اسلام آباد کی رمشا کالونی: قرضوں کے بوجھ تلے دبی مسیحی آبادی جسے گھروں سے دوبارہ بے دخلی کا خوف ہے

بی بی سی اردو  |  Apr 18, 2026

BBC

وہ ایک کمرے اور مختصر سے صحن پر مشتمل چھوٹا سا مکان ہے، جسے شہزاد مسیح کے خاندان نے اپنی خواہشات کے مطابق سجا رکھا ہے۔

بیرونی دروازے پر انھوں نے کتھئی رنگ کیا ہے اور اسی رنگ سے پاس کی دیوار پر اردو میں لکھا ہے ’شہزاد ہاؤس‘۔

گھر کے اندر داخل ہونے پر دائیں جانب کونے میں ایک غسل خانہ ہے، جہاں دروازے کی جگہ پر پردہ لٹکایا گیا ہے۔ اس کے باہر دیوار کے ساتھ ایک ہولڈر لگا ہے جس میں شہزاد مسیح کے چار بچوں پر مشتمل خاندان کے ٹوتھ برش ٹنگے ہیں۔

کمرے میں ایک ڈبل بیڈ، چارپائی اور ضرورت کا سامان ترتیب سے لگا ہے۔ صحن کے ایک کونے میں گھر کا کوڑا دان ہے۔ شہزاد مسیح ایک سکول میں خاکروب کی نوکری کرتے ہیں اور اپنے چاروں بچوں کو سرکاری سکول میں تعلیم دلوا رہے ہیں۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں سرکاری زمین پر قائم رمشا کالونی نامی ایک کچی بستی کے لگ بھگ 1500 گھروں میں ان کا ایک گھر ہے۔ اس بستی کے زیادہ تر مکینوں کی طرح انھوں نے بھی بینکوں سے قرض لے کر ڈھائی مرلہ زمین پر اپنا گھر بنایا تھا۔

چند ماہ قبل اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے اہلکاروں نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کے دوران ان کے گھر کا کچھ حصہ گرا دیا۔ اپنے ہی گھر میں اچانک ان کے سروں سے چھت چھن گئی۔ ان کے چھوٹے بچے موسم کے رحم و کرم پر آ گئے۔

BBCدیوار پر اردو میں لکھا ہے ’شہزاد ہاؤس‘

وہ کہتے ہیں کہ ’برسات میں جب آندھیاں اور طوفان آتے تھے تو ہم میاں بیوی خیمے کے بانس پکڑ کر بیٹھے رہتے تھے تاکہ بچوں پر پانی نہ آئے۔‘ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہزاد مسیح جب یہ بتا رہے تھے تو ان کی آنکھیں بھر آئیں۔

’ایک وقت وہ بھی تھا جب میں نے خود ساری بارش اپنے اوپر جھیلی۔ میں ڈبوں کی مدد سے پانی نکال نکال کر باہر پھینکتا تھا تاکہ کمرے کے اندر نہ جائے۔‘

اپنے بکھرے ہوئے مکان کو جوڑنے کے لیے شہزاد مسیح کو ایک مرتبہ پھر قرض اٹھانا پڑا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان کی ماہانہ تنخواہ 25 ہزار روپے ہے جبکہ ان کی قرضے کی ماہانہ قسط 29 ہزار روپے جاتی ہے۔ اسے پورا کرنے اور گھر کا خرچ چلانے کے لیے انھیں اضافی کام کرنا پڑتے ہیں۔

ان کی طرح ہی رمشا کالونی کے زیادہ تر افراد نے قرضے لے کر اپنے ڈھائی مرلے کے چھوٹے چھوٹے گھر بنا رکھے ہیں۔ 14 برس قبل اس مقام پر آ کر آباد ہونے کے بعد کئی برس تک ان لوگوں کو خیموں میں زندگی گزارنا پڑی۔

لیکن اب ان کے ان گھروں کو خطرہ لاحق ہے۔ رمشا کالونی کے مکینوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حال ہی میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے اہلکار گاڑیوں پر آئے اور انھوں نے کچھ عمارتیں گرائیں۔ انھوں نے وہاں زبانی اعلانات کر کے لوگوں سے کہا کہ وہ یہ جگہ خالی کر دیں۔

اس کے بعد بستی کے لوگ بڑی تعداد میں باہر نکل آئے اور اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ احتجاج کے بعد سی ڈی اے کے اہلکار واپس چلے گئے۔ تاہم شہزاد مسیح اور ان کی طرح باقی بستی مکینوں کو خوف ہے کہ یہ اہلکار پھر واپس آئیں گے۔

خاص طور پر اس وقت جب اسلام آباد میں انتظامیہ کچی آبادیوں کے خلاف متحرک ہے اور کئی علاقوں میں پولیس کی مدد سے ایسی آبادیاں ختم کرنے کے لیے آپریشن کی کوششیں کی گئی ہیں۔ رمشا کالونی کے باسی ایک مرتبہ پہلے بے گھری دیکھ چکے ہیں، دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران کیا ہوا؟اسلام آباد میں نئے رہائشی منصوبے کی تعمیر کے دوران پہلی عالمی جنگ کے فوجیوں کی یادگار مسماراسلام آباد میں مصری سفارتخانے پر ہونے والا خودکش حملہ جس کا سراغ ٹرک کے انجن نمبر سے ملاثنا یوسف کا قتل: ’بہن کو آواز آئی کہ شاید کوئی غبارہ پھٹا ہے‘BBCرمشا کالونی کے باسی ایک مرتبہ پہلے بے گھری دیکھ چکے ہیں، دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتےرمشا کالونی کب اور کیسے بنی؟

یہ 14 برس پہلے کی بات ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون کے عقب میں واقع مہر آبادی نامی ایک کالونی میں ایک مسیحی کم عمر بچی کے خلاف توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے۔ یہ الزامات بعد میں عدالتی کارروائی میں غلط ثابت ہوئے۔

لیکن ان الزامات کے فوری بعد شروع ہونے والے ہنگاموں میں وہاں بسنے والی مسیحی آبادی کے لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے۔ اعجاز غوری رمشا کالونی کے رہائشی ہیں اور یہاں کی امن رابطہ کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ اس واقعے کے عینی شاہدین میں سے ایک تھے۔ ’بہت سے لوگ تو بد حواسی میں اپنے گھر کھلے چھوڑ کر ہی وہاں سے بھاگ گئے۔ جو رُکے رہے وہ بھی بہت خوفزدہ تھے۔‘

اعجاز غوری کہتے ہیں کہ اس وقت کی حکومت نے سی ڈی اے کے ذریعے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو وہاں سے نکال کر سیکٹر ایچ نائن میں اس خالی پٹی پر لا کر آباد کیا جو اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی کی عقبی بیرونی دیوار کے بالکل پیچھے ہے۔

’سی ڈی اے کی اپنی ٹیمیں ہمیں یہاں چھوڑ کر گئیں۔ سی ڈی اے نے لوگوں کو اپنے ٹرک دیے جن میں اپنا سامان لاد کر وہ یہاں لے کر آئے۔ بلکہ سی ڈی اے کے اہلکاروں نے کئی روز تک یہاں آنے والے لوگوں کے کھانے کا بندوبست بھی کیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک لوگ خیمے لگا کر اس جگہ پر بیٹھے رہے جہاں کوئی بنیادی سہولیات جیسے بجلی، پانی اور گیس وغیرہ دستیاب نہیں تھے۔

BBCسی ڈی اے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے رمشا کالونی کے مکینوں کو بے دخلی کا کوئی نوٹس نہیں دیارمشا کالونی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

ان دنوں رمشا کالونی ایک ایسی آبادی کا منظر پیش کرتی ہے جہاں ایک محدود سے رقبے میں بڑی تعداد میں لوگ آباد ہیں۔ یہاں مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پلاٹ بنا کر تعمیرات کر رکھی ہیں۔ اکثریت ایسے گھروں کی ہے جو سیمنٹ کے بلاکس کی مدد سے بنائے گئے ہیں۔

امن رابطہ کمیٹی کے ممبر اعجاز غوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بستی کی مقامی انتظامی کمیٹی کے ممبران کی مشاورت سے لوگوں نے اس جگہ کو ڈھائی مرلے کے چھوٹے چھوٹے پلاٹوں میں تقسیم کر لیا۔

’پھر بینکوں سے قرض لے کر اور کمیٹیاں ڈال کر لوگوں نے ان پلاٹوں پر اپنے چھوٹے چھوٹے آشیانے بنائے۔ وہ اب تک ان قرضوں کی ادائیگیاں کر رہے ہیں۔‘

رمشا کالونی سے پہلے یہاں اکرم گل نامی کالونی پہلے سے موجود ہے جس میں اعجاز غوری کے مطابق سات سے آٹھ سو کے لگ بھگ گھرانے آباد ہوں گے۔ رمشا کالونی اس کے برابر میں آباد ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر لوگوں کے شناختی کارڈز پر یہاں ہی کا پتہ درج ہے اور ان کے ووٹ بھی رجسٹرڈ ہیں۔ وہ گذشتہ چند انتخابات میں اپنے ووٹ ڈال بھی چکے ہیں۔ انتخابات کے دنوں میں کچھ سیاسی جماعتوں کی مدد سے کالونی کی کچھ گلیاں پکی بھی کرائی گئی ہیں۔

تاہم اس کے باوجود نہ تو یہاں کے لوگوں کو مالکانہ حقوق ملے ہیں اور نہ ہی اس بستی میں بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ کچھ گھروں نے سولر سسٹم لگا رکھا ہے تو کچھ اب بھی جنریٹر استعمال کرتے ہیں۔ پینے کا پانی انھیں پیسے دے کر باہر سے خریدنا پڑتا ہے۔

BBCامن کمیٹی کے ممبر اعجاز غوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پہلے بھی یہ دیکھا ہے کہ سرکاری اہلکار ’کمرشل عمارتوں کا بہانہ بنا کر‘ کام شروع کرتے ہیں اور بعد میں وہ رہائشی مکانوں کو بھی گرا دیتے ہیںرمشا کالونی کے رہائشیوں کو بے گھری کا خوف کیوں ہے؟

سی ڈی اے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے رمشا کالونی کے مکینوں کو بے دخلی کا کوئی نوٹس نہیں دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے اہلکاروں نے صرف وہاں پر ’غیر قانونی طور پر کمرشل استعمال کے لیے تعمیر کیے گئے گودام‘ کو گرایا ہے۔

ترجمان کے مطابق ’سرکاری جگہ پر بنائی گئی کئی غیر قانونی بستیوں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، لیکن رمشا کالونی کے مکینوں کو جگہ خالی کرنے کا کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔‘

کالونی کے مکین بھی یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی تحریری نوٹس نہیں پہنچا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے کے اہلکار ٹرکوں میں آئے تھے اور انھوں نے اعلانات کر کے لوگوں کو کہا تھا کہ وہ رمشا کالونی والی جگہ خالی کر دیں۔

امن کمیٹی کے ممبر اعجاز غوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پہلے بھی یہ دیکھا ہے کہ سرکاری اہلکار ’کمرشل عمارتوں کا بہانہ بنا کر‘ کام شروع کرتے ہیں اور بعد میں وہ رہائشی مکانوں کو بھی گرا دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس بستی میں رہنے والے 1500 کے قریب گھروں کے سینکڑوں مکین کھلے آسمان تلے آ جائیں گے۔ ’ہم بالکل زیرو پر آ جائیں گے۔ لوگوں نے قرضے لے رکھے ہیں، ان کا کیا ہو گا۔ وہ نئے سرے سے شروع نہیں کر پائیں گے۔‘

اعجاز غوری کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے کے ’الٹی میٹم‘ کے بعد بستی کے تمام لوگ متحد ہو کر سڑک پر نکل آئے تھے۔ ان کا مطالبہ ہے انھیں اسی جگہ کے مالکانہ حقوق دیے جائیں۔ اگر انھیں ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہاں سے بے دخل کرنا ہی ہے تو انھیں متبادل جگہ فراہم کی جائے اور ان کے نقصانات کا مالی معاوضہ ادا کیا جائے۔

BBCپاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے حال ہی میں سی ڈی اے سے کہا ہے کہ وہ کچی بستیوں کو ریگولر کرنے کا لائحہ عمل تیار کریں’کچی بستیاں مسمار کرنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے‘

اسلام آباد میں سیاسی و سماجی کارکن عاصم سجاد گذشتہ چند دہائیوں سے کچی بستیوں کے افراد کے حقوق اور تحفظ کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ انھوں نے ان بستیوں کے گرائے جانے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی بھی کر رکھی ہے۔

ایسے ہی ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے حال ہی میں سی ڈی اے سے کہا ہے کہ وہ کچی بستیوں کو ریگولرائز کرنے کا لائحہ عمل تیار کریں۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال بھی کیا کہ اب تک ایسی کوئی پالیسی کیوں نہیں بنائی گئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصم سجاد کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ طور طریقے رائج ہیں کہ کچی بستیوں میں مقیم افراد کو بے گھر نہیں کیا جاتا۔ ’کہیں بھی ان بستیوں کو مسمار نہیں کیا جاتا۔ اگر انھیں بے دخل کرنا بھی ہو تو اس کا ایک طریقہ کار ہے۔‘

عاصم سجاد کے مطابق یہ صرف ایک رمشا کالونی یا صرف اسلام آباد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں بلکہ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں کچی آبادیاں موجود ہیں اور ان میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ رہائش پذیر ہیں۔

’کیونکہ کم آمدن کی رہائشی سکیموں میں اس طبقے کے لیے حصہ نہیں رکھا جاتا یا ان کے لیے ایسی سکیمیں نہیں بنائی جاتیں تو کچی آبادیاں اس خلا کو پر کرتی ہیں۔ یہ غیر رسمی کالونیاں ہیں۔‘

عاصم سجاد کے مطابق دنیا بھر میں ایسی کچی آبادیاں سرکاری زمینوں پر ہی قائم ہوتی ہیں لیکن اس کا ایک پس منظر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر رسمی آبادیاں ہوتی ہیں۔

’اب ان غیر رسمی آبادیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا جائے تو یہ ایسا ہی ہے کہ ان کے قائم ہونے کے پورے پس منظر پر پردہ ڈال دیا جائے۔‘

عاصم سجاد کے خیال میں دنیا بھر میں رائج طور طریقوں کے مطابق کچی بستیوں کو ریگولرائز کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہاں بسنے والے لوگوں کو تمام تر بنیادی ضروریات وہاں میسر ہو جاتی ہیں۔

’ان میں رہنے والے وہ لوگ ہیں جو شہر میں رہنے والوں کے لیے ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اب اگر وہ یہاں بس گئے ہیں تو بہتر ہے کہ ان کو مالکانہ حقوق دے کر ریگولرائز کر دیا جائے تا کہ وہ بھی ایک با عزت زندگی گزار پائیں۔‘

عاصم سجاد کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکومت ان کو وہاں سے مکمل طور پر بے دخل کر دے اور پھر انھیں بھول جائے۔ اگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر ان کو بے دخل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو پھر ان کی متبادل رہائش کا بندوبست کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران کیا ہوا؟’بُلٹ پروف جیکٹ گینگ‘: اسلام آباد میں کاروباری شخصیت عامر اعوان کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث گروہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟اسلام آباد میں نئے رہائشی منصوبے کی تعمیر کے دوران پہلی عالمی جنگ کے فوجیوں کی یادگار مسماراسلام آباد میں مصری سفارتخانے پر ہونے والا خودکش حملہ جس کا سراغ ٹرک کے انجن نمبر سے ملاثنا یوسف کا قتل: ’بہن کو آواز آئی کہ شاید کوئی غبارہ پھٹا ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More