Sam Mooy/The Sydney Morning Herald via Getty Imagesبین رابرٹس سمتھ کو افغانستان میں دوران تعیناتی زیر حراست افغان شہریوں کے قتل کے الزامات کا سامنا ہے
آسٹریلیا کے سب سے زیادہ اعزاز یافتہ فوجی بین رابرٹس سمتھ نے گذشتہ ہفتے ان پر عائد کیے گئے قتل کے پانچ الزامات کے بعد اپنے پہلے بیان میں تمام الزامات کی عوامی سطح پر تردید کی ہے۔
وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والے رابرٹس سمتھ، جنھیں جمعے کے روز ضمانت پر رہا کیا گیا، نے کہا کہ انھیں افغانستان میں اپنی فوجی خدمات پر فخر ہے اور وہ اس مقدمے کو اپنے خلاف ان الزامات کو غلط ثابت کرنے کا موقع قرار دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’میں جانتا ہوں کہ یہ سفر مشکل ہو گا، لیکن میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی لڑائی سے پیچھے ہٹنا نہیں سیکھا۔‘
47 سالہ رابرٹس سمتھ پر الزام ہے کہ انھوں نے 2009 سے 2012 کے درمیان افغانستان میں غیر مسلح افغان قیدیوں کی ہلاکت میں کردار ادا کیا، یا تو خود انھیں ہلاک کیا یا اپنے ماتحتوں کو ایسا کرنے کا حکم دیا۔
’سینیئر برطانوی فوجی افسران نے غیر مسلح افغان باشندوں کو قتل کرنے کے شواہد چھپائے‘آسٹریلیا میں انڈین نژاد شہری کو 40 سال قید کی سزا: ’وہ نوکری کا جھانسہ دے کر خواتین کا ریپ کرتا تھا‘جنسی غلامی اور شوہر کے تشدد سے بھاگ کر آسٹریلیا آنے والی خاتون ایک سال سے ’پراسرار طور پر غائب‘ ایڈم برٹن: کتوں سے ’اذیت ناک سیکس‘ کرنے والا ’عفریت‘ جو سامنے رہ کر بھی نظروں سے اوجھل رہا
آسٹریلیا کی سپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) رجمنٹ کے سابق کارپورل بین رابرٹس سمتھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ میں یہ ترجیح دیتا کہ یہ الزامات عائد نہ کیے جاتے، لیکن میں اس موقعے کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے استعمال کروں گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے افغانستان میں اپنی خدمات پر فخر ہے۔ وہاں قیام کے دوران میں نے ہمیشہ اپنی اقدار، اپنی تربیت اور قواعدِ کاروائی کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کیا۔‘
رابرٹس سمتھ نے اپنی گرفتاری کو ’سنسنی خیز‘ اور ’غیر ضروری تماشہ‘ قرار دیا اور صحافیوں کے سوالات لینے سے انکار کر دیا۔
بین رابرٹس سمتھ کو 7 اپریل کو سڈنی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ انھیں جمعے کے روز ضمانت پر جیل سے رہائی ملی۔
مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس ’غیر معمولی‘ نوعیت کا ہے اور اگر ضمانت نہ دی جاتی تو ملزم کو مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ’ممکنہ طور پر کئی برس‘ حراست میں گزارنا پڑ سکتے تھے۔
رابرٹس سمتھ کے خلاف فوجداری مقدمہ 2023 میں ہونے والے ایک سول ہتکِ عزت کے مقدمے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں جج نے ’امکانات کے توازن‘ کی بنیاد پر قرار دیا تھا کہ قتل کے بعض الزامات میں ’بادی النظر میں سچائی‘ پائی جاتی ہے۔
یہ مقدمہ بین رابرٹس سمتھ نے نائن اخبارات کے خلاف دائر کیا تھا، جنھوں نے 2018 میں پہلی بار مبینہ بدسلوکی کے الزامات شائع کیے تھے۔ یہ ہائی پروفائل سماعت آسٹریلیا کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھی جب آسٹریلوی فوج پر مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کا عدالتی جائزہ لیا گیا۔
سابق فوجی افسر کا مؤقف تھا کہ مبینہ ہلاکتیں یا تو دورانِ جنگ ہوئیں یا پھر سرے سے ہوئیں ہی نہیں۔ تاہم گذشتہ برس وفاقی عدالت نے بھی ان کی طرف سے دائر کردہ اپیل مسترد کر دی تھی۔
اب رابرٹس سمتھ کو جنگی جرم کے تحت قتل، مشترکہ طور پر قتل کروانے اور قتل میں مدد، سہولت، مشورہ دینے یا اس کا بندوبست کرنے کے تین الزامات کا سامنا ہے۔
’سینیئر برطانوی فوجی افسران نے غیر مسلح افغان باشندوں کو قتل کرنے کے شواہد چھپائے‘آسٹریلیا کی سب سے مالدار شخصیت جنھیں اب اپنی دولت کے بڑے حصے سے محروم ہونا پڑے گابونڈائی ساحل پر حملہ: ’دوست نے بتایا تمہاری تصویر وائرل ہے، تمہیں حملہ آور کہا جا رہا ہے‘جب برقعے پر پابندی کی حامی آسٹریلوی سینیٹر پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر پہنچ گئیںسابق آسٹریلوی خاتون اہلکاروں کا فوج پر جنسی ہراسانی کا تاریخی مقدمہ: ’جب جاگی تو بے لباس تھی اور جسم پر نیل تھے‘لاہور کی بسمہ آصف آسٹریلوی ریاست کی پارلیمنٹ تک کیسے پہنچیں