم ججز پر اس فیصلے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔‘

کتاب کے مطابق راولپنڈی جیل کے قریب سے گزرتے ہوئے جنرل ضیا نے پوچھا کہ ’کیا بھٹو کو دفنا دیا گیا ہے؟‘

اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ جنرل ضیا الحق ذوالفقار علی بھٹو کے لیے دعائے فاتحہ (کسی کی وفات پر کی جانے والی دعا) پڑھنا چاہتے تھے اور یہ دعا میت کے دفنانے کے بعد ہی پڑھی جا سکتی ہے۔

اے ڈی سی کا سنایا واقعہ درج کرتے ہوئے سعید مہدی بتاتے ہیں: ’جنرل ضیا نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ بھٹو کو دفنا دیا گیا ہے یا نہیں، اس کے باوجود دعائے فاتحہ پڑھ ہی لی جائے۔ اور سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے، یہاں تک کہ گاڑی چلانے والے ڈرائیور نے بھی دعا کے لیے سٹیئرنگ ویل چھوڑ دیا۔‘

اس وقت جنرل ضیا کے اے ڈی سی نے فوراً ڈرائیور کو ٹوکا کہ وہ ’سٹیئرنگ ویل تھامے تھامے ہی دعا کر لیں۔‘

سعید مہدی لکھتے ہیں کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کی تدفین کر دی گئی اس کے بعد حکومت نے ان کی موت کا اعلان کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا کیوں سنائی گئی اور اس فیصلے کو ’عدالتی قتل‘ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟عمران کے ساتھ جو ہو رہا ہے کیا یہ وہی بھٹو والا سکرپٹ ہے؟جب چین نے امریکہ سے کہا وہ بھٹو کو اپنے پاس رکھنے کو تیار ہےذوالفقار علی بھٹو: ’مجھے داڑھی کاٹنے دیں، میں مولوی کی طرح اس دنیا سے نہیں جانا چاہتا‘جب ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ امریکہ وہ ہاتھی ہے جو نہ بھولتا ہے، نہ چھوڑتا ہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More