’اسلام آباد مذاکرات‘: امریکہ اور ایران کی جانب سے بات چیت کے لیے کون سی اہم شخصیات پاکستان آ رہی ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Apr 09, 2026

Getty Imagesوائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کے مطابق پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر محمد باقر قالیباف وفد کے ہمراہ اسلام آباد آئیں گے

پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی ایک دن ہی ہوا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

لیکن دنیا کی نظریں اب اس مشروط اور عارضی جنگ بندی کو ایک معاہدے کی شکل دینے کے لیے مذاکراتی عمل پر جمی ہیں جو جمعے سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔

اسلام آباد میں ان مذاکرات کا اعلان سب سے پہلے ایرانی سپریم کونسل کے بیان میں سامنے آیا جس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی کہ انھوں نے جنگ بندی معاہدے کے بعد دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ فریقین نے غیر معمولی بصیرت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف رہے ہیں اور اس دعوت کا مقصد تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کرنا ہے۔

شہباز شریف نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے اور وہ آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں بانٹنے کے منتظر ہیں۔

بدھ کو شہباز شریف نے صدر مسعود پزشکیان سے بھی بات کی جس میں ایرانی صدر نے تصدیق کی کہ ان کا ملک اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت کریں گے اور ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔

اس حوالے سے اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے دو دن کی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ریڈ زون کا سکیورٹی کنٹرول فوج کے پاس ہوگا جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی وہاں پر تعینات ہوں گے۔ اطلاعات ہیں کہ اس مذاکراتی عمل میں حصہ لینے والے افراد کو ریڈ زون میں واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا جا رہا ہے۔

Getty Imagesاسلام آباد مذاکرات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں

اس بات چیت میں شرکت کے لیے جہاں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس، مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنے ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا انتخاب کیا ہے۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وفد اسلام آباد پہنچے گا۔

ایسے میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور شروع ہونے جا رہا ہے یہ واضح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے کیونکہ گذشتہ ایک سال میں یہ دونوں دو بار مذاکرات کر چکے ہیں اور دونوں بار اس کوشش کے نتیجہ خیز ہونے سے قبل ہی جنگ شروع ہو گئی۔

اس صورتحال میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے بات چیت کے لیے جن افراد کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ کون ہیں اور اس حالیہ تنازعے کے دوران ان کا کردار کیا رہا ہے؟

’پاکستان کی درخواست پر‘ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر کیسے اور کن شرائط پر تیار ہوئے؟غیر روایتی سفارتی گیم: ٹرمپ کا اعتماد جیت کر پاکستان کیسے ایران جنگ میں ایک غیرمتوقع ثالث بنا؟ایران - امریکہ، اسرائیل جنگ میں آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ثابت ہو رہی ہے؟ایرانی سرزمین پر امریکی اہلکار کو ریسکیو کرنے کا مشن: ’بتایا گیا تھا کہ یہ انتہائی خطرناک مشن ہے، مجھے لگا کہ خطرہ مول لیا جا سکتا ہے‘ امریکی نائب صدر جے ڈی وینسGetty Images

حالیہ دنوں میں میڈیا رپورٹس میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سمیت دیگر امریکی حکام سے روابط کا چرچا رہا تھا۔

خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مختلف مواقع پر اپنی کابینہ کو ایران کے حوالے سے بریف کرنے کے معاملے پر جے ڈی وینس کو خطاب کا موقع دیتے رہے ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ فروری کے آخر میں جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے مابین بلواسطہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران کے لیے جے ڈی وینس، مذاکرات کے لیے زیادہ بہتر شخصیت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔

وینس سال 1984 میں اوہائیو ریاست کہ ایک چھوٹے سے شہر مِڈل ٹاؤن میں پیدا ہوئے۔

سنہ 2022 میں وینس نے ریپبلکن پارٹی میں شامل ہو کر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک زمانے میں وینس ٹرمپ کے سخت مخالف ہوا کرتے تھے۔

سنہ 2016 میں جب امریکی صدراتی انتخابات ہو رہے تھے تو وینس 'نیور ٹرمپ' یعنی 'ٹرمپ کبھی نہیں' نامی مہم میں پیش پیش تھے۔

تاہم جب 2022 میں انھوں نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا تو انھوں نے ٹرمپ سے معافی مانگی اور اپنی سیاسی وابستگیاں بدل دیں۔ ایسا کرنے کے بعد انھیں صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل ہوئی۔

ٹرمپ کی 'میک امریکہ گریٹ اگین' یعنی 'امریکہ کو دوبارہ سے عظیم بنائیں' مہم میں وینس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ 'میک امریکہ گریٹ اگین' ٹرمپ کی مہم کا نعرہ اور ان کی تحریک کا نام ہے جس کی بدولت وہ اس سے قبل بھی انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے۔

آسٹریلیا کی ڈیاکن یونیورسٹی میں محقق ڈاکٹر زاہد شہاب احمد کہتے ہیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنے ماضی کے تجربات کے سبب ایران کے لیے قابلِ قبول ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات کے پچھلے ادوار میں شامل تھے اور اسی دوران ایران پر حملے ہو گئے تھے۔

'اس لیے وہ ایران کا اعتماد کھو بیٹھے، اب ایران ان سے بات چیت کرنا نہیں چاہتا اور میرے خیال میں اس بات پر سب کا اتفاق ہے۔'

وہ امریکی نائب صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'اگر آپ اس تنازع کی شروعات کے بعد سے امریکہ سے آنے والے پیغامات دیکھیں تو زیادہ تر بیانات سکریٹری خارجہ مارکو روبیو، سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آئے جو کہ بہت جارحانہ تھے۔'

'اسی لیے جے ڈی وینس اس صورتحال میں ان مذاکرات کے لیے مناسب شخصیت ہیں۔'

Getty Images

اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے جے ڈی وینس کا منظرِ عام پر آنا تجزیہ کاروں کی نظر میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔

ڈائریکٹر نیو لائنز انسٹٹیوٹ ڈاکٹر کامران بخاری کہتے ہیں کہ 'جیرڈ کشنر کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے اور سٹیو وٹکوف خصوصی ایلچی کی حیثیت سے بطور مذاکرات کار کام کرتے ہیں۔'

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ 'صدر ٹرمپ کا رتبہ بڑا ہے، اس لیے شاید وہ خود اس معاملے میں بذاتِ خود شامل نہیں ہونا چاہتے۔ اس کے بعد جے ڈی وینس اور مارکو روبیو ہی ہیں جو ایسے کسی معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں، اس لیے ان کی اسلام آباد آمد اچنبھے کی بات نہیں ہے۔'

وہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس تنازع کے دوران صدر ٹرمپ سمیت دیگر امریکی عہدیداروں کی جانب سے سخت بیانات آتے تھے لیکن جے ڈی وینس اس دوران ایک 'ایک گُڈ کاپ' تھے۔

سٹیو وٹکوف: امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰGetty Images

امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ 68 سالہ سٹیو وٹکوف کا نام اس تنازع کے دوران بار بار سامنے آتا رہا ہے۔ وہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے پہلے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں بھی شریک تھے۔

اُن کا شمار صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور اُنھیں صدر ٹرمپ کا ’گالف پارٹنر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ نیویارک میں ریئل سٹیٹ کے کاروبار سے بھی وابستہ رہے ہیں اور یہیں اُن کا ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ ہوا، جو بعدازاں دوستی میں بدل گیا۔

وٹکوف کے حامی اُنھیں سیدھی بات کرنے والا مذاکرات کار قرار دیتے ہیں، جو پیچیدہ اور انتہائی مشکل معاملات میں سے بھی کوئی راستہ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

فروری میں جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں اُنھوں نے امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر کے ہمراہ شرکت کی تھی۔ لیکن یہ مذاکرات ناکام ہو گئے تھے اور 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا تھا۔

جنیوا مذاکرات سے قبل وٹکوف نے ابو ظہبی میں روس اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی ثالثی کے لیے متحدہ عرب امارات کا سفر کیا۔ ان مذاکرات کی وجہ سے فریقین کے درمیان 157 قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ ہوا۔

جیرڈ کشنر، امریکی صدر کے دامادGetty Images

جیرڈ کشنر ایک تاجر اور سرمایہ کار کے ساتھ ساتھ ایک اہم سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں اپنے بااثر کردار کے لیے مشہور ہیں۔

سنہ 2009 میں اُن کی صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ سے شادی ہوئی تھی۔ سنہ 1981 میں نیو جرزی میں پیدا ہونے والے کشنر ایک ایک ممتاز رئیل اسٹیٹ گھرانے میں پلے بڑھے۔

اُنھوں نے اپنے والد کی سزا کے بعد 25 سال کی عمر میں کشنر کمپنیاں سنبھال لیں، ہائی پروفائل پراپرٹی ڈیلز کے ذریعے کاروبار کو بڑھایا اور 2006 میں ’نیویارک آبزرور‘ کو خریدا۔

کشنر ٹرمپ کی 2016 کی مہم کے دوران ایک مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے اور اُنھوں نے بھرپور انداز میں ٹرمپ کی انتخابی مہم چلائی۔

مشرق وسطی کے معاملات پر کئی برسوں سے متحرک ہیں اور ابراہم معاہدے میں بھی وہ پیش پیش تھے، جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات سمیت مختلف عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔

اُنھوں نے میامی میں ایک نجی ایکویٹی فرم بھی قائم کی جسے مشرق وسطی میں بڑے سرمایہ کاروں کی حمایت حاصل ہے۔ کاروبار اور جغرافیائی سیاست میں اہم کردار کی وجہ سے اُن کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔

محمد باقر قالیباف: فوجی کمانڈر سے پارلیمانی سپیکر تکGetty Images

28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد سے محمد باقر قالیباف جنگ کے دوران تو اہم کردار ادا کرتے نظر آئے ہی مگر جب بھی ایران کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے بات کی گئی تو اس حوالے سے بھی ان کا نام سامنے آتا رہا۔

اسی تناظر میں گذشتہ ماہ خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ خبر بھی دی کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ساتھ قالیباف کا نام بھی اس اسرائیلی اُس فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے کہ جنھیں نشانہ بنائے جانے کے امکانات ہیں۔

اگرچہ 64 سالہ قالیباف نے اس جنگ کے دوران بار بار ایران کے دشمنوں کو خبردار کیا کہ وہ ان کے 'اپنی سرزمین کے دفاع کے عزم کو نہ آزمائیں' اور وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 'مسلسل حملوں' کی دھمکی بھی دیتے رہے تاہم امریکی میڈیا ادارے پولیٹیکو کے مطابق امریکی حکام انھیں ایک قابلِ عمل شراکت دار کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔

مشہد کے قریب واقعقصبے طرقبہ میں ایک مذہبی، محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے میںجنم لینے والے باقر قالیباف ایک ایسے عملی سخت گیر رہنما کے طورجانے جاتے ہیں جن کے نہ صرف پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں بلکہ وہ حکومت کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔

سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد قالیباف نے عراق کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا اور 20 سال کی عمر میں آئی آر جی سی میں شمولیت اختیار کی۔ دو سال بعد وہ اس کی ایک جنگی ڈویژن کے کمانڈر بن گئے یہ عہدہ انھوں نے سنہ 1988 میں جنگ کے خاتمے تک سنبھالے رکھا۔ جنگ کے بعد قالیباف نے تیزی سے ترقی جاری رکھی اور سنہ 1997 میں آئی آر جی سی ایئر فورس کے کمانڈر بن گئے۔

قالیباف کو 39 سال کی عمر میں پولیس چیف مقرر کیا گیا تاہم سنہ 2005 میں انھوں نے اس کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور صدارتی انتخاب میں حصہ لیالیکن شکست کھا گئے۔

اس شکست کے باوجود انھیں سٹی کونسل نے تہران کا میئر منتخب کیا جس عہدے پر وہ 12 سال تک فائز رہے اور اب بھی ایرانی دارالحکومت کے سب سے طویل عرصہ تک میئر رہنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

اس دوران قالیباف نے ہمیشہ صدارت کے منصب پر نظر رکھی اور 2013، 2017 اور 2024 میں بھی صدر بننے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اس دوران سنہ 2020 میں وہ پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئے اور سپیکر بن گئے۔ سنہ 2024 میں انھیں دوسری بار سپیکر منتخب کیا گیا۔

بی بی سی فارسی کے پوریا مہرویان کے مطابق ایران اس وقت جس نازک موڑ پر ہے باقر قالیباف کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے کیونکہ وہ جنگ کے تسلسل کی نگرانی اور سینیئر فوجی کمانڈرز اور ریاستی طاقت کے تینوں ستونوں کے سربراہان کے درمیان رابطہ کاری کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایران کی طرف سے مذاکرات کے لیے محمد باقر قالیباف کی آمد کو ڈیاکن یونیورسٹی آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے محقق زاہد شہاب احمد ایک سٹریٹجک قدم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ایران نے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا ہے جو نہ صرف سابق فوجی کمانڈر رہے ہیں بلکہ پارلیمنٹ میں بھی مرکزی کردار رکھتے ہیں۔'

ڈائریکٹر نیولائنز انسٹٹیوٹ، ڈاکٹر کامران بخاری نے اس حوالے سے بی بی سی اردو کے روحان احمد کو بتایا کہ محمد باقر قالیباف ایک اہم شخصیت ہیں، کیونکہ وہ نہ صرف پاسدارانِ انقلاب سے قریب ہیں بلکہ سیاسی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔

'تہران میں طاقت کا اصل سر چشمہ پاسدارانِ انقلاب ہے اور محمد باقر قالیباف ان کا سیاسی چہرہ ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'امریکہ کو بھی ایک ایسی قدامت پسند شخصیت کی ضرورت تھی، جن کی ملک میں ساکھ بھی بہتر ہو اور ان کا دستخط کوئی معنی رکھتا ہو۔'

عباس عراقچی: پاسدرانِ انقلاب سے عالمی سفارت کاری تکGetty Images

توقع ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اسلام آباد آ سکتے ہیں۔

ایرانی ٹیم کے دوسرے ممکنہ رکن وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہیں جو پانچ ہفتے سے زیادہ جاری رہنے والی لڑائی کے دوران دنیا کے لیے ایران سے رابطے کا اہم ترین ذریعہ ثابت ہوئے۔

1962 میں تہران میں جنم لینے والے عراقچی 1979 میں پاسداران انقلاب میں شامل ہوئے اور ایران عراق جنگ میں حصہ لیا۔

اس کے بعد اُنھوں نے ایرانی وزارتِ خارجہ میں کام کا آغاز کیا اور اسی دوران پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے سفارتی کریئر کے دوران وہ فن لینڈ، اسٹونیا اور جاپان میں سفیر بھی رہے ہیں۔

عباس عراقچی سنہ 2000 کی دہائی سے ایران کے جوہری مذاکرات یعنی جوہری منصوبوں سے متعلق مذاکرات کا حصہ رہے ہیں۔

سنہ 2013 میں حسن روحانی کے دور صدارت میں عباس عراقچی اس وقت کے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے۔ اس مذاکراتی ٹیم نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کیے جس کے نتیجے میں سنہ 2015 میں امریکہ اور ایران کے مابین جوہری معاہدہ ہوا تھا۔

مغربی حلقوں میں وہ ایک نرم گو مگر سخت گیر مذاکرات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد وہ صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں وہ پس پردہ چلے گئے تھے۔ مگر سنہ 2024 میں جب مسعود پزشکیان کی حکومت بنی تو انھیں وزیر خارجہ بنایا گیا۔

امریکہ کے ساتھ موجودہ تنازع کے دوران وہ دنیا میں ایران کےلیے ایک اہم آواز بن کر سامنے آئے اور نہ صرف سوشل میڈیاپر نظر آئے بلکہ سخت خطرے کے باوجود وہ ایران کی سڑکوں پر لوگوں میں چلتے پھرتے بھی دیکھے گئے۔

ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟مہینوں کی منصوبہ بندی اور عین وقت پر ملنے والی خفیہ اطلاع: خامنہ ای کو قتل کرنے کا امریکی، اسرائیلی مشن کیسے مکمل ہوا؟ایران جنگ کے تناظر میں اُبھرتے نئے عالمی نظام کی ایک جھلک، جہاں چند ممالک کو محض ’تفریح کے لیے‘ نشانہ بنایا جا سکتا ہےایران-امریکہ جنگ بندی: پاکستان کی سفارتی کوششوں نے کیسے دو حریفوں کو مذاکرات پر راضی کیا؟پاکستان کی ثالثی پر انڈیا کی خاموشی: ’مودی پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے تھے، مگر خود تنہا ہو گئے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More